مشاعرہ جشن بہار: ’ہم اپنی آنکھوں کے حصے کے خواب مانگتے ہیں‘

مشاعرہ جشن بہار 

’مشاعرہ جشن بہار‘ کے 20 سال مکمل ہونے کی خوشی میں ’جشن بہار ٹرسٹ‘ کی بانی کامنا پرساد نے ’جشن نو بہار‘ کا اعلان کیا۔

’’ہندوستان دنیا کا سب سے متنوع ملک ہے۔ یہاں کئی مذاہب ہیں، 22 سرکاری زبانیں ہیں، تقریباً 200 ڈیولپ زبانیں ہیں۔ اور اس قدر تنوع کے باوجود ہم سب ایک ہیں، یہ خوشی کی بات ہے۔ جہاں تک اُردو کی بات ہے، تو جو شیرینی، عزت، محبت اور الفت اردو زبان کے حصے میں آئی ہے میں بغیر کسی مبالغہ کہہ سکتا ہوں کہ کسی اور زبان کو نہیں ملی۔‘‘ یہ اظہارِ خیال 20ویں ’مشاعرہ جشن بہار‘ کی صدارت کر رہے ایس وائی قریشی نے دہلی پبلک اسکول (ڈی پی ایس)، متھرا روڈ میں کیا۔ سابق چیف الیکشن افسر ایس وائی قریشی نے مزید کہا کہ ’’اردو زبان کی خدمات بہت وسیع ہیں۔ اردو ہر وقت اور ہر تقاضے پر پوری اتری ہے۔ آزادی کے بعد کچھ حالات ایسے ضرور بن گئے کہ اردو پر ظلم ہوئے اور کچھ لوگوں نے اسے بیرونی زبان کہا، کسی نے اسے مذہب اور طبقے سے جوڑ دیا۔ لیکن آپ غور کیجیے تو دیکھیے گا کہ دہلی میں جو تین سب سے بڑے مشاعرے ہوتے ہیں وہ غیر مسلموں کے ذریعہ کرائے جاتے ہیں۔ مثلاً ’شنکر شاد مشاعرہ‘ شنکر لال کے ذریعہ، ’جشن ریختہ‘ سنجیو شراف کے ذریعہ اور ’مشاعرہ جشن بہار‘ کامنا پرساد کے ذریعہ کرایا جاتا ہے۔ اس کے بعد یہ کہنا کہ اُردو مسلمانوں کی زبان ہے، ناانصافی ہوگی۔‘‘

مشاعرہ میں شریک شعراء کرام

مشاعرہ میں شریک شعراء کرام

اس موقع پر ’مشاعرہ جشن بہار‘ کی روح رواں کامنا پرساد نے اسٹیج پر موجود شعرا اور ان کو سننے آئے سامعین سے مخاطب ہوتے ہوئے اس مشاعرہ کو 20 سال میں کامیابی کی اونچائیوں پر پہنچانے کے لیے شکریہ ادا کیا اور اس مشاعرے کی اہمیت و افادیت پر کچھ روشنی ڈالی۔ انھوں نے کہا کہ ’’مشاعرہ جشن بہار نے ایسے لوگوں کو اُردو کے زلفوں کا اسیر بنا دیا جو جو اردو کی شیرنی سے ناواقف تھے۔‘‘ انھوں نے اس مشاعرے کی تاریخ پر سرسری نظر ڈالتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ ’’پہلے پیٹرن خشونت سنگھ نے میری حوصلہ افزائی کی اور کہا کہ کامنا دبستانِ دہلی کو ایک پائیدار مشاعرے کی ضرورت ہے، اور پھر قرۃ العین حیدر، ایم ایف حسین، علی سردار جعفری، کیفی اعظمی، کلدیپ نیر جیسے تناور درختوں کے سائے میں 1999 موسم بہار میں دہلی میں جشن بہار کا بیج بویا گیا۔ آپ سب نے مل کر آبیاری کی اور مشاعرہ جشن بہار ایک سالانہ سلسلہ بن گیا۔‘‘ فروغ اُردو کی مہم میں نئی نسل کو بھی شامل کرنے کے لیے ’جشن بہار ٹرسٹ‘ کی بانی کامنا پرساد نے اس سال سے ’جشن نو بہار‘ کے انعقاد کا اعلان بھی کیا جس پر شرکائ نے تالیوں کی گڑگڑہاٹ کے ساتھ اظہارِ خوشی کی۔

مشاعرہ میں شریک شعراء کرام کا گروپ فوٹو

مشاعرہ میں شریک شعراء کرام کا گروپ فوٹو

اس تاریخی ’مشاعرہ جشن بہار‘ میں معروف کتھک گرو پنڈت برجو مہاراج نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور لکھنؤ سے اپنے تعلق اور اردو سے اپنی شفقت کا تذکرہ کیا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ لکھنؤ کے جلسوں میں کس طرح شریک ہوتے تھے اور اُردو نظموں میں موجود ہائو بھائو کے تعلق سے کچھ اہم تجربے بیان کیے۔ مشاعرے میں بطور مہمانان دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا، جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ، میرا کمار، طاہر محمود، کیپٹن ضمیر الدین شاہ، م۔ افضل اور شکیل احمد وغیرہ نے بھی شرکت کی۔

اس مشاعرہ میں ملک و بیرون ملک کے کئی مشہور و معروف شعرائ نے شرکت کی جو کسی قوس و قزح کی طرح معلوم پڑ رہے تھے۔ بیرون ممالک سے تشریف فرما شعرائ میں ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ (واشنگٹن ڈی سی، امریکہ)، فرحت شہزاد (نیو جرسی، امریکہ)، ڈاکٹر تقی عابدی اور اشفاق حسین زیدی (ٹورنٹو، کناڈا)، پروفیسر سو یمانے (اوساکا، جاپان)، جلال عظیم آبادی (ڈھاکہ، بنگلہ دیش) اور عمر سالم العیدروس (جدہ، سعودی عرب) شامل تھے۔ ہندوستان سے پروفیسر وسیم بریلوی، منصور عثمانی، لکشمی شنکر واجپئی، پاپولر میرٹھی، شبینہ ادیب، گوہر رضا، دیپتی مشرا، اقبال اشہر، منظر بھوپالی، پروفیسر مینو بخشی، ریحانہ نواب، ڈاکٹر لیاقت جعفری وغیرہ نے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ اس مشاعرے کی نظامت منصور عثمانی نے فرمائی۔ اس موقع پر شعرائے کرام نے جو اشعار سامعین کے سامنے پیش کیے، ان میں سے کچھ منتخب اشعار پیش خدمت ہیں۔

وسیم بریلوی:

کہاں سوالوں کے تم سے جواب مانگتے ہیں

ہم اپنی آنکھوں کے حصے کے خواب مانگتے ہیں

---

عجیب لوگ ہیں ان پر تو رحم آتا ہے

جو کانٹے بو کے زمیں سے گلاب مانگتے ہیں

تقی عابدی:

شب و روز اور دم بدم دیکھتے ہیں

انھیں پھر بھی ہم کتنا کم دیکھتے ہیں

---

ساحل پہ کھڑے ہو کر تماشا نہیں کرتے

ہم ڈوبتی کشتی کا نظارہ نہیں کرتے

منصور عثمانی:

شیشے سے عداوت کا یہی حال رہا تو

پتھر پہ بھی ہو جائے گا پتھرائو کسی دن

---

میر و غالب کو کہاں موت ہے آنے والی

لوگ اشعار سناتے ہوئے مر جاتے ہیں

فرحت شہزاد:

انسیت ٹھیک ہے، محبت نہیں ہو پائے گی

ہم سے اندھوں سی عبادت نہیں ہو پائے گی

---

ایک بس تو ہی نہیں مجھ سے خفا ہو بیٹھا

میں نے جو سنگ تراشا خدا ہو بیٹھا

منظر بھوپالی:

یہاں گناہ ہوا کے چھپائے جاتے ہیں

چراغ خود نہیں بجھتے بجھائے جاتے ہیں

---

ہماری جیب سے جب بھی قلم نکلتا ہے

سیاہ شب کے یزیدوں کا دَم نکلتا ہے

لکشمی شنکر واجپئی:

اصلیت آدمی کی کب پتہ چلتی ہے چہرے سے

زباں فوراً بتاتی ہے وہ کتنا خاندانی ہے

---

کرو محسوس اس رب کو اور آکاش کو دیکھو

وہ کیسی شخصیت ہوگی یہ چادر جس نے تانی ہے

اقبال اشہر:

یہی جنون یہی ایک خواب میرا ہے

وہیں چراغ جلا دوں جہاں اندھیرا ہے

---

کسی کو کانٹوں سے چوٹ پہنچی، کسی کو پھولوں نے مار ڈالا

جو اس مصیبت سے بچ گئے تھے انھیں اصولوں نے مار ڈالا

شبینہ ادیب:

آئینوں نے کہا جھوٹ مت بولیے

جھوٹ کھل جائے گا جھوٹ مت بولیے

---

آپ اچھے دنوں کی نہ باتیں کریں

آپ ہیں رہنما جھوٹ مت بولیے

پاپولر میرٹھی:

آئینہ تم ضرور دکھاؤ انھیں مگر

پہلے تمام شہر کے پتھر سمیٹ لو

---

رسوا نہ کر دے کوئی سر انجمن تمھیں

اچھا یہ ہے غرور کی چادر سمیٹ لو

العیدروس:

کس قدر زرخیز ہے اے دوستو جشن بہار

علم و حکمت، فکر و دانش اور ادب کو اس سے پیار

قریہ دلی بنا ہے مرکز علم و ادب

مختلف افراد سے آئے ادب کے جد و اَبّ

سو یمانے:

اس کی تلاش میں پوری دنیا ہی دیکھ لی

واپس مڑے تو راستہ ہموار بھی تو ہو

---

چھوڑا ہے تم نے راستہ، رستے میں نازنین

اس راہ میں جو ہے وہ وفادار بھی تو ہو

ریحانہ نواب:

دامن کی کشیدہ کاری پر دنیا کی نگاہیں ہیں لیکن

یہ کس کو پتہ ہے پھولوں سے دھبوں کو چھپایا جاتا ہے

---

کھل جاتا قیامت میں بھرم اس کے کرم کا

دنیا میں اگر کوئی گنہگار نہ ہوتا

لیاقت جعفری:

ہائے افسوس کہ کس تیزی سے دنیا بدلی

یہ جو سچ ہے یہ کبھی جھوٹ ہوا کرتا تھا

---

میری رہائی پہ اب جشن نہ منائے کوئی

میں قید خانے سے زنجیر لے کے نکلا ہوں

جلال عظیم آبادی:

وہ میرے خواب میں آیا ہو ضروری تو نہیں

پیاس ہو سامنے دریا ہو ضروری تو نہیں

ان کے شیدائیوں کا ذکر ہے محفل میں جلال

نام لب پر میرا لایا ہو ضروری تو نہیں

دیپتی مشرا:

میں دل سے مجبور ہوں اپنے اور وہ دنیاداری سے

دل دنیا سے جوجھ رہے ہیں دونوں باری باری سے

---

دل سے باہر کر کے مجھ کو اچھا سا گھر سونپ دیا

اس نے اپنا فرض نبھایا کتنی ذمہ داری سے

اشفاق حسین زیدی:

اب اس سے رابطہ ممکن نہیں ہے

دوبارہ معجزہ ممکن نہیں ہے

غزل کا خوبصورت شعر ہے وہ

سو اس کا ترجمہ ممکن نہیں ہے

سب سے زیادہ مقبول