یو اے ای کے اسپتال میں پھنسی ملازمت کے نام پر دھوکہ دہی کی شکار ہندوستانی خاتون

گزشتہ سال نومبر میں تین مہینے کے ویزا پر ملازمت کے لیے یو اے ای گئی اس خاتون کو ہندوستان میں ایجنٹ نے ہوٹل میں شیف کا کام دلانے کی بات کہی تھی، لیکن وہاں پہنچ کر پتہ چلا کہ اس کے ساتھ دھوکہ ہوا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں ملازمت کے نام پر دھوکہ دہی کا شکار ہوئی ایک بے روزگار ہندوستانی خاتون کو معاشی مدد کی سخت ضرورت ہے تاکہ وہ اسپتال کے بقایہ بل 112000 درہم (تقریباً 30493 ڈالر) کی ادائیگی کر سکے۔ گلف نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق مغربی بنگال کی رہنے والی 27 سالہ ستپا پاترا کو کولائٹس، پینکریاٹائٹس اور سیپسس جیسی کئی سنگین بیماریوں کے لیے اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جہاں وہ اب ٹھیک ہیں۔ لیکن اسپتال کا بل دینے کے لیے ان کے پاس پیسے نہیں ہیں۔

یو اے ای میں کراما نامی جگہ میں رہنے کے دوران پیٹ میں درد کی شکایت پر ان کے ساتھ رہنے والوںنے انھیں ایک پرائیویٹ اسپتال میں داخل کرایا تھا۔ پہلے سے ہی ذیابیطس کا شکار ہونے کے سبب ان کی حالت مزید سنگین ہو گئی جس کی وجہ سے جلد از جلد ان کی سرجری کرنی پڑی۔

گلف نیوز نے ستپا پاترا نے بتایا کہ وہ سال 2019 کے نومبر میں ملازمت کے لیے تین مہینے کے ویزا پر یو اے ای آئی تھیں۔ ہندوستان میں ایک ایجنٹ نے انھیں وہاں ہوٹل میں شیف کا کام دلانے کی بات کہی تھی، لیکن ان کے ساتھ دھوکہ کیا گیا۔ کیونکہ جب وہ وہاں پہنچیں تب انھیں بتایا گیا کہ یہاں کوئی جاب ہے ہی نہیں۔ پھر پاترا نے یو اے ای میں ایک فیملی کی ملازمہ کے طور پر کام کیا۔ ستاپا نے کہا کہ انھیں ان کے کام کے بدلے تنخواہ تک نہیں دی گئی اور کھانا بھی دن میں صرف ایک مرتبہ دیا جاتا تھا۔

ستاپا کی دیکھ بھال اب دوبئی میں بسے کچھ ہندوستانی خاندان کے ذریعہ کی جا رہی ہے اور ان میں سے ایک نے ان کے لیے یو اے ای میں ملازمت ڈھونڈنے کی بھی کوشش کی ہے۔ پاترا نے گلف نیوز کو بتایا کہ "بدقسمتی سے یو اے ای میں کورونا وبا کے سبب وَرک پرمٹ کے لیے میری درخواست کو رد کر دیا گیا۔ فروری کے درمیان میں میرا ویزا بھی ختم ہو گیا۔ میں بس اتنا چاہتی ہوں کہ میرے اسپتال کی بل کی ادائیگی ہو جائے اور کسی طرح میں گھر واپس چلی جاؤں۔"