دہلی کا رابعہ گرلز اسکول بنا سیاسی اکھاڑا

9 جولائی کو پرانی دہلی واقع رابعہ گرلز پبلک اسکول میں وقت پر فیس نہ جمع کئے جانے پر پانچ سال کی عمر کی کم و بیش 3 درجن طالبات کو یرغمال بنائے جانے کا معاملہ سامنے آیا جس کے بعد سے ہنگامہ برپا ہے۔

ہمدرد کے بانی حکیم عبدالحمید نے ایک مرتبہ گرمی کی شدت میں اپنے ڈرائیور سے پوچھا کہ کار میں بیٹھ کر جو یہ دھوپ لگتی ہے اس کا کوئی علاج ہے؟ تو ڈرائیور نے کہا کہ شیشوں پر فلم لگوا لی جائے تو اس سے دھوپ کی شدت کم محسوس ہو گی ۔ حکیم صاحب نے اس کے لگانے کی قیمت پوچھی تو ڈرائیور نے 400 روپے بتائی۔ قیمت سن کر حکیم صاحب نے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ گرمی کتنے دن کی ہے یہ رقم قوم کے بچوں کی تعلیم میں کام آئے گی اور انہوں نے اپنی کار کے شیشوں پر وہ فلم نہیں لگوائی ۔ انہوں نے تعلیم کے فروغ کو اپنی ز ندگی کا مشن بنایا اور آج دہلی میں کئی بڑے تعلیمی ادارہ ہمدرد تعلیمی فاؤنڈیشن کے زیر نگرانی چل رہے ہیں جس میں ایک ادارہ پرانی دہلی میں لڑکیوں کی تعلیم کے لئے رابعہ گرلس اسکول کے نام سے چل رہا ہے جو تعلیم کے لئے اپنی منفرد حیثیت رکھتا ہے ۔ لیکن کل اچانک ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس سے نہ صرف حکیم عبدالحمید کی روح کو تکلیف پہنچی ہوگی بلکہ اسکول کی ساکھ پر بھی دھبہ لگا ہے ۔

9 جولائی کو پرانی دہلی واقع رابعہ گرلز پبلک اسکول میں وقت پر فیس نہ جمع کئے جانے پر پانچ سال کی عمر کی کم و بیش 3 درجن طالبات کو یرغمال بنائے جانے کا معاملہ سامنے آیا جس کے بعد سے ہنگامہ برپا ہو گیا۔ وقت پر فیس نہ جمع کئے جانے کے الزام میں ان بچیوں کو نرسری اسکول کے بیسمنٹ میں واقع ایکٹیوٹی روم میں بیٹھا دیا گیا۔ ان کے والدین کو جب پتہ لگا تو انہوں ہنگامہ برپا کر دیا اور ان میں سے ایک بچی کے والد نے اسکول کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کرا دی ۔ ایف آئی آر کے بعد معاملہ میڈیا اور اخباروں کی سرخیاں بن گیا ۔ نرسری اسکول کی ہیڈ مسٹریس فرح دیبہ نے یہ تسلیم کیا کہ ان میں سے کچھ بچیوں کی فیس جمع ہو چکی تھی لیکن ان کی فیس جمع ہونے کی سلپ نرسری اسکول تک نہیں پہنچی تھی ۔

رابعہ گرلز پبلک اسکول کی پرنسپل ناہید عثمانی

رابعہ گرلز پبلک اسکول کی پرنسپل ناہید عثمانی

فرح دیبہ نرسری اور پرائمری اسکول میں ہیڈ مسٹریس ہیں اور سینئر اسکول کی پرنسپل ناہید عثمانی ان سب کی ہیڈ ہیں۔ اس سارے معاملہ پرناہید عثمانی کا کہناہے ’’یہ اسکول ایک اقلیتی ادارہ ہے اور اس کو کہیں سے کوئی مدد نہیں ملتی ، اسکول کے تمام اخراجات اسکول کی فیس سے پورے کئے جاتے ہیں اس لئے فیس کا وقت پر جمع ہونا بہت ضروری ہے ‘‘۔ چھوٹی بچیوں کے ساتھ تفریق کرکے ان کو گرمی میں بیسمنٹ میں واقع ایکٹیوٹی روم میں بٹھانے کو جائز ٹھہراتے ہوئے ناہید عثمانی نے کہا کہ ’’ بیسمنٹ کسی بھی ادارہ کی سب سے ٹھنڈی جگہ ہوتی ہے ، وہاں پنکھے وغیرہ لگے ہوئے ہیں اور بچیاں وہاں بہت خوش تھیں ‘‘۔ ناہید عثمانی کے اس جواب سے برہم علاقہ کے رکن اسمبلی اور دہلی کے خوراک و رسد کے وزیر عمران حسین نے ان سے کہا ’’اگر وہ سب سے ٹھنڈی جگہ ہے تو آپ اپنا دفتر وہاں منتقل کر لیجئے اور میں بھی کچھ وقت آپ کے ساتھ وہاں بیٹھوں گا ‘‘۔ عمران حسین نے کہا کہ جو کچھ اسکول میں ہوا ہے اس سے حکیم صاحب کی روح کو بہت تکلیف پہنچی ہوگی اور اسکول انتظامیہ کے لئے ضروری ہے کہ اس سارے معاملہ کو جلد از جلد درست کریں ۔

ممبر اسمبلی عمران حسین رابعہ گرلز پبلک اسکول میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے

ممبر اسمبلی عمران حسین رابعہ گرلز پبلک اسکول میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے

اس سارے معاملہ پر پولس کا کہنا ہے کہ کچھ سرپرستوں نے اس بات کی اطلاع دی ہے کہ سنٹرل دہلی کے حوض قاضی علاقے میں ٹیچروں نے 16 بچوں کو صبح 7 بجے سے لے کر دوپہر 12 بجے تک بند رکھا۔ کملا مارکیٹ تھانہ کے اے سی پی کا کہنا ہے کہ ’’تعزیرات ہند کی دفعہ 342 کے تحت اسکول کے خلاف ایف آئی آر درج کیا گیا ہے اور حوض قاضی پولس اسٹیشن کے چائلڈ جسٹس (بچوں کی دیکھ بھال اور تحفظ) ایکٹ 75 کے تحت آگے کی کارروائی کی جا رہی ہے۔‘‘ انھوں نے مزید بتایا کہ بچوں کے ساتھ ایسا عمل کرنے والے شخص کا پتہ لگایا جا رہا ہے۔ دوسری طرف بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے وفود بھی اسکول پہنچے اور انہوں نے اسکول انتظامیہ سے بات کی ۔

 

اس سلسلے میں دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا نے بھی ٹوئٹ کر کے اپنی ناراضگی ظاہر کی اور اسکول انتظامیہ کے خلاف سخت کارروائی کا حکم صادر کر دیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’اسکول کی اس حرکت سے میں خود حیران ہوں۔‘‘ ذرائع کے مطابق اسکول کی ایک مہینے کی فیس 3000 روپے ہے اور اس کی ادائیگی 30 تاریخ تک کرنے کی ہدایت ہے۔ مقررہ وقت پر فیس جمع نہ کرنے کی صورت میں کلاس میں حصہ لینے کی اجازت نہیں۔

نرسری اسکول کی ہیڈ مسٹریس فرح دیبہ نےکہا ہے کہ ’’بیسمنٹ وہ مقام ہے جہاں بچے کھیلتے ہیں اور وہاں 2 ٹیچر بچوں کی نگرانی کر رہی تھیں ۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’وہ عام طور پر گراؤنڈ میں بیٹھتے تھے، اس دن وہاں کا پنکھا ٹھیک ہونے کے لیے گیا ہوا تھا۔ اسکول پر بچوں کو یرغمال بنانے کا جو الزام لگ رہا ہے وہ غلط ہے۔‘‘ لیکن سرپرستوں نے اسکول انتظامیہ کی اس حرکت کو بچوں پر ظلم قرار دیا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے عمل سے بچے احساس کمتری کا شکار ہوں گے ۔ زیادہ تر والدین کا کہنا تھا کہ جب سے ناہید عثمانی پرنسپل بنی ہیں اور اسکول انتظامیہ کی ذمہ داری سید حامد کے صاحب زادہ ثمر حامد کے پاس آئی ہے اس وقت سے اسکول کا مینجمنٹ بہت خراب ہو گیا ہے۔

واضح رہے کہ پرانی دہلی واقع رابعہ گرلز اسکول تعلیم کے اعتبار سے پرانی دہلی کا ڈی پی ایس و ماڈرن اسکول کہا جاتا ہے اور یہاں سے فارغ ہوئی بچیاں سینٹ اسٹیفن اور لیڈی شری رام جیسے کالجوں میں داخلہ لیتی رہی ہیں۔ بچیوں کے والدین میں اس واقعہ کے بعد غم و غصہ تو ہے لیکن کچھ والدین کا کہنا ہے کہ ’’ ہم میں سے کچھ لوگ تعلیم کو سنجیدگی سے نہیں لیتے اور فیس جمع کرانے کو ٹالتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے اسکول انتظامیہ سخت اقدام اٹھاتا ہے لیکن جو کچھ کل ہوا اس کو کسی بھی طرح صحیح قرار نہیں دیا جا سکتا ‘‘۔ جس زون میں یہ اسکول واقع ہے اس زون کے ڈائرکٹریٹ تعلیم کے اعلی عہدیداران نے اسکول کا دورہ کیا ۔ ذرائع کے مطابق اسکول نے اکاؤنٹینٹ کو فیس جمع ہونے کے باوجود ٹیچرس کو وقت پر اطلاع نہ دینے کے لئے میمو دے دیا ہے۔ اسکول کی بلڈنگ کافی اچھی ہے اور یہاں کے ٹیچرس کی بھی والدین بہت تعریف کرتے نظر آئے ۔ اب اس معمالہ پر پوری طرح سیاست شروع ہو گئی ہے ۔ آج شام منوج تیواری علاقہ کا دورہ کر رہے ہیں اور بہت ممکن ہے کہ وہ اسکول انتظامیہ کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کریں۔ کل صبح دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال اور نائب وزیر اعلی منیش سسودیا بھی پہنچنے والے ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اسکول کی پرنسپل ناہید عثمانی اور ثمر حامد اس بات کو سمجھیں کہ ان تعلیمی اداروں کے قیام میں حکیم صاحب کی قربانیاں شامل ہیں۔

سب سے زیادہ مقبول