خبریں

امریکی وزیر دفاع کے بعد خصوصی سفیر بھی احتجاجاً مستعفی

شام سے امریکی افواج کی واپسی کے اعلان پرایک اور اعلیٰ امریکی اہلکار نے احتجاجاﹰ استعفیٰ دے دیا ہے۔ قبل ازیں اس پالیسی پر اختلاف کرتے ہوئے وزیر دفاع جیمز میٹس بھی مستعفی ہو چکے ہیں۔

امریکی وزیر دفاع کے بعد خصوصی سفیر بھی احتجاجاً مستعفی

ڈی. ڈبلیو

جہادی گروپ ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خلاف قائم عالمی اتحاد کے امریکی سفیر بریٹ مک گرُوک نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے شام سے فوج بلانے کے فیصلے پر احتجاجاً استعفیٰ دے دیا ہے۔ امریکی سفیر کے مطابق امریکی صدر کا اعلان انتہائی پریشان کن ہے۔ اس سے قبل وزیر دفاع جیمز میٹس بھی ٹرمپ انتظامیہ سے اسی بنیاد پر علیحدگی اختیار کر چکے ہیں۔

مک گرُوک نے اپنا استعفیٰ پیش کرتے ہوئے کہا کہ شام سے امریکی فوج کی واپسی کا فیصلہ انتہائی حیران کُن ہے اور اِس نے اتحادیوں کو پریشان کرنے کے علاوہ وہاں جنگی حالات کا سامنا کرنے والے عسکری گروپوں کو بھی ادھورے راستے پر چھوڑ دیا ہے۔ چند روز قبل بریٹ مک گرُوک نے کہا تھا کہ شام سے امریکی فوج کی واپسی کا کوئی بھی فیصلہ انتہائی لاپرواہی ہو گا۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کو لکھے گئے خط میں مستعفی ہونے والے سفیر نے بیان کیا کہ شام میں شدت پسندوں نے راہِ فرار اختیار کر رکھی ہے اور انہیں ابھی تک شکست سے دوچار نہیں کیا گیا۔ اس خط میں مک گروک نے مزید تحریر کیا کہ شام سے امریکی فوج کا انخلاء قبل از وقت ہے اور اس باعث داعش اپنی بکھری قوت کو دوبارہ اکھٹی کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔

امریکی صدر نے خصوصی سفیر کے مستعفی ہونے کو کوئی وقعت نہیں دی اور کہا کہ وہ پہلے ہی اس منصب کو چھوڑنے کا فیصلہ کر چکے تھے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک ٹوئیٹ میں بریٹ مک گروک کو مجموعی صورت حال کے ایک تماشائی سے بھی تعبیر کیا۔ سفیر کے استعفے کی خبر عام ہونے کے بعد صدر ٹرمپ نے شام سے اپنی فوج کی واپسی کا ایک مرتبہ پھر دفاع کرتے ہوئے اسے ایک درست فیصلہ قرار دیا۔

مک گروک نے اپنے مستعفی ہونے کا خط جمعہ اکیس دسمبر کو تحریر کیا تھا۔ وہ اپنے منصب کو اگلے برس وسط فروری میں چھوڑنے کا فیصلہ پہلے ہی کر چکے تھے۔ اُن کو سابق امریکی صدر باراک اوباما نے سن 2015 میں یہ ذمہ داری سونپی تھی۔