’کیا اب ہر شخص کو اپنے ایمان کا ثبوت پیش کرنا ہوگا؟ ‘

پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ آسیہ بی بی کا کیس سنانے والے بینچ کے تمام ارکان پیغمبر اسلام سے محبت کرنے والے ہیں لیکن وہ صرف مسلمانوں کے جج نہیں ہیں۔

 ’کیا اب ہر شخص کو اپنے ایمان کا ثبوت پیش کرنا ہوگا؟ ‘
 ’کیا اب ہر شخص کو اپنے ایمان کا ثبوت پیش کرنا ہوگا؟ ‘
user

ڈی. ڈبلیو

پاکستان کے چیف جسٹس نے جمعرات کو ایک دوسرے کیس کی سماعت کے دوران آسیہ بی بی کیس کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا،’’ اگر کسی کے خلاف ثبوت ہی نہیں ہے تو ہم کسی کو سزا کیسے دے سکتے ہیں؟‘‘

آسیہ بی بی کو توہین مذہب کے الزام میں پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔ اس سزا کے خلاف آسیہ بی بی نے درخواست دائر کر رکھی تھی۔ اس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ نے گزشتہ روز آسیہ بی بی کی سزا منسوخ کر دی تھی۔ فیصلہ سنائے جانے کے بعد پاکستان میں ’تحریک لبیک پاکستان‘ تنظیم اور دیگر مذہبی عناصر نے بھر پور احتجاج کیا اور پاکستان کی فوج اور ججوں کے خلاف نعرے لگائے۔ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ شب قوم سے خطاب کے دوران ایسے عناصر کی مذمت کی اور کہا کہ ریاست حکومتی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کو برداشت نہیں کرے گی۔

اس کیس کے حوالے سے اپنا تبصرہ کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا،’’ ہم نے اپنے فیصلے کا آغاز پہلے کلمے سے کیا۔ ہم پیغمبر اسلام سے محبت کرتے ہیں اور ان کے لیے جان کی قربانی بھی دے سکتے ہیں۔‘‘ چیف جسٹس نے کہا کہ بینچ میں شامل جج اکثر درود شریف کا ورد کر رہے ہوتے ہیں۔

اس دوران چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا اب ہر شخص کو اپنے ایمان کا ثبوت پیش کرنا ہوگا؟

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔