صدر پوٹن نے اپنے دوست کو بنایا روس کا نیا وزیر اعظم، پارلیمان کو منظور

روسی پارلیمان نے صدر ولادیمیر پوٹن کے نامزد کردہ میخائل میشُوسٹِن کو بھاری اکثریت سے وزیراعظم منتخب کر لیا ہے۔ صدر پوٹن ملک میں اہم سیاسی اصلاحات کر رہے ہیں۔

صدر پوٹن کا نامزد وزیراعظم روسی پارلیمان کو منظور
صدر پوٹن کا نامزد وزیراعظم روسی پارلیمان کو منظور
user

ڈی. ڈبلیو

ایک روسی اخبار نے اپنے ایک مضمون میں اس پیش رفت کو 'انقلابِ جنوری‘ قرار دیتے ہوئے لکھا کہ صدر پوٹن تاحیات ملکی قائد بننے جا رہے ہیں۔ صدر پوٹن نے وزیراعظم کے عہدے کے لیے میخائل میشُوسٹِن کا نام پیش کیا تھا، جسے روسی پارلیمان نے بھاری اکثریت سے منظور کر لیا۔ 53 سالہ مِشُوسٹن کو پارلیمان کے 424 اراکین میں سے 383 کی حمایت حاصل رہی جب کہ ان کے خلاف کوئی ووٹ نہیں پڑا۔ اس انتخاب میں 41 اراکین نے اپنے ووٹ کا حق محفوظ رکھا۔

پارلیمان کی جانب سے منظوری کے بعد صدر پوٹن نے بھی مِشُوسٹن کے بہ طور وزیراعظم عہدہ سنبھالنے کا حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔ مِشُوسٹن نے جلد ہی اپنی کابینہ کے ناموں کا اعلان کرنے کا کہا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق مِشُوسٹن کا روسی ٹیکس سروس کی سربراہی اور صدر پوٹن کے ساتھ آئس ہاکی کھیلنے کے علاوہ ملک میں کوئی اور سیاسی تعارف نہیں ہے۔

بدھ کے روز صدر پوٹن نے ملکی سیاسی نظام میں بڑی اصلاحات کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد وزیراعظم دیمتری میدیویدیف نے اپنی کابینہ کے ہم راہ استعفیٰ دے دیا تھا۔

سیاسی اصلاحات کے ذریعے 67 سالہ پوٹن، جو موجودہ دستور کے مطابق فقط 2024 تک صدر کے عہدے پر فائز رہ سکتے تھے، کو یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہ مزید اقتدار میں رہ سکیں۔ یہ بات اہم ہے کہ ولادیمیر پوٹن گزشتہ دو دہائیوں سے روسی صدر اور وزیراعظم کے بہ طور اقتدار میں ہیں۔

میدویدیف حکومت کے اچانک خاتمے کے ذریعے پوٹن نے عوام کو بھی یہ پیغام دیا ہے کہ وہ حکومت کی جانب سے پینشن کی عمر میں اضافے اور بچتی اقدامات کے مطالبات کو سمجھ رہے ہیں۔

واضح رہے کہ میدویدیف سن 2012 سے روسی حکومت کے سربراہ ہیں تاہم مغربی ممالک کی پابندیوں کے تناظر میں روس مالیاتی بحران، مختلف شعبوں میں کٹوتی اور دیگر غیر معروف فیصلوں کی وجہ سے عوامی غصے کا سامنا کر رہا ہے۔ روس میں گزشتہ پانچ برسوں میں تنخواہوں میں کمی کے تناظر میں حکومتی مقبولیت میں خاصی کمی واقع ہوئی ہے جب کہ صدر پوٹن بھی ماضی کے مقابلے میں اب کم مقبول ہیں۔

مبصرین کا کہنا تھا کہ اگر مقبولیت میں گراوٹ کا یہ سلسلہ جاری رہا، تو آئندہ آنے والی روسی پارلیمان صدر پوٹن کے لیے کم دوستانہ رویے کی مظہر ہو سکتی ہے۔

نئی سیاسی اصلاحات کے مطابق ایک ریفرنڈم کے ذریعے صدر پوٹن مستقبل میں یا تو بہ طور وزیراعظم زیادہ اختیارات کے ساتھ حکومت کریں گے یا پھر ریاستی کونسل کے سربراہ کا ایک نیا اور بااختیار عہدہ حاصل کر لیں گے۔ صدر پوٹن ماضی میں کئی بار ریاستی کونسل کے قیام کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں۔