جو بچپن میں ہی ماں بن گئی اس کو انصاف کب ملے گا؟

علامتی تصویر

اس 15 سالہ بچی کا آخر قصور کیا ہے۔ 15 سال کی عمر میں عصمت دری، پھر شادی اور پھر بے سہارا چھوڑ دیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ اس بچی کو انصاف کیسے اور کب ملے گا!

مارچ 2017 کو غزالہ کی عمر بمشکل تمام 15 سال کی رہی ہوگی جس وقت اس کے 24 سالہ رشتہ دار پر اس کی عصمت دری کا الزام لگا۔ یہ رشتہ دار لائن آف کنٹرول پر واقع سب سے پسماندہ ضلع پونچھ کے ناکا منجھاری گاؤں کا رہنے والا ہے ۔

غزالہ جب حاملہ ہوئی تو سماج میں بے عزتی کے خوف سے اس کے گھر والوں نے پولس سے کوئی رابطہ نہیں کیا اور کوئی شکایت درج نہیں کرائی ۔ مقامی لوگوں اوررشتہ داروں کی مداخلت کے بعد 20 نومبر 2017 کو اس لڑکی کی اسی لڑکے کے ساتھ شادی کر ادی گئی جس کے اوپر اس کی عصمت لوٹنے کا الزام ہے۔

یہ کوشش اور شادی دونوں ناکام رہیں اور شادی کے محض 15 دن کے اندر اس لڑکی کو اس کے شوہر نے گھر سے باہر نکال دیا۔ اس مرتبہ مظلوم لڑکی کے گھر والوں نے مقامی پولس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کرائی ۔ 6جنوری کو مینڈھر تحصیل کے گرسائی پولیس اسٹیش میں رنبیر پینل کوڈ(آر پی سی ) کے سیکشن376 اور 109 کے تحت ایف آئی آر درج کرائی گئی۔

16 جنوری کو سی آر پی سی کی دفعہ 164 اے کے تحت پولس نے مقامی عدالت میں مظلوم کا بیان درج کرایا ۔ اس لڑکی نے بیان دیا کہ ’’میں بالغ ہوں اور میں اپنے شوہر کے ساتھ خوشحال شادی شدہ زندگی گزار رہی تھی اور میرے ماموں نے جو شکایت درج کرائی ہے وہ غلط ہے اور میں اپنی سسرال کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں چاہتی‘‘۔

اسکول کے سرٹیفکیٹ میں غزالہ کی تاریخ پیدائش یکم جنوری 2002 درج ہے جس کے مطابق اس وقت اس کی عمر 16 سال ہے ۔ لیکن عدالت میں جو اس کا بیان درج کیا گیا ہے اس کے مطابق اس کی عمر 19 سال ہے جبکہ بچے کی پیدائش کے بعد جب اسے اسپتال سے چھٹی دی گئی تو ڈسچارج سلپ پر اس کی عمر 25 سال درج ہے ۔ کس کو صحیح مانا جائے۔

یہ بیان دینے کے بعد غزالہ کو اس بات کا احساس ہوا کہ اس کے ساتھ دھوکہ کیا گیا ہے ۔ اس نے بتایا کہ ’’مجھ سے کہا گیا تھا کہ اگر میں اپنے شوہر اور اس کے گھر والوں کے حق میں بیان دوں گی تو وہ میرے پیدا ہونے والے بچے کو قبول کر لیں گے ‘‘۔ غزالہ نے اپنا دکھ بیاان کرتے ہوئے بتایا کہ ’’جب میں نے 25 جنوری کو مینڈھر اسپتال میں اپنے بیٹے کو جنم دیا تو اس وقت نہ تو میرے شوہر اور نہ ہی میری سسرال کا کوئی شخص وہاں آیا۔ اور اس وقت سے میں اپنے والدین کے گھر رہ رہی ہوں ‘‘۔

جب مقامی پولس نے 29 جون 2018 کو ’ناٹ ایڈ میٹڈ‘ (یعنی عصمت دری کا کوئی واقعہ پیش ہی نہیں آیا)کہہ کر اس کیس کو بند کر دیا ، تو غزالہ نے مارچ میں ضلع عدالت میں گھریلو تشدد کا کیس درج کرایا اور نان نفقہ کا مطالبہ کیا۔ ملزم نے اس کے خلاف ہائی کورٹ کے جموں ونگ سے رابطہ کیا اور اس معاملہ میں اسٹے آرڈر لے لیا ۔

غزالہ کے والد سخریز خان اپنے آنسؤوں پر بمشکل تمام قابو پاتے ہوئے کہتے ہیں ’’لوگ جانور کے بچے کا بھی خیال کرتے ہیں لیکن ان لوگوں کو ایک انسان کے بچے کی کوئی فکر نہیں ۔‘‘ سخریز خان کا خاندان ایک کچے مکان میں رہتا ہے اور بڑی مشکل سے ان کا گزارا ہوتا ہے۔ وہ اپنے حالا ت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’میں ایک چھوٹا سا کسان ہوں۔ وکیل کا خرچ، میرے گھر سے 250 کلومیٹر دور ہائی کورٹ آنے جانے کا خرچ، میری پہنچ سے باہر ہے۔ میرا بیٹا گونگا بہرا ہے اور میری چھوٹی بیٹی بہت چھوٹی ہے ‘‘۔

اسکول کے سرٹیفکیٹ میں غزالہ کی پیدائش کی تاریخ ہے یکم جنوری 2002 اور اس حساب سے اس کی عمر 16 سال کی ہے ۔ لیکن عدالت میں جو اس کا بیان درج کیا گیا ہے اس کے مطابق اس کی عمر 19 سال ہے جبکہ بچے کی پیدائش کے بعد جب اسے اسپتال سے چھٹی دی گئی تو ڈسچارج سلپ پر اس کی عمر 25 سال درج ہے ۔ کس کو صحیح مانا جائے۔

اس سال جموں و کشمیر بچیوں کے خلاف جنسی جرائم کے بد ترین معاملات کا گواہ رہا ہے ۔ اس سال جنوری میں کٹھوعہ میں ایک آٹھ سالہ بچی کا اغوا ہوا، اسے نشیلی دوا دے کر اس کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی گئی اور بعد میں اس کا قتل کر دیا گیا ۔ ابھی اسی مہینے بارہمولہ ضلع میں ایک اور دل دہلانے والا واقعہ سامنے آیا ۔ ایک نو سالہ بچی کی اجتماعی عصمت دری کا واقعہ سامنے آیا جس میں اس بچی کے بے جان جسم سے آنکھیں نکال لی گئیں اور اس کا قتل کر کے اس پر ایسڈ ڈال کر جلا دیا گیا۔

کٹھوعہ پر ملک گیر ہنگامہ کے بعد پارلیمنٹ کے ذریعہ عصمت دری سے متعلق سزا کے موجودہ قانون میں بل لا کر تبدیلی کی گئی ۔ اس کے تحت اگر اس لڑکی کی عمر 16 سے کم ہے جس کے ساتھ عصمت دری کی گئی ہے تو کم از کم سزا دس سال سے بڑھاکر بیس سال کر دی گئی ہے، جو عمر قید تک بڑھائی جا سکتی ہے۔اس کے ساتھ اس میں ملزم کو عبوری ضمانت کی بھی گنجائش ختم کر دی گئی ہے۔ تبدیل شدہ قانون میں یہ بھی درج ہے کہ عصمت دری کے معاملہ کی ایف آئی آر درج ہونے کی تاریخ سے دو ماہ کے اندر جانچ ہونی ہے ۔

سخت قانون کی موجودگی کے باوجود زمینی حقیقت یہ ہے کہ حالات ویسے کے ویسے ہی ہیں ۔ غزالہ کے ماموں محمد شفاعت جو گاؤں میں ایک چھوٹی سی دُکان چلاتے ہیں ، ان کا دعوی ہے کہ مقامی پولس نے ملزمین کو بچانے کے لئے رشوت لی ہوئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’پولس نے ابھی تک کسی بھی ملزم کو گرفتار نہیں کیا ہے ۔ ملزم کا والد بھی پولیس کا ریٹائرڈ اہلکار ہے اور وہ اپنا اثر استعمال کر رہا ہے ۔ جب اس نے میری بھانجی کو گھر سے نکالا تھا تو اس نے کہا تھا کہ پیسے کے دم پر ہندوستان میں کچھ بھی کرایا جا سکتا ہے ‘‘۔ غزالہ کے ماموں کا مطالبہ ہے کہ ملزم اور اس کے بچے کا ڈی این اے ٹیسٹ فوراً کرایا جائے تاکہ اس بچے کی ولدیت کا معاملہ طے ہو سکے ۔

شفاعت نے مقامی پولس پر اس سے بھی رشوت مانگنے کا الزام لگایا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’مقامی پولس اسٹیشن کا سب انسپکٹر ہم سے رشوت مانگ رہا ہے ۔ اس نے کاغذات خریدنے اور جانچ کے دوران ہونے والے اخراجات کے نام پر ہم سے پہلے ہی 4000 روپے لے لئے ہیں‘‘۔

دریں اثنا پونچھ کے ایس ایس پی راجیو پانڈے نے 12 جولائی کو اس پورے معاملہ پر دوبارہ جانچ کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے ایس ایچ او پر زور دیا ہے کہ وہ اس پورے معاملہ کی مینڈھر کے ایس ڈی پی او کی نگرانی میں جانچ کریں ۔ ایس ایس پی پونچھ نے ’قومی آواز‘ کو بتایا کہ ’’میں اس بات کو یقینی بناؤں گا کہ لڑکی کو بغیر تاخیر کے انصاف ملے‘‘۔

(لڑکی کی شناخت ظاہر نہ کرنے کی غرض سے مظلوم لڑکی کا نام تبدیل کر دیا گیا ہے)

سب سے زیادہ مقبول