مفت سمر کیمپ میں بچے سیکھ رہے ہیں پروگرامنگ اور کوڈنگ

’کوڈ انٹائسر‘ بچوں کو پروگرامنگ اور کوڈنگ سکھا کر ان کے اندر تعمیری ذہن پیدا کر رہی ہے تاکہ وہ کمپیوٹر اور موبائل پر وقت ضائع کرنے کی جگہ کوئی مثبت کام کریں۔

تصویر بذریعہ فاطمہ اکیڈمی
تصویر بذریعہ فاطمہ اکیڈمی
user

تنویر احمد

ٹیکنالوجی کے اس دور میں ہر گھر میں کمپیوٹر اور ہر ہاتھ میں موبائل موجود ہے، لیکن غور کرنے والی بات یہ ہے کہ اس کمپیوٹر اور موبائل پر وقت کا زیاں زیادہ ہوتا ہے اور کارآمد چیزیں کم ہی ہوتی ہیں۔ خصوصاً بچوں کو موبائل اور کمپیوٹر پر چیٹنگ اور گیم کھیلتے ہوئے ہی زیادہ دیکھا جاتا ہے جب کہ اس سے کئی تعمیری کام کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے مد نظر ’کوڈ انٹائسر‘ نے ایک بے مثال پیش قدمی کرتے ہوئے پرانی دہلی کے معروف ادارہ ’فاطمہ اکیڈمی‘ (کٹرہ دینا بیگ، لال کنواں) کے ذریعہ منعقد ’سمر کیمپ 2018‘ میں بچوں کو مفت پروگرامنگ اور کوڈنگ سکھانے کا فیصلہ لیا جو انتہائی کامیاب ثابت ہو رہا ہے۔

گزشتہ کئی برسوں سے فاطمہ اکیڈمی مفت سمر کیمپ کا انعقاد کرتی رہی ہے جس میں مختلف تربیتی پروگرام کرائے گئے، لیکن اس مرتبہ سمر کیمپ میں ’کوڈ انٹائسر‘بچوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عقیل احمد خود بچوں کو کمپیوٹر پروگرامنگ اور کوڈنگ وغیرہ کی جانکاری اس سہل انداز میں دے رہے ہیں کہ بچے بہ آسانی اسے سمجھ اور سیکھ پا رہے ہیں۔ اس سال فاطمہ اکیڈمی کا سمر کیمپ 7 مئی سے شروع ہوا جو کہ 30 مئی تک چلے گا اور ’کوڈ انٹائسر‘ کے اشتراک سے منعقد ہوا یہ سمر کیمپ اپنے دلچسپ موضوع کے لیے بچوں میں کافی پسند کیا جا رہا ہے۔ کٹرہ دینا بیگ کے ’فیض ہال‘ کی پہلی منزل پر کمپیوٹر کلاس لے رہے ڈاکٹر عقیل احمد ’قومی آواز‘ سے بات کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ’’تقریباً 80 طلباء و طالبات پروگرامنگ اور کوڈنگ سیکھ رہے ہیں اور اس میں چھٹے سے بارہویں درجہ تک کے بچے ہیں۔ سبھی پروگرامنگ اور کوڈنگ دلچسپی کے ساتھ سیکھ رہے ہیں اور ویب سائٹ پیج کے ساتھ ساتھ موبائل سافٹ ویئر بنانے کو لے کر ان میں کافی جوش دیکھنے کو مل رہا ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’کوڈنگ سیکھنے سے بچوں کے اندر تعمیری ذہن پیدا ہوتا ہے اور ان کے اندر ریاضیات کی سمجھ بھی پیدا ہوتی ہے۔ پرانی دہلی کے بچے جس طرح سے کلاسز اٹینڈ کر رہے ہیں اور انہماک کے ساتھ چیزوں کو سیکھ رہے ہیں، اس کا مثبت اثر ان کی آئندہ زندگی پر ضرور پڑے گا اور وہ کمپیوٹر و موبائل پر وقت ضائع کرنے کی جگہ تعمیری کام کرنا پسند کریں گے۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ فاطمہ اکیڈمی کا سمپر کیمپ پرانی دہلی کے بچوں میں کافی مقبول ہو رہا ہے اور اس مرتبہ بچے بہت خوش ہیں کہ انھیں کمپیوٹر پروگرامنگ کے فن سے واقف کرایا جا رہا ہے تاکہ وہ ان مشینوں کی قوتوں کا ادراک بھی کر سکیں اور اپنے اندر ایسی صلاحیتیں پیدا کر سکیں جو مستقبل میں کارآمد ثابت ہوں۔ اقرا یونس، ہاشم، عبران اور زین العابدین جیسے بچے، جو پروگرامنگ اور کوڈنگ کا نام سن کر پہلے یہ تصور کرتے تھے کہ یہ کوئی بہت مشکل کام ہے، وہ اب ویب سائٹ پیج اور موبائل سافٹ ویئر خود بنانے کو لے کر پراعتماد ہیں۔ بچے یہ دیکھ کر بھی خوش ہیں کہ ’کوڈ انٹائسر‘ کے نگراں بذاتِ خود 3 بجے سے 4.30 اور 5 سے 6.30 بجے تک کلاس لیتے ہیں اور بہت آسان انداز میں انتہائی اہم معلومات فراہم کرتے ہیں۔ چونکہ لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے الگ الگ انتظامات کیے گئے ہیں اس لیے لڑکیوں کی بڑی تعداد اس سمر کیمپ میں دیکھنے کو مل رہی ہے۔

اس مرتبہ ’مفت سمر کیمپ 2018‘ کے انعقاد میں کوڈ انٹائسر اور فاطمہ اکیڈمی کے علاوہ گرین ایجوکیشن ٹرسٹ اور اسٹیپ (STEP) کا تعاون بھی شریک ہے۔ اس کے علاوہ سمر کیمپ میں بطور استاذ محمد مکرم اور محمد جاوید بھی اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھا رہے ہیں۔ طلبا و طالبات کو کمپیوٹر کی بنیادی تعلیم دینے میں محمد جاوید پیش پیش نظر آ رہے ہیں۔ فاطمہ اکیڈمی کے محمد اعجاز نور اور اسٹیپ کے قاسم مرزا بھی سمر کیمپ کا روزانہ معائنہ کر رہے ہیں تاکہ بچے و بچیوں کو کسی بھی طرح کی پریشانی نہ ہو اور علمی کام بخیر و خوبی آگے بڑھتا رہے۔ راشد وحید نے انتظامی امور انتہائی خوش اسلوبی کے ساتھ سنبھال رکھے ہیں۔ گویا کہ سمر کیمپ 2018 میں تعاون و اشتراک کرنے والے ہر ادارہ کا فرد اس کو زیادہ سے زیادہ کارآمد بنانے کے کام میں مصروف نظر آ رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 25 May 2018, 4:14 PM