شملہ میں پانی کا سنگین بحران، مقامی باشندوں نے سیاحوں کو آنے سے منع کیا

ہماچل پردیش کے شملہ میں پانی کی قلت کے سبب برپا ہے۔ لوگوں کو پانی کے لیے ٹینکوں کے پیچھے لمبی لائنوں میں کھڑا ہونا پڑ رہا ہے۔ لوگوں نے سوشل میڈیا پر سیاحوں سے اس وقت شملہ نہ آنے کی اپیل تک کر دی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

گرمیوں کی چھٹیوں میں اکثر لوگ پہاڑوں کی طرف رخ کرتے ہیں۔ چھٹیاں گزارنے اور گھومنے کے لحاظ سے شملہ ہمیشہ سے پسندیدہ مقام رہا ہے۔ ہر سال سینکڑوں لوگ شملہ گھومنے جاتے ہیں، لیکن اس سال شملہ میں پانی کا سنگین بحران دیکھنے کو مل رہا ہے۔ شملہ کے علاوہ سولن، منڈی، کانگڑا، ہمیر پور اور بلاس پور میں پانی کی قلت سے ہوٹل انڈسٹری کافی متاثر ہو رہا ہے۔ پانی نہیں ہونے کے سبب شملہ شہر کے 30 ریسٹورینٹ بند کر دیے گئے ہیں۔

مقامی لوگوں نے سوشل میڈیا پر ایک مہم بھی چھیڑ رکھی ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پر سیلانیوں سے اپیل کی ہے کہ ان گرمیوں میں وہ شملہ نہ آئیں۔ انھوں نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’’شملہ کو اس سنگین حالات سے باہر آنے میں کچھ وقت لگے گا۔ اگر آپ شملہ سے محبت کرتے ہیں تو برائے کرم یہاں نہ آئیں۔‘‘

ہماچل میں پانی سے متعلق حالات اس قدر خراب ہیں کہ لوگ کام چھوڑ کر سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔ پانی کی طلب کو لے کر مقامی لوگوں نے آج وزیر اعلیٰ رہائش گاہ کے باہر احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔ اس کے علاوہ مظاہرین نے کچی گھاٹی میں کالکا-شملہ قومی شاہراہ 5 پر چکا جام کر دیا جس سے گھنٹوں جام کی صورتحال دیکھنے کو ملی۔

لوگوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ 12-10 دنوں سے گھروں میں پانی نہیں آ رہا ہے۔ انھوں نے پانی تقسیم کرنے میں خامی کا بھی الزام عائد کیا اور کہا کہ جو پانی ٹینکروں کے ذریعہ آ رہے ہیں اس کے لیے گھنٹوں ٹوکن لے کر لائن میں کھڑا رہنا پڑتا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ شملہ میونسپل کارپوریشن نے کئی وارڈوں میں پانی کی سپلائی کے لیے ٹائم ٹیبل طے کیا ہے لیکن طے وقت کے مطابق کبھی پانی کی سپلائی نہیں ہو رہی ہے۔

پینے کے پانی کی اس قلت کے درمیان ہائی کورٹ نے سخت رخ اختیار کیا ہے۔ ہائی کورٹ نے شملہ شہر میں آنے والے وی آئی پی، ججوں (جس میں کارگزار چیف جسٹس بھی شامل ہیں)، وزراء، ممبران اسمبلی، نوکرشاہوں اور تجارتی اداروں کو ٹینکروں سے پانی دینے پر روک لگانے کا حکم جاری کیا ہے۔

next