روسی وزير اعظم نے اپنے عہدے سے استعفی دے ديا

روس ميں صدر کی مجوزہ آئينی تراميم کی راہ ہموار کرنے کے ليے وزير اعظم ديميتری ميدويديف نے اپنے عہدے سے استعفی دے ديا ہے۔ البتہ صدر پوٹن نے نئی کابينہ کی تشکیل تک ميدويديف کو کام جاری رکھنے کا کہا ہے۔

سوشل میڈیا
سوشل میڈیا
user

ڈی. ڈبلیو

روسی وزير اعظم ديميتری ميدويديف نے صدر ولاديمير پوٹن کو اپنا استعفی پيش کر ديا ہے۔ روسی نيوز ايجنسيوں نے اس پيش رفت کی تصديق کر دی ہے۔ ميدويديف نے پوٹن سے ملاقات کے بعد بدھ پندرہ جنوری کو استعفی ديا۔ اطلاع ہے کہ پوٹن نے ميدويديف کو ہدايت دی ہے کہ نئی کابينہ کی تشکیل تک وہ ملکی وزارت عظمی کی ذمہ دارياں نبھاتے رہيں۔

روسی وزير اعظم نے يہ قدم صدر کی اس تقرير کے بعد اٹھايا، جس ميں پوٹن نے کہا تھا کہ وہ وزير اعظم کی تقرری کے اختيارات پارليمان کو دينے کے ليے آئين ميں ترميم کرنا چاہتے ہيں۔ واضح رہے کہ موجودہ روسی قوانين کے تحت وزير اعظم کی تقرری کا اختيار صرف صدر کے پاس ہے۔ ولاديمير پوٹن نے ٹيلی وژن پر براہ راست نشر کردہ ايک تقرير ميں اس خواہش کا اظہار کيا کہ وہ يہ اختيار پارليمان کو دينے کے ليے آئينی ترميم کے خواہش مند ہيں۔

ديميتری ميدويديف نے استعفے پيش کرتے وقت اپنے بيان ميں کہا کہ وہ اور ان کی کابينہ کے ارکان صدر کو يہ موقع ديں کہ وہ اس حوالے سے تمام تر اقدامات کر سکيں۔ دريں اثناء پوٹن نے اپنی تقرير ميں يہ بھی کہا کہ وہ چاہيں گے کہ ديميتری ميدويديف روس کی قومی سکيورٹی کونسل کے نائب سربراہ کی ذمہ داری سنبھاليں۔ اس کونسل کے سربراہ پوٹن خود ہيں۔ پوٹن نے ملکی آئين ميں تراميم کے ليے ايک ريفرنڈم کے انعقاد کا بھی تذکرہ کيا ليکن فی الحال يہ واضح نہيں کہ يہ کب تک ممکن ہے۔

روس ميں آج ہونے والی اس پيش رفت کے تناظر ميں ايسی باتيں بھی جاری ہيں کہ آئندہ چار سال بعد اپنی چوتھی مدت صدارت کے خاتمے پر شايد پوٹن وزارت عظمی کا قلمدان سنبھالنے ميں دلچسپی رکھتے ہيں۔ پوٹن صدر اور وزير اعظم کے طور پر دو دہائيوں سے زائد عرصے سے روس پر حکمرانی کرتے آئے ہيں۔ جوزف اسٹالن کے بعد وہ سب سے دير تک برسر اقتدار رہنے والے روسی رہنما ہيں۔