ہندوستان میں موجود پاکستانی ہندو مہاجرین کو سپریم کورٹ نے سنائی خوشخبری، بے دخلی پر لگی روک

دہلی واقع ’مجنوں کا ٹیلہ‘ میں کئی سالوں سے پاکستان سے آئے ہندو مہاجرین مقیم ہیں۔ یہ لوگ وہاں ٹین اور ٹینٹ لگا کر رہتے ہیں۔ انھیں امید ہے کہ ایک نہ ایک دن سبھی کو ہندوستان کی شہریت مل جائے گی۔

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ، تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

دہلی واقع ’مجنوں کا ٹیلہ‘ میں رہنے والے پاکستانی ہندو مہاجرین کو سپریم کورٹ نے آج ایک بڑی خوشخبری سنائی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے مہاجرین کو یہاں سے ہٹانے پر روک لگا دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے مرکزی حکومت اور ڈی ڈی اے کو نوٹس جاری کر ان سے جواب طلب کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے 30 مئی کو دہلی ہائی کورٹ کے ذریعہ سنائے گئے بے دخلی سے متعلق حکم پر روک لگاتے ہوئے آج اپنا یہ فیصلہ سنایا۔

دراصل دہلی ہائی کورٹ نے مہاجرین کو ہٹانے کے خلاف ان کی عرضی کو خارج کر دیا تھا۔ بعد ازاں پاکستانی ہندو مہاجرین نے دہلی ہائی کورٹ کے حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج پیش کیا تھا۔ اس معاملے میں ایڈووکیٹ وشنو شنکر جین نے یکطرفہ عبوری روک کا مطالبہ کیا تھا۔ سپریم کورٹ کا تازہ فیصلہ مجنوں کا ٹیلہ میں رہنے والے ہندو مہاجرین کے لیے بہت بڑی راحت ہے۔ حالانکہ عدالت نے ہندو مہاجرین کے رہنے کے لیے کوئی مناسب حل سے متعلق فی الحال کوئی راستہ ہموار نہیں کیا ہے۔


قابل ذکر ہے کہ دہلی واقع ’مجنوں کا ٹیلہ‘ میں کئی سالوں سے پاکستان سے آئے ہندو مہاجرین مقیم ہیں۔ یہ لوگ وہاں ٹین اور ٹینٹ لگا کر رہتے ہیں۔ انھیں امید ہے کہ ایک نہ ایک دن سبھی کو ہندوستان کی شہریت مل جائے گی۔ لیکن دوسری طرف انھیں خوف بھی لگا رہتا ہے کہ کہیں ان کا آشیانہ چھین نہ لیا جائے۔ سپریم کورٹ کے تازہ فیصلہ سے تقریباً 300 پاکستانی ہندو مہاجرین نے سکون کی سانس لی ہے۔

رواں سال مئی میں دہلی ہائی کورٹ نے مہاجرین کیمپ کی حفاظت کا مطالبہ کرنے والی عرضی کو خارج کر دیا تھا۔ اس موقع پر عدالت نے کہا تھا کہ سیلابی کے میدانوں میں ماحولیاتی پابندیوں پر عمل کیا جانا چاہیے۔ اس کے بعد جولائی میں ڈی ڈی اے نے پھر سے نوٹس جاری کیا تھا، جس میں بتایا گیا تھا کہ کیمپوں پر کبھی بھی بلڈوزر چل سکتا ہے اور ہندو مہاجرین کو یہاں سے نکالا جا سکتا ہے۔ ہائی کورٹ کے اسی حکم کو چیلنج پیش کرتے ہوئے پاکستانی ہندو مہاجرین نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی تھی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔