روسی صدر پوتن کا 2 روزہ ہندوستانی دورہ ختم، پی ایم مودی کے ذریعہ پیش 6 انمول تحائف لے کر روس روانہ
ہندوستانی وزیر اعظم مودی نے روسی صدر پوتن کو جو 6 تحائف پیش کیے ہیں، وہ صرف رسمی نہیں ہیں بلکہ ان میں ہندوستان کی روح، روایت اور روس کے ساتھ ہندوستان کی سچی دوست کا جذبہ ظاہر کر رہا ہے۔
روسی صدر ولادمیر پوتن کا 2 روزہ ہندوستانی دورہ دونوں ممالک کے لیے کامیاب قرار دیا جا رہا ہے۔ ہندوستان اور روس کے درمیان کئی اہم معاہدوں پر دستخط ہوئے جو دونوں ممالک کے رشتوں کو مزید مضبوط کرنے والے ہیں۔ پوتن کا دورۂ ہند اختتام کو پہنچ چکا ہے اور وہ عالیشان طیارے سے روس کے لیے روانہ بھی ہو چکے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ وہ اپنے ساتھ 6 انمول تحائف لے گئے ہیں، جو ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے انھیں پیش کیے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جو 6 تحائف پی ایم مودی نے روسی صدر کو دیے ہیں، وہ کئی معنوں میں اہمیت کے حامل ہیں۔ آئیے، سب سے پہلے ان 6 تحائف پر ایک مختصر نظر ڈالیں...
پہلا تحفہ آسام کی مشہور ’بلیک ٹی‘ ہے، جو اپنے کڑک ذائقہ اور مخصوص خوشبو کے لیے مشہور ہے۔ یہ بلیک ٹی ہندوستان کی خوشحال زراعت اور چائے کی روایت کی شناخت ہے۔
دوسرا تحفہ مراد آباد کی روایتی کاریگری کا بہترین نمونہ ’سلور ٹی سیٹ‘ ہے، جو روسی صدر کو پیش کیا گیا۔ یہ ہندوستان اور روس کی مشترکہ ’چائے کی روایت‘ کا دوستانہ اظہار ہے۔
تیسرا تحفہ مہاراشٹر کی فنکاری کا مظہر ہے۔ دراصل پی ایم مودی نے اپنے دوست پوتن کو انتہائی خوبصورت نقاشی کے ساتھ تیار کیا گیا ایک چاندی کا گھوڑا تحفے میں دیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس کا آگے بڑھتا ہوا قدم ہندوستان-روس تعلقات کی توانائی، رفتار اور ترقی کی علامت ہے۔
چوتھا تحفہ تاریخی شہر آگرہ کی فن دست کاری کا نمونہ ’ماربل چیس‘، یعنی ماربل سے تیار شطرنج ہے۔ اس میں رنگین سیمی-پریشیئس اسٹون کے ساتھ باریک اِنلے وَرک کیا گیا ہے۔ یہ فن دست کاری ہندوستانی فنکاروں کی مہارت کا بہترین نمونہ ہے۔
پانچواں تحفہ کشمیر کا انمول خزانہ زعفران ہے۔ اسے ’لال سونا‘ کہا جاتا ہے اور جی آئی ٹیگ بھی حاصل ہے۔ یہ تحفہ ہندوستان کی قدرتی سوغات کے ساتھ ساتھ کشمیر کی ثقافتی وراثت کی بھی علامت ہے۔
چھٹا تحفہ تو آج بہت سرخیوں میں رہا، جو کہ ’بھگوت گیتا‘ کا روسی ایڈیشن ہے۔ یہ نہ صرف روحانی صحیفہ ہے بلکہ زندگی جینے کا طریقہ بھی بتاتا ہے اور خود احتسابی کے لیے رہنمائی بھی کرتا ہے۔
مذکورہ بالا 6 تحائف صرف رسمی نہیں ہیں، بلکہ ان میں ہندوستان کی روح، روایت اور روس کے ساتھ ہندوستان کی سچی دوستی کا جذبہ جھلک رہا ہے۔ ان تحائف کے ذریعہ ہندوستان نے نہ صرف اپنے یہاں موجود فن دست کاری کا تعارف پیش کیا، بلکہ اس روحانی رشتہ کو بھی مزید مضبوط کیا جو نئی دہلی اور ماسکو کو جوڑتا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔