اروناچل پردیش میں کچھ جگہوں کے نام بدلنے پر طلبا تنظیم نے چین کی تنقید کی

وزارت خارجہ نے جمعرات کو کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب چین نے کچھ جگہوں کے نام بدلنے کی کوشش کی ہو۔ اروناچل پردیش ہمیشہ سے ہندوستان کا جزوِ لاینفک رہا ہے اور رہے گا۔

ہندوستان۔چین، تصویر آئی اے این ایس
ہندوستان۔چین، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

نئی دہلی: آل اروناچل پردیش اسٹوڈنٹس یونین (اے اے پی ایس یو) نے جمعہ کو ریاست میں کچھ جگہوں کا نام تبدیل کرنے پر چین کی تنقید کی اور اسے ’شرارت‘ قرار دیا۔ اے اے پی ایس یو کے جنرل سکریٹری ٹوبوم دائی نے کہا کہ طلبا یونین نے اروناچل پردیش میں کئی مقامات کے نام تبدیل کرنے کے چین کے اقدام کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے اور اسے چین کی دانستہ شرارت قرار دیا ہے۔ یہ عمل اروناچل کے محب وطنوں کے لیے قطعی طور پر قابل قبول نہیں ہے۔

یو این آئی سے فون پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندوستان کا جزوِ لاینفک ہے اور کوئی طاقت اسے ہندوستان سے الگ نہیں کر سکتی۔ ہم ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہیں اور ہم ہندوستانی ہیں۔ انہوں نے مرکز پر زور دیا کہ وہ اروناچل پردیش کو زیادہ اہمیت دے تاکہ سرحدی علاقوں سمیت ریاست میں انفراسٹرکچر کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔


وزارت خارجہ نے جمعرات کو کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب چین نے کچھ جگہوں کے نام بدلنے کی کوشش کی ہو۔ اروناچل پردیش ہمیشہ سے ہندوستان کا جزوِ لاینفک رہا ہے اور رہے گا۔ ریاست میں جگہوں کے نام تبدیل کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اروناچل پردیش کی چین کے ساتھ 1,080 کلومیٹر، میانمار کے ساتھ 440 کلومیٹر اور بھوٹان کے ساتھ 160 کلومیٹر کی سرحد ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔