زلزلے سے قبل آسمان کو سگنل بھیجتی ہے زمین، سیٹلائٹ کے ذریعہ لگتا ہے حرکت کا پتہ!
تحقیق میں یورپی خلائی ایجنسی (ای ایس اے) کے سوارم مشن کے سیٹلائٹ ڈیٹا کا استعمال کیا گیا۔ سائنس دانوں نے زلزلے کے مرکز سے تقریباً 300 کلومیٹر کے دائرے میں ہونے والی مقناطیسی تبدیلیوں کا جائزہ لیا۔

کیا بڑے زلزلے آنے سے قبل کچھ اشارے مل سکتے ہیں؟ اس کا جواب ہے ’شاید ہاں‘۔ ایران کے علاقے میں آنے والے 6 بڑے زلزلوں کی جانچ میں سائنس دانوں کو ایک ایسا پیٹرن ملا ہے، جو اس سوال کا جواب تلاش کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔ ان زلزلوں کی شدت 6.0 سے 7.3 کے درمیان تھی۔ یہ تمام زلزلے 2014 سے 2021 کے درمیان آئے تھے۔ جانچ میں پتہ چلا کہ زلزلے سے چند ماہ قبل زمین کے اندر دباؤ بڑھنے کے آثار نظر آئے۔ اسی دوران زمین کے اوپر مقناطیسی سرگرمی بھی بڑھ گئی۔ اس تحقیق میں یورپی خلائی ایجنسی (ای ایس اے) کے سوارم مشن کے سیٹلائٹ ڈیٹا کا استعمال کیا گیا۔ سائنس دانوں نے زلزلے کے مرکز سے تقریباً 300 کلومیٹر کے دائرے میں ہونے والی مقناطیسی تبدیلیوں کا جائزہ لیا۔ اس کے بعد ان تبدیلیوں کا موازنہ اس علاقے میں ہونے والی زلزلہ خیز سرگرمی سے کیا گیا۔ حالانکہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اب سیٹلائٹ کے ذریعے زلزلے کی درست تاریخ یا مقام کی پیشگی اطلاع دی جا سکتی ہے۔
اس تحقیق میں 6 بڑے زلزلوں کا جائزہ لیا گیا۔ ان میں 18 اگست 2014 کو آنے والا 6.2 شدت کا مرمری زلزلہ، یکم دسمبر 2017 کو آنے والا 6.2 شدت کا ہوجیڈک زلزلہ، 12 نومبر 2017 کو آنے والا 7.3 شدت کا ازگلیہ زلزلہ، 2021 میں آنے والا 6.4 شدت کا فن زلزلہ اور افغانستان کے قریب آنے والا 6.0 شدت کے سیفڈسانگ زلزلے شامل تھے۔ سائنس دانوں نے ایک اور چیز کا بھی جائزہ لیا، جسے ’بی ویلیو‘ کہا جاتا ہے۔ اس سے کسی علاقے میں آنے والے چھوٹے اور بڑے زلزلوں کے تناسب کا اندازہ ملتا ہے۔ ’بی ویلیو‘ کا کم ہونا چٹانوں کے اندر دباؤ بڑھنے کی علامت ہو سکتا ہے۔ کئی معاملات میں ’بی ویلیو‘ کم ہونے کے ساتھ سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والی مقناطیسی سرگرمی بھی بڑھتی ہوئی نظر آتی ہے۔
مرمری زلزلے سے تقریباً 105 سے 20 دن قبل ’بی ویلیو‘ میں کمی دیکھی گئی۔ اسی دوران تینوں سیٹلائٹوں نے مقناطیسی تبدیلیاں ریکارڈ کیں۔ ایک ڈیٹا میں زلزلے سے تقریباً 64 دن پہلے ایک ہی دن میں 5 مقناطیسی تبدیلیاں ریکارڈ کی گئیں۔ ہوجیڈک زلزلے میں یہ تبدیلی مزید واضح تھی۔ یہاں زلزلے سے تقریباً 200 سے 100 دن پہلے ’بی ویلیو‘ تیزی سے کم ہوئی۔ اسی دوران مقناطیسی سرگرمی بھی زیادہ ریکارڈ کی گئی۔ یعنی اس معاملے میں زلزلے سے تقریباً 3 سے 6 ماہ قبل ہی کچھ تبدیلیاں نظر آنے لگی تھیں۔ جب زمین کے اندر چٹانوں پر دباؤ بڑھتا ہے تو ان میں چھوٹی دراڑیں پڑ سکتی ہیں۔ اس سے چٹانوں کے اندر بجلی اور مقناطیس سے متعلق خصوصیات تبدیل ہو سکتی ہیں۔ دراڑوں سے گیس اور دیگر مادے بھی باہر نکل سکتے ہیں۔ سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ ان تبدیلیوں کا اثر اوپر کے ماحول اور ’آئونوسفیئر‘ تک پہنچ سکتا ہے۔
’آؤنوسفیئر‘ میں ہونے والی ہر مقناطیسی سرگرمی زلزلے کی وجہ سے نہیں ہوتی۔ سورج کی سرگرمی اور جغرافیائی مقناطیسی طوفان بھی ایسی تبدیلیاں پیدا کر سکتے ہیں۔ اس لیے سائنس دانوں نے ایسے اوقات کے اعداد و شمار کو الگ رکھا، جب سورج اور زمین کے مقناطیسی میدان کی سرگرمی زیادہ تھی۔ سائنس دانوں کے مطابق یہ تحقیق صرف ایک ممکنہ تعلق ظاہر کرتی ہے۔ ابھی یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ سیٹلائٹ کے ذریعے زلزلے کی تاریخ، مقام یا شدت کی پیشگی اطلاع دی جا سکتی ہے۔ اس کے لیے مختلف ممالک اور علاقوں میں آنے والے مزید زلزلوں کے اعداد و شمار کا جائزہ لینا ہوگا۔ فی الحال اس تحقیق کی خاص بات یہ ہے کہ ان 6 بڑے زلزلوں سے پہلے زمین کے اندر بڑھتے ہوئے دباؤ اور اوپر ہونے والی مقناطیسی سرگرمی کے درمیان ایک جیسا پیٹرن کئی بار دیکھا گیا۔ اگر آئندہ کی تحقیق میں بھی یہی بات سامنے آتی ہے تو سیٹلائٹ ڈیٹا زلزلے سے پہلے ہونے والی تبدیلیوں کو سمجھنے میں مدد کر سکتا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
