پاکستانی سیاست میں مذہبی انتہا پسندوں کا بڑھتا ہوا زور

دنیا بھر میں عموماﹰ یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ پاکستان مسیحی اور مسلم اقلیتوں کے لیے ’غیر محفوظ‘ ملک ہے  اور عمران خان اپنے ابتدائی سو روزہ دور اقتدار میں ابھی تک اس تاثر کو تبدیل نہیں کرسکے۔

By ڈی. ڈبلیو

پاکستان میں گزشتہ ہفتے کے آواخر میں تحریک لبیک پاکستان کے بانی خادم حسین رضوی کی گرفتاری کی خبر دنیا بھر میں شہ سرخیوں کی زینت بنی۔ تحریک لبیک پاکستان (TLP) بطور مذہبی و سیاسی جماعت مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی رہائی کے خلاف ہے۔ پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر نظر رکھنے والے مبصرین سمجھتے ہیں کہ تحریک لبیک پاکستان کے خلاف کریک ڈاؤن کی وجہ آسیہ بی بی کی رہائی کی مخالفت سے زیادہ اس جماعت کی قیادت کی جانب سے عسکری اداروں کے خلاف تلخ بیان بازی ہے۔

پاکستان میں عسکری اداروں یا پھر اس کی قیادت کے خلاف سخت الفاظ کا استعمال غیر معمولی عمل ہے کیونکہ ماضی میں فوجی اداروں پر ملکی خفیہ ایجنسی ISI کے ساتھ مل کر ’ریاست کے اندر ریاست‘ بنانے کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں۔ موجودہ وزیراعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی عام انتخابات 2018ء میں کامیابی کے تانے بانے بھی فوجی جرنیلوں کی حمایت کے ساتھ جوڑے جاتے ہیں۔ ماضی کے جمہوری حکمرانوں کے مقابلے میں عمران خان ملک کے سب سے طاقتور ادارے کے ساتھ بیشتر امور پر اتفاق رکھتے ہوئے کام کرنا چاہتے ہیں۔

عمران خان کی قدامت پسند سیاست

26 نومبر بروز پیر عمران خان کی حکومت کے ایک سو دن مکمل ہوچکے ہیں۔ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران ’نیا پاکستان‘ کا نعرہ لگایا تھا، جس کے مطابق انہوں نے مالی بدعنوانی میں ملوث سیاستدانوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

سیاسی مبصرین سمجھتے ہیں کہ عمران خان کی سیاست معاشرے کو مذہبی قدامت پسندی کی طرف راغب کرتی ہے۔ سنگاپور میں ایس راجارتنم اسکول آف انٹرنیشنل اسٹڈیز میں پاکستان کے امور کے ماہر جیمز ایم ڈورسی کے مطابق ’’عمران خان عالمی امور پر مذہبی اور معاشرتی ضمن میں انتہائی قدامت پسند نظریے کے حامل ہیں لہٰذا ان سے پاکستان کو رواداریت اور تکثیریت پسند ملک بنانے کی امید خام خیالی ہوگی‘‘۔

سیاسی و سماجی امور میں مذہبی طاقتوں کا بڑھتا اثر و رسوخ

دوسری طرف پارلیمان میں مذہبی جماعتوں کی شمولیت بھی دس فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ تحریک لبیک پاکستان کی کوئی نشست نہ ہونے کے باوجود یہ جماعت ملک کے سیاسی اور سماجی امور میں اہم حیثیت رکھتی ہے۔ اسلام آباد میں اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک مغربی سفارتکار نے کیتھولک نیوز ایجنسی سے ان خیالات کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق پاکستان میں حکومت اور اسلامی گروہوں پر تنقیدی تبصرہ کرنا غیر ملکیوں کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

مذہبی انتہا پسند جماعتوں کے درمیان تصادم

عمران خان کی حکومت کی جانب سے تحریک لبیک پاکستان پر کریک ڈاؤن ملکی مذہبی انتہا پسند جماعتوں کے درمیان تصادم کی وجہ بھی بن سکتی ہے۔ واضح رہے پاکستان سنی تحریک PST نے پہلے ہی TLP علیحدگی کا اعلان کردیا ہے جبکہ ماضی میں توہین رسالت کے قوانین پر دونوں جماعتوں کا موقف ایک ہے۔ اس قانون کے مطابق ہی آسیہ بی بی کو پھانسی دیے جانے کا فیصلہ کیا گیا تھا جو کہ بعد ازاں ملکی اعلٰی عدلیہ نے مسترد کردیا تھا۔

سوال یہ ہے کہ، کیا حکومت پاکستان مذہبی جماعتوں کی تقسیم کا فائدہ اٹھاسکے گی؟ مبصرین کے مطابق ’’ماضی میں اس نوعیت کا لائحہ عمل کامیاب ثابت نہیں ہوا تھا کیونکہ پاکستان کے عسکری اداروں نے ’اسلامی شدت پسندوں‘ کو پڑوسی ممالک، جیسے کہ افغانستان اور بھارت کے خلاف استعمال کیا تھا‘‘۔ ملٹری جرنلوں نے سوچا تھا کہ ان شدت پسند گروہوں کو قابو میں رکھیں گے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ شدت پسند عناصر کا ملک کے داخلی معاملات پر اثر و رسوخ میں اضافہ ہوتا گیا۔

اس بات کی واضح مثال پاکستان کی اقتصادی ایڈوائزری کونسل کے احمدی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے رکن عاطف میاں کے استعفے میں بھی نمایاں طور پر دیکھی گئی۔ پاکستانی اخبار ڈان کے چیف ایڈیٹر کمال صدیقی کے مطابق ’’عمران خان نے اس فیصلے سے یہ ثابت کیا کہ وہ مذہبی انتہا پسندوں کے آگے جھکنے کے لیے تیار ہیں۔‘‘