کائنات کی ابتدائی کہکشائیں ہمارے ’بالکل پاس‘

ایک تازہ تحقیقی مطالعے میں بتایا گیا ہے کہ کائنات کی کچھ قدیم ترین کہکشائیں ہماری کہکشاں کے بالکل قریب موجود ہیں۔ ان میں ایسی کہکشائیں بھی شامل ہیں، جو 13ارب سال سے زائد پرانی ہیں۔

تصویر ڈی ڈبلیو ڈی
تصویر ڈی ڈبلیو ڈی
user

ڈی. ڈبلیو

ڈرہم اور ہارورڈ یونیورسٹیز کے محققین کے مطابق ملکی وے (وہ کہکشاں جس کا ہم حصہ ہیں) کے بالکل قریب ایسے فلکی اجرام موجود ہیں، جو کائنات کے آغاز کے فوراً بعد وجود میں آئے ہیں۔

مطالعاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بگ بینگ سے فقط چند سو ملین سال بعد وجود میں آنے والی کہکشاؤں میں کچھ ستارے ایسے بھی ہیں، جو ابتدائے کائنات سے جگمگا رہے ہیں۔ یہ مطالعاتی رپورٹ سائنسی جریدے ایسٹروفزیکل میں شائع ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ ہماری کہکشاں ملکے وے کائنات میں موجود اربوں کہکشاؤں میں سے ایک ہے، جسے کے نہایت قریب ایسی کہکشائیں ہیں، جو اربوں ستاروں اور سیاروں سے مزین ہیں اور یہ کہکشائیں آپس میں تصادم اور پھر انضمام جیسے مراحل سے گزریں۔

اس تحقیقی رپورٹ سے یہ بات سمجھنے کے راستے کھل رہے ہیں کہ کائنات تیرہ ارب برس قبل کیسی تھی۔

برطانیہ کی ڈرہام یونیورسٹی کے پروفیسر کارلوس فرینک کے مطابق، ’’یہ تلاش کر لینا کہ کائنات کی ابتدائی کہکشاؤں کو تلاش کرنا، جو ملکی وے کے نہایت قریب موجود ہیں بالکل ایسا ہے، جیسے زمین پر بسنے والے ابتدائی انسانوں کی باقیات دریافت کر لی جائیں۔ یہ ایک نہایت دلچسپ دریافت ہے۔‘‘

اس مطالعاتی رپورٹ کے مصنف ڈاکٹر سوناک بوز جو ہاورڈ سمتھسونین مرکز برائے فلکیاتی طبعیات سے وابستہ ہیں، نے ایک برطانوی نشریاتی ادارے سے بات چیت میں کہا، ’’یہ چھوٹی چھوٹی سیٹیلائیٹس، جن کی شاید پچاس فیصد یا حتیٰ کے نوے فیصد کمیت اس وقت وجود میں آئی، جب کائنات ایک ارب سال سے بھی کم عمر تھی۔‘‘

اس تحقیق میں خلانوردوں نے ’لیومنیسٹی فنکشن‘ یا ’روشنی کا فعل‘ ان چھوٹی سیٹیلائیٹ کہکشاؤں پر منطبق کیا۔ یہ وہ چھوٹی کہکشائیں ہیں، جو ملکی وے اور ہماری قریبی کہکشاں اندرومیدا کے گرد مدار میں ہیں۔

ان کہکشاؤں سے برآمد ہونے والی روشنی، ان اجرام سے پھوٹنے والی روشنی کی مجموعی تعداد کو ظاہر کرتی ہے۔ ان افعال کے ذریعے یہ جانا جاتا ہے کہ یہ روشنی کتنے عرصے سے پیدا ہو رہی ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق یہ کہکشائیں ’کاسمک ڈارک ایجز‘ میں پیدا ہوئیں اور یہ غالباً بگ بینگ سے تین لاکھ اسی ہزار بعد ٹھنڈے ہونے کے عمل کے آغاز کا دور تھا، جو آگے ایک سو ملین برسوں تک چلتا رہا۔

Published: 18 Aug 2018, 9:48 AM
next