ہندوستان اور جاپان کی دوستی دن بہ دن ہو رہی گہری، 2 سالوں میں 170 سے زائد معاہدوں پر ہوا دستخط
جاپان نے ہندوستان کے کئی اہم شعبوں میں اپنی سرمایہ کاری کی ہے۔ ان میں آئرن، آٹوموبائل، قابل تجدید توانائی، سیمی کنڈکٹر اور ایئرواسپیس شامل ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہند-جاپان رشتوں کا جو نیا باب شروع ہوا ہے، اس نے دھیرے دھیرے مضبوطی حاصل کرنی شروع کر دی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری ’میک اِن انڈیا‘ سے لے کر ’میک فار دی ورلڈ‘ تک کا سفر طے کرتی ہوئی معلوم پڑ رہی ہے۔ یہ دوستانہ صرف سرمایہ کاری تک محدود نہیں ہے، بلکہ مشترکہ مستقبل کی بنیاد پڑ چکی ہے۔ 2 سالوں میں 170 سے زیادہ معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں، جن سے ہندوستان میں 13 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری ہوئی۔ یہ اعداد و شمار ہندوستان کی معاشی ترقی کی سمت میں جاپان کے اٹوٹ بھروسہ کی علامت ہے۔
جاپان کی یہ سرمایہ کاری ہندوستان کے کئی اہم شعبوں میں پھیلی ہوئی ہے، جس میں آئرن، آٹوموبائل، قابل تجدید توانائی، سیمی کنڈکٹر اور ایئرواسپیس شامل ہیں۔ نپان اسٹیل نے گجرات اور آندھرا پردیش میں اپنے آئرن پلانٹس کی توسیع کرنے کے لیے کافی سرمایہ کاری کی ہے۔ اسی طرح سوزوکی موٹر اور ٹویوٹا کرلوسکر نے گجرات، کرناٹک اور مہاراشٹر میں نئے پلانٹس نصب کرنے اور پروڈکشن صلاحیت بڑھانے کا عزم کیا ہے۔ یہ سرمایہ کاری نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا کرے گی بلکہ ہندوستان کو عالمی مینوفیکچرنگ سنٹر کی شکل میں قائم کرنے میں بھی اہم کردار نبھائے گی۔
ہند-جاپان تعلقات ہندوستان میں سامانوں کی مینوفیکچرنگ کرنے اور اسے دنیا کے لیے بازار میں اتارنے کے نظریہ کو بھی کامیاب بنا رہا ہے۔ ہندوستان میں جاپانی جوائنٹ ونچرس سے تیار مصنوعات اب عالمی بازاروں میں برآمد کیے جائیں گے۔ ٹویوٹا اور سوزوکی کے ہندوستان میں تیار ہائبرڈ اور ای وی گاڑیاں افریقہ، مشرق وسطیٰ اور جنوب مشرقی ایشیا میں برآمد کیے جائیں گے۔ ہند-جاپان شراکت داری کا اہم پہلو ہندوستانی اسمال و میڈیم اداروں (ایس ایم ای) کو مل رہا فائدہ ہے۔ ایس ایم ای عالمی سپلائی سیریز کا حصہ بن رہے ہیں۔ ٹوکیو الیکٹران، فوجی فلم اور ٹاٹا الیکٹرانکس کے تعاون سے ایک سیمی کنڈکٹر ایکو سسٹم کی تعمیر کی جا رہی ہے۔ اس میں ہندوستانی ایس ایم ای زیادہ قیمت والے عناصر کے فراہم کنندہ بنیں گے۔ یہ شراکت داری انھیں عالمی طریقۂ کار اور ٹیکنالوجی سے متعارف کرائے گی، جس سے ان کی مقابلہ آرائی بڑھے گی۔
مشرقی اور جنوبی چین کے سمندر میں بیجنگ کی بڑھتی فوجی طاقت اور موجودہ و مستقبل کی ضرورتوں کو دیکھتے ہوئے دونوں ممالک فوجی سامان و ٹیکنالوجی تیار کریں گے۔ ہندوستانی وزیر اعظم مودی اور جاپانی وزیر اعظم ایشیبا نے 4 ممالک کے کواڈ کے اہم اور مستقل علاقائی گروپ کی شکل میں تیار ہونے کا استقبال کیا ہے۔ مودی نے کہا ہے کہ دفاعی تعاون کے نئے ڈھانچہ کے تحت ہندوستان اور جاپان نے اپنے ڈیفنس فورس کے درمیان انٹر آپریشن اور تال میل کو فروغ دے کر ایک دوسرے کی دفاعی صلاحیتوں میں تعاون کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔ اس کے لیے دونوں ممالک تینوں افواج کے درمیان فوجی مشقیں بڑھائیں گے۔ دونوں فریقوں نے خفیہ جانکاری اور تجربہ شیئر کر دہشت گردی و منظم بین الاقوامی جرائم سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانے کا بھی عزم کیا۔ توانائی اور ماحولیاتی تعاون کے لیے مشترکہ کریڈٹ نظام پر بھی معاہدہ طے پایا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔