اتر پردیش میں سادھو کے بھیس میں گھوم رہے جرائم پیشے! پولس ویریفکیشن شروع

رام جنم بھومی سیکورٹی کے لحاظ سے ہمیشہ حساس رہا ہے۔ انتظامیہ کا ماننا ہے کہ ایودھیا میں پورے ملک سے سادھو بھگوان کی زیارت کرنے آتے ہیں اور یہیں رہ جاتے ہیں جن کی شناخت ضروری ہے۔

اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت اب ایودھیا میں سادھوؤں اور سنتوں کی جانچ یعنی ویریفکیشن کروا رہی ہے۔ پولس اب مٹھوں اور مندروں میں رہنے والے سادھو اور سنتوں کی جانچ کر رہی ہے تاکہ یہ پتہ لگایا جا سکے کہ ان میں کوئی جرائم پیشہ اپنی شکل بدل کر تو شامل نہیں ہو گیا۔ اس کام کے لیے پولس گزشتہ تین مہینوں سے رجسٹر بھی تیار کر رہی ہے جس میں سادھو-سنتوں کی پوری تفصیلات موجود ہیں۔ پولس کی اس مہم کی حمایت سادھو سماج بھی کر رہا ہے۔

پولس ویریفکیشن میں سادھو اور سنتوں کی پوری تفصیل طلب کی جا رہی ہے۔ اس میں سادھو اور سنتوں کی پیدائش کا مقام، شناخت، مجرمانہ ریکارڈ سمیت کئی اہم جانکاریاں جمع کی جا رہی ہیں۔ پولس کا کہنا ہے کہ اگر کوئی حادثہ سرزد ہوتا ہے تو اس رجسٹر کے ذریعہ کسی بھی سنت کی وقت رہتے شناخت کی جا سکتی ہے۔

ایودھیا میں رام جنم بھومی متنازعہ مقام ہونے کے سبب سیکورتی کے لحاظ سے ہمیشہ حساس رہا ہے۔ انتظامیہ کا ماننا ہے کہ ایودھیا میں ملک کی مختلف ریاستوں سے سادھو بھگوان کی زیارت کرنے آتے ہیں اور یہاں کے مٹھوں اور مندروں میں بس جاتے ہیں۔ ان سب پر اعتبار کرنا مشکل ہو جاتا ہے، لہٰذا انتظامیہ باہر سے آ کر بسنے والے ان سادھوؤں اور سنتوں پر خصوصی نظر رکھے گی۔

سنتوں کا کہنا ہے کہ سادھو کی شکل میں جرائم پیشہ ایودھیا میں رہ کر مجرمانہ سرگرمیوں کو انجام دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ جرائم پیشہ سادھو کی شکل میں رہ کر اپنی مجرمانہ سرگرمیوں کو چھپاتے بھی ہیں۔ ساتھ ہی یہاں سے ہی ان سرگرمیوں کو چلاتے بھی ہیں۔ کئی بار بہار سمیت دیگر ریاستوں کی پولس سادھو کے بھیس میں جرائم پیشوں کو گرفتار بھی کر چکی ہے۔

سب سے زیادہ مقبول