کربلا میں بھگڈر، ہلاکتوں کی تعداد بڑھتی ہوئی

عاشورہ کے دن عراقی شہر کربلا میں بھگڈر مچ جانے کے نتیجے میں کم از کم 31 شیعہ زائرین کی جان چلی گئی۔ حکام میں ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

سوشل میڈیا
سوشل میڈیا

ڈی. ڈبلیو

پیغمبر اسلام کے نواسے امام حسین کی واقعہ کربلا میں شہادت دس محرم کے روز سن 680ء میں ہوئی تھی۔ کل ان کے اور ان کے ساتھیوں کے یوم شہادت پر لاکھوں شیعہ مسلمان عراقی شہر کربلا میں جمع تھے۔ اس موقع پر وہاں مچ جانے والی بھگڈر کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد آخری خبریں آنے تک 31 ہو چکی تھی۔ قبل ازیں یہ تعداد 12 بتائی گئی تھی جس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

کربلا میں دس محرم کے جلوس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی اور عراق کے علاوہ دنیا کے دوسرے ملکوں سے بھی اہلِ تشیع اس جلوس میں شرکت کے لیے آئے تھے۔ عراقی حکومت نے اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے تھے۔

عراق کے جنوبی شہر کربلا میں یومِ عاشور کے جلوس کے دوران میں گذرگاہ کا ایک حصہ جس کی وجہ سے بھگدڑ مچ گئی۔عراق کے سرکاری ٹیلی ویژن نے وزارت صحت کے حوالے سے بتایا ہے کہ ماتمی جلوس کے دوران میں گذرگاہ گرجانے سے بھگدڑ مچ گئی تھی۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق کربلا میں یہ واقعہ ماتمی جلوس کے آخری سرے میں پیش آیا ہے جس سے لوگوں میں افراتفری پھیل گئی اور بھگدڑ مچ گئی۔

عراقی وزارت صحت کے ترجمان سیف البدر نے صحافیوں کو بتایا کہ زائرین کی اموات کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ کم از کم 100 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، جن میں سے کم از کم 10 کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔