عام انتخابات میں فلمی ستاروں کا بڑھتا ہوا کردار

ہندوستان میں ہونے والے عام انتخابات میں بالی ووڈ کے کئی ستارے بھی سیاسی افق پر چمکنے کی کوشش کرتے نظر آرہے ہیں۔ نریندر مودی بھی جانتے ہیں کہ وہ فلمی ستاروں کا کیسے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

بھارت کے عام انتخابات میں فلمی ستاروں کا بڑھتا ہوا کردار
بھارت کے عام انتخابات میں فلمی ستاروں کا بڑھتا ہوا کردار
user

ڈی. ڈبلیو

ان میں نیا نام ’رنگیلا‘ گرل ارمیلا ماتونڈکر کا ہے، جنہیں کانگریس پارٹی ممبئی (شمال) پارلیمانی حلقہ سے امیدوار بنانا چاہتی ہے جب کہ ’قیامت‘ کی ہیروئین جیہ پردا نے بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی اور اب وہ رام پور حلقہ سے پارٹی کی امیدوار ہوں گی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ رام پور سے دو مرتبہ رکن پارلیمان منتخب ہونے والی جیہ پردا اس مرتبہ سماج وادی پارٹی کے سینئر رہنما اعظم خان کو ٹکر دیں گی، جنہوں نے ماضی میں انہیں لوک سبھا پہنچانے میں سب سے اہم کردار ادا کیا تھا۔
بھارت میں سیاست اور فلموں کے درمیان گہرا تعلق رہا ہے اور سیاست میں فلمی ستاروں کا داخل ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ سن 1952میں ہونے والے پہلے عام انتخابات سے ہی فلمی دنیا سے تعلق رکھنے والوں کا پارلیمان میں داخل ہونے کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا، جب ہریندر ناتھ چٹوپادھیائے اور پیڈی لکشمیا نامی دو اداکار منتخب ہوئے تھے۔ اس کے بعد سے اب تک اٹھاون فلمی اداکار عام انتخابات میں حصہ لے چکے ہیں اور ان میں سے اڑتالیس پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی لوک سبھا میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب رہے۔ ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا کے لئے نامزد ہونے والے فلمی اداکاروں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔
اس سال ہونے والے عام انتخابات کی سرگرمیوں کا آغاز ہوتے ہی فلمی ستاروں کے سیاسی میدان میں اترنے کی خبریں بھی تیز ہو گئیں۔ سب سے پہلے سلمان خان کا نام آیا تاہم انہوں نے ٹوئٹ کر کے اس کی تردید کر دی اور کہا، ’’میں نہ تو الیکشن میں حصہ لے رہا ہوں اور نہ ہی کسی سیاسی پارٹی کی انتخابی مہم میں حصہ لوں گا۔‘‘ دو روز قبل فلم اداکار سنجے دت کے متعلق خبر آئی کہ وہ اپنے والد سنیل دت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سیاست میں باضابطہ داخل ہو رہے ہیں اور کانگریس کی ٹکٹ پر اتر پردیش کی غازی آباد سیٹ سے الیکشن لڑیں گے، جہاں حکمراں بی جے پی نے نائب وزیر خارجہ سابق آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ کو دوبارہ اپنا امیدوار بنایا ہے۔ سنجے دت نے تاہم اس خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا، ’’الیکشن میں حصہ لینے کی خبر غلط ہے البتہ وہ اپنی بہن اور کانگریس کی امیدوار پریہ دت کو کامیاب بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گے۔‘‘اس وقت پنجاب کے گرداس پور حلقہ سے اکشے کھنہ کو بی جے پی کا امیدوار بنانے کی خبریں گشت کر رہی ہیں۔ بالی ووڈ اور بھارت کے علاقائی فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھانے والے متعدد اداکار سیاست کی دنیا میں بھی اپنے گہرے نقوش چھوڑنے میں کامیاب رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ نگار اور ’بالی ووڈ سٹار پاور اِن انڈین پولیٹکس‘ کے مصنف رشید قدوائی کہتے ہیں،’’بھارت میں سیاست اور سینما کے درمیان نہایت قریبی تعلق ہے اور بھارتی سیاست میں بالی ووڈ سے مدد حاصل کرنے کی ایک طویل تاریخ رہی ہے۔‘‘ رشید قدوائی کا کہنا ہے،’’بالی ووڈ کے بہت سے اسٹار آج وزیر اعظم نریندر مودی کے زبردست حامی بن کر ابھرے ہیں۔ ان میں پریش راول، انوپم کھیر، روینہ ٹنڈن، ہیما مالنی اور رجنی کانت کے علاوہ فلم ساز مدھر بھنڈارکر وغیرہ شامل ہیں۔ لیکن ماضی میں اداکار ی سے سیاست کی طرف آنے والے اداکاروں اور موجودہ اداکاروں میں بہت فرق دکھائی دیتا ہے۔‘‘
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کسی فلم اسٹار کی مقبولیت سے سیاسی جماعت کو یقیناً فائدہ ہوتا ہے۔ ان سے ووٹروں کو پارٹی کی طرف راغب کرنے میں کافی مدد ملتی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیا ہے۔ رشید قدوائی کا کہنا ہے، ’’مودی یہ بات اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ صرف سیاست کے ذریعے ہی وہ اپنے پیغامات کو عوام تک نہیں لے جا سکیں گے۔ آج بھارتی فلم انڈسٹری میں وزیر اعظم مودی کے ایسے متعدد مدد گار موجود ہیں، جو قوم پرستی، مذہب اور اختلاف کے حوالے سے ان کی نظریاتی بحث کو اپنی آواز دے رہے ہیں۔‘‘

یوں تو تقریباً تمام سیاسی جماعتیں فلمی اداکاروں کی مقبولیت کا فائدہ اٹھاتی رہی ہیں تاہم بھارتیہ جنتا پارٹی اس معاملے میں سرفہرست ہے۔ اس نے عام انتخابات میں اب تک سب سے زیادہ اداکاروں کو ٹکٹ دیے ہیں۔ سن 1980میں پارٹی کے قیام کے بعد سے اس نے اٹھارہ فلمی ستاروں کو ٹکٹ دیا جب کہ 132 برس پرانی کانگریس پارٹی نے اب تک صرف سترہ فلمی اداکاروں کو اپنا امیدوار بنایا ہے۔
لیکن ایسا نہیں ہے کہ سیاست میں آنے والے تمام فلمی اداکار کامیاب ہی رہے ہوں۔ اس حوالے سے سینئر صحافی نیتا لال کا کہنا ہے، ’’ایسا نہیں ہے کہ سیاست میں قدم رکھنے والے تمام فلمی اداکار بھارتی سیاست کے تند و تیز طوفان میں خود کو مستحکم رکھنے میں کامیاب ہو گئے ہوں۔ جیا للیتا، ایم جی آر، سنیل دت، شبانہ اعظمی اور شتروگھن سنہا جیسے چند ایک فلمی اداکار بھارت کی سیاست میں خود کو ثابت کرنے میں کامیاب ضرور ہوئے تاہم گوبندا اور امیتابھ بچن جیسے اداکار بھی ہیں، جنہیں سخت ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ حتی کہ انہوں نے سیاست سے ہمیشہ کے لئے توبہ کر لی۔ اس معاملے میں امیتابھ بچن سب سے زیادہ ناکام کہے جا سکتے ہیں جنہوں نے پارلیمنٹ میں اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرنے کے بجائے درمیان میں ہی استعفی دے دیا تھا۔‘‘
نیتا لال کہتی ہیں، ’’بالی ووڈ سے وابستہ ہونا کامیابی کی ضمانت نہیں ہے۔ بھارت میں اب ووٹر سیاسی لحاظ سے زیادہ سمجھدار ہوتے جا رہے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کے نمائندہ منتخب ہونے والے فلمی ستارے ان کی امیدوں پر پورا اتریں۔ اس لئے جب کوئی بڑا فلمی اداکار سیاسی میدان میں داخل ہوتا ہے تو اس کے مثبت اور منفی پہلووں پر عوامی بحث بھی شروع ہو جاتی ہے۔ اب لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ایک فلمی اداکار کے سیاسی امیدوار بننے سے عام شہریوں کو کیا فائدہ ہوگا؟‘‘
خیال رہے کہ سن 2014 کے عام انتخابات میں مجموعی طور پر بائیس فلمی اداکاروں نے مقابلہ کیا تھا جن میں بارہ کامیاب ہوئے تھے۔ کامیاب ہونے والوں میں ہیمامالنی، کرن کھیر، من من سین، پریش راول جبکہ ناکام ہونے والوں میں راکھی ساونت، جاوید جعفری، نغمہ، گل پناگ کے نام شامل ہیں۔کئی اداکار ایک سے زائد مرتبہ بھی منتخب ہوئے ہیں۔ ان میں ونود کھنہ، سنیل دت، شتروگھن سنہا، راج ببر، جیہ پردہ اور وجینتی مالا شامل ہیں۔

چھ اداکار مختلف حکومتوں میں وزارت کے عہدوں پر بھی فائز ہو چکے ہیں۔ فلمی اداکار بھی مختلف سیاسی نظریات کی نمائندگی کرتے نظر آتے ہیں۔ امیتابھ بچن، سنیل دت، راجیش کھنہ اور گوبندا جیسے اداکار سیکولرازم کی علمبردار کانگریس پارٹی کے ساتھ دکھائی دیے تو دوسری طرف ونود کھنہ، ہیما مالنی، دھرمیندر اور شتروگھن سنہا ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ قدم سے قدم ملاتے نظر آئے۔

next