بیٹا چین سے نکل کر گھر آجاؤ:باپ بیٹے کی راہ تکتے چل بسا

چین میں کورونا وائرس کے سبب پھنسے پاکستانی طالبعلم ہر وقت اس فکر میں گھل رہے ہیں کہ غیر یقینی کی یہ صورتحال کب تک قائم رہے گی اور آیا اس کا خاتمہ کبھی ہوگا؟

سوشل میڈیا
سوشل میڈیا
user

ڈی. ڈبلیو

کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر چین کا شہر ووہان مکمل طور پر بند پڑا ہے۔ اس شہر کے ایک ہوسٹل میں پی ایچ ڈی کا ایک پاکستانی طالب علم حسن رہتا ہے۔ اس نے گزشتہ جمعرات کو آخری بار پاکستان میں اپنے 80 سالہ والد سے بات کی تھی۔ اس کے والد بہت بے چین تھے اور انہوں نے اُس سے درخواست کی تھی کہ وہ کسی طرح گھر واپس لوٹ آئے۔ چوبیس گھنٹے ہی گزرے تھے کہ حسن کے والد دل کے عارضے کے سبب چل بسے۔

حسن اُن ایک ہزار سے زائد پاکستانی طلبا میں شامل ہے، جو کورونا وائرس کے مرکز چین کے صوبے ہوبی میں پھنسے ہوئے ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ ان پاکستانی طلبا کو حکومت نے کہہ دیا ہے کہ ان کی وطن واپسی خارج از امکان ہے۔’’ اس وقت انہیں میری ضرورت ہے، میری ماں کو میری ضرورت ہے ‘‘۔ کمپیوٹر کے شعبے میں پی ایچ ڈی کا طالبعلم حسن تڑپ رہا ہے۔ اپنے اہل خانہ کے تحفظ کے لیے وہ اپنی شناخت مخفی رکھنا چاہتا ہے اور اپنا صرف ایک نام بتا رہا ہے۔

چینی صوبے ہوبی میں دیگر پاکستانی طلبا نے حسن کے تحفظات کے بارے میں بتایا اور کچھ تو اُس کی حکومت کے رد عمل پر تنقید کر رہے ہیں۔ دیگر پڑوسی ممالک بنگلہ دیش اور بھارت نے صوبہ ہوبی سے اپنے تمام شہریوں کو نکال لیا ہے، جہاں ووہان واقع ہے اور یہاں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔

پاکستانی طلباء اور ان کے کنبے ، بشمول جوان بچے، دن میں بیشتر حصے میں گھر کے اندر پھنسے رہتے ہیں۔ چار پاکستانی طلبا نے کہا کہ ان کی افسردگی اور اضطراب بڑھتا ہی جارہا ہے، ان کے اندر وائرس کا خوف اورخدشات تشویشناک حد تک پائے جاتے ہیں۔ وہ ہر وقت اس فکر میں گھل رہے ہیں کہ غیر یقینی کی یہ صورتحال کب تک قائم رہے گی اور آیا اس کا خاتمہ کبھی ہوگا؟

گزشتہ اتوار کو ایک ٹوئٹر پیغام میں وزیر مملکت برائے صحت ظفر مرزا نے تحریر کیا،''چین میں میرے بہت ہی پیارے طلبا.. ہم شدت سے اعلیٰ سطح پر صورتحال کے بارے میں بات چیت کر رہے ہیں۔ غور کر رہے ہیں اور تباہ کن کورونا وائرس کے تمام مضمرات کا جائزہ لے رہے ہیں اور اس ممکنہ عالمی وبائی مرض کے تمام پہلوؤں پر غور و خوص کے بعد موثر ترین فیصلہ کریں گے۔‘‘

حسن نے اپنی یونیورسٹی سے رابطہ کیا، جس نے اس کی مدد کرتے ہوئے بیجنگ میں پاکستانی سفارت خانہ کی مدد سے حسن کو نکالنے کی کوشش کی تاہم چینی حکام نے ہوبی میں اُسے بتایا کہ اگر پاکستانی سفارتخانہ اُن سے رابطہ کرے تو اُسے باہر نکالا جاسکتا ہے لیکن ایسا نہ ہو سکا۔

اس پر خبر رساں ادارے روئٹرز نے پاکستانی وزارت خارجہ کی ایک ترجمان سے رابطہ کیا اور اُن سے اس بارے میں تبصرہ یا بیان دینے کو کہا تاہم ترجمان نے اس کا جواب نہیں دیا۔

چین کی وزارت خارجہ نے منگل کے روز کہا،''وہ ممالک جو اپنے شہریوں کو گھر لے جانا چاہتے ہیں،ان کے لیے چین متعلقہ انتظامات فراہم کرے گا اور اس سلسلے میں تمام ضروری مدد کے لیے تیار ہے۔ یہ امداد بین الاقوامی ضابطوں اور چین کے وبائی کنٹرول کے داخلی اقدامات کے تحت فراہم کی جائے گی۔‘‘

حسن کے مطابق اُسے پیر کو ایک پاکستانی اہلکار نے بتایا تھا کہ تمام پاکستانی طلباء کو چین سے نکال لیا جائے گا۔ لیکن صحت اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے امور کے وزیر نے ووہان میں طلباء کے ساتھ ایک ویڈیو کانفرنس کال کی جس میں فوری انخلاء کو مسترد کردیا گیا۔