ٹی سی ایس نے 6 ماہ میں 30 ہزار سے زائد ملازمین کو دکھایا کمپنی سے باہر کا راستہ، اے آئی نے پیدا کیے مشکل حالات
ٹی سی ایس کو منافع میں گراوٹ، اخراجات میں اضافہ اور گلوبل آئی ٹی ڈیمانڈ میں سستی جیسے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مصنوعی ذہانت (اے آئی) نے ملازمین کی ضرورت کم کر دی ہے۔

ملک کی سب سے بڑی آئی ٹی کمپنی ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز (ٹی سی ایس) ان دنوں بڑی تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے۔ گزشتہ تقریباً 6 ماہ میں کمپنی نے 30 ہزار سے زیادہ ملازمین کی چھنٹنی کی ہے۔ یہ تعداد اتنی بڑی ہے کہ یہ ’نفٹی 50‘ کی کئی کمپنیوں کے مجموعی اسٹاف سے بھی زیادہ ہے۔ اس قدم نے آئی ٹی سیکٹر ہی نہیں، بلکہ عام نوکری پیشہ لوگوں کی بھی فکر میں اضافہ کر دیا ہے۔
ٹی سی ایس نے ملازمین کو کمپنی سے باہر کرنے کا یہ فیصلہ اچانک نہیں لیا۔ کمپنی کو منافع میں گراوٹ، اخراجات میں اجافہ اور گلوبل آئی ٹی ڈیمانڈ میں سستی جیسے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور آٹومیشن کے بڑھتے استعمال نے کئی روایتی کرداروں کی ضرورت کم کر دی ہے۔ جولائی 2025 میں کمپنی نے اشارہ دے دیا تھا کہ وہ اپنی ورک فورس میں تقریباً 2 فیصد کی تخفیف کر سکتی ہے اور اب اسی سمت میں بڑے فیصلے سامنے آئے ہیں۔
اس چھنٹنی کا سب سے بڑا اثر مڈل اور سینئر مینجمنٹ سطح پر دیکھا گیا ہے۔ گزشتہ کوارٹر میں ہی 11 ہزار سے زیادہ ملازمین کو کمپنی سے باہر کا راستہ دکھایا گیا۔ اس قدم سے مجموعی ملازمین کی تعداد گھٹ کر تقریباً 5.8 لاکھ رہ گئی ہے۔ کمپنی نے پہلے ہی 12 ہزار سے زیادہ ایسے ملازمین کی شناخت کر لی تھی جنھیں مستقبل کے لحاظ سے ضروری نہیں مانا گیا۔
ٹی سی ایس کا خالص منافع حال میں تقریباً 14 فیصد تک گرا ہے، جو ایک بڑا اشارہ مانا جا رہا ہے۔ کمپنی اب خرچ گھٹانے اور کام کو زیادہ ہنرمند بنانے پر زور دے رہی ہے۔ حالانکہ ٹی سی ایس کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں سے صارفین کو ملنے والی خدمات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ سچ تو یہ ہے کہ ٹی سی ایس سمیت پوری آئی ٹی انڈسٹری اب اے آئی کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ اس سے ایک طرف ملازمتیں جا رہی ہیں، دوسری طرف ملازمین کو نئی تکنیک کے لیے دوبارہ تربیت دی جا رہی ہے۔ آنے والے وقت میں آئی ٹی کمپنیوں میں کام کرنے کے طریقے اور کردار تیزی سے بدل سکتے ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔