مشرق وسطیٰ کی جنگ نے ہندوستانی شیئر بازار میں مچائی تباہی، مارچ ماہ میں ڈوب گئے 51 لاکھ کروڑ روپے

جنگ کا سب سے زیادہ اثر دنیا بھر کے شیئر بازاروں پر پڑا ہے۔ ہندوستانی شیئر بازار بھی بری طرح اثرانداز ہوا ہے۔ مارچ ماہ میں بی ایس ای کے مارکیٹ کیپ میں 51 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی گراوٹ درج کی گئی ہے۔

شیئر بازار
i
user

قومی آواز بیورو

مشرق وسطیٰ کی جنگ طویل ہوتی جا رہی ہے اور اس کا اثر دنیا بھر کے شیئر بازار پر بہت زیادہ پڑ رہا ہے۔ ایک ماہ قبل جب جنگ شروع ہوئی تھی، تو کسی کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ امریکہ و اسرائیل کا مقابلہ ایران اس ہمت کے ساتھ کر پائے گا۔ ایران کا عزم ہی ہے، جس نے اس جنگ کو طوالت بخشی ہے۔ اب وقت کے ساتھ جنگ مزید خوفناک صورت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ جنگ کی وجہ سے خاص طور پر خام تیل اور گیس کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ فی الحال برینٹ کروڈ تقریباً 107 ڈالر فی بیرل کے آس پاس ہے۔

جنگ کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان دنیا بھر کے شیئر بازاروں کو ہی ہوا ہے۔ ہندوستانی شیئر بازار پر بھی اس کا گہرا اثر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ گزشتہ ایک ماہ، یعنی مارچ میں جنگ کی وجہ سے بی ایس ای کے مارکیٹ کیپ میں 51 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی کمی درج کی گئی ہے، جس سے سرمایہ کاروں میں خوف پیدا ہو چکا ہے۔ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک سنسیکس 12 فیصد سے زیادہ (تقریباً 10,000 پوائنٹس) گر چکا ہے۔ جبکہ نفٹی 22,500 سے نیچے پہنچ گیا ہے، جو تشویش کا باعث ہے۔ اس گراوٹ کے سبب بی ایس ای میں درج کمپنیوں کا مجموعی مارکیٹ کیپ فروری کے تقریباً 463 لاکھ کروڑ روپے سے گھٹ کر اب 412 لاکھ کروڑ روپے رہ گیا ہے۔ یعنی صرف ایک ماہ میں تقریباً 51 لاکھ کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ یہ گراوٹ کب رکے گی، کسی کو معلوم نہیں۔


قابل ذکر ہے کہ جنگ کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس سے ہندوستان جیسے بڑے درآمد کنندہ ملک پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ تیل مہنگا ہونے سے کمپنیوں کا خرچ بھی بڑھتا ہے اور منافع کم ہوتا ہے، جس کا براہِ راست اثر شیئر بازار پر پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ سرمایہ کاروں میں گھبراہٹ کا ماحول بن گیا ہے، کیونکہ غیر ملکی سرمایہ کار ہندوستانی بازار سے اپنا سرمایہ نکال رہے ہیں، جس سے فروخت کا دباؤ اور بڑھ گیا ہے۔ ساتھ ہی روپے میں بھی نمایاں گراوٹ دیکھی جا رہی ہے۔

غور کرنے والی بات یہ ہے کہ شیئر بازار میں نظر آ رہی گراوٹ صرف بڑے شیئرز تک محدود نہیں رہی بلکہ مڈ کیپ اور اسمال کیپ شیئرز میں بھی زبردست کمی دیکھنے کو ملی ہے۔ بینکنگ، آٹو اور کنزیومر سیکٹر جیسے اہم شعبے بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ایسے عالمی بحرانوں کے دوران بازار میں گراوٹ آتی ہے، لیکن وقت کے ساتھ بحالی بھی ہوتی ہے۔ اس لیے دانشمندی اسی میں ہے کہ سرمایہ کار صبر سے کام لیں اور جلد بازی میں غلط فیصلہ نہ کریں۔


جنگ کی وجہ سے سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھنے کو مل رہی ہے، کیونکہ جنگ سے پہلے ہی ان میں بڑی تیزی آئی تھی۔ اب جنگ کے باعث مہنگائی بڑھنے کا خطرہ منڈلا رہا ہے، جس کی وجہ سے سونے اور چاندی کے دام کمزور پڑنے لگے ہیں۔ اگر جنگ مزید طوالت اختیار کرتی ہے تو پھر آنے والے دن شیئر مارکیٹ کے لیے تو مشکل بھرے ہوں گے ہی، عام لوگوں کو بھی شدید مہنگائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔