شہریت ترمیمی قانون: مظاہرین کے خلاف پولیس کا تشدد اور گرفتاریاں

پولیس نے شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف مظاہرہ کرنے والے سینکڑوں افراد کے خلاف سخت قوانین کے تحت مقدمات درج کیے ہیں۔ سینکڑوں افراد کو حراست میں لیا گيا جبکہ درجنوں اب بھی جیل میں قید ہیں۔

شہریت ترمیمی ایکٹ: مظاہرین کے خلاف پولیس کا تشدد اور گرفتاریاں
شہریت ترمیمی ایکٹ: مظاہرین کے خلاف پولیس کا تشدد اور گرفتاریاں
user

ڈی. ڈبلیو

جمعرات چھبیس دسمبر کو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ پر پولیس کے تشدد سے متعلق ایک تفصیلی رپورٹ میں کہا گيا ہے کہ پولیس اور پیرا ملٹری فورسز نے بلا اشتعال طلبہ اور دیگر اسٹاف کو لائیبریری، مسجد اور کیمپس کے اندر نشانہ بنایا۔ انسانی حقوق کی علمبردار تنظیم ’پیپلز یونین آن ڈیموکریٹک رائٹس‘ (پی یو ڈی آر) کا کہنا ہے کہ دہلی پولیس نے جامعہ کے طلبہ کو دو بار نشانہ بنایا اور تیرہ و پندرہ دسمبر کو ان کے خلاف طاقت کا بے دریغ استعمال کیا گيا۔

اس رپورٹ کا نام ''بلڈی سنڈے 2019‘‘ ہے، جس میں بتایا گيا ہے کہ پولیس نے تیرہ دسمبر سے تیئس دسمبر کے درمیان دارالحکومت دہلی میں تقریبا پندرہ سو افراد کو حراست میں لیا اور بہت سے لوگ اب بھی غیر قانونی طور پر پولیس کی حراست میں ہیں۔ تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ قانون کے مطابق پرامن مظاہرے کی اجازت ہے، جس کی پولیس اجازت نہیں دیتی اور پولیس اپنے اس رویے پر نظر ثانی کرے۔ کیمپس کے اندر طاقت کا بے جا استعال کرنے والے پولیس افسران کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے اور ایسے پولیس اہلکاروں کو فوری طور برخاست کر کے اس کارروائی کی آزادانہ تفتیش کرائی جائے۔

مظاہروں کے دوران پولیس کی کارروائی میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ریاست اترپردیش میں ہوئی ہیں، جہاں پولیس کی فائرنگ میں تقریبا بیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ پولیس نے سینکڑوں افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے اور سینکڑوں حراست میں ہیں۔گزشتہ رات علی گڑھ شہر میں شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف لوگوں نے کینڈل لائٹ مارچ نکالا تھا، جس پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے بارہ سو افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس میں بیشتر مقامی طلبہ نے حصہ لیا تھا اور ہاسٹل پوری طرح سے خالی کر لیے گئے ہیں۔

پولیس نے اس سلسلے میں بنارس شہر کے بھی تقریبا ستّر افراد کو گرفتار کیا ہے۔ اس میں بنارس کا ایک نوجوان سماجی کارکن جوڑا بھی شامل ہے جوگزشتہ کئی روز سے جیل میں ہے۔ اس وجہ سے ان کی چودہ ماہ کی بچی ان سے جدا ہو گئی ہے۔ ایکتا اور ان کے شوہر روی شیکھر بنارس میں ایک غیر سرکاری تنظیم چلاتے ہیں جو ماحولیات کے تحفظ کے لیے کام کرتی ہے۔ دونوں اس قانون کے خلاف مظاہرے میں شامل ہوئے تھے، جنہیں پولیس نےگرفتار کر کے لاک اپ میں ڈال دیا اور اب ان کی چودہ ماہ کی بیٹی آئرہ اپنے والدین کی تلاش میں پریشان ہے۔ آئرہ کی دیکھ بھال اب روی کے رشتہ دار کر رہے ہیں۔

مغربی یو پی کے شہر میرٹھ، مظفر پور اور بجنور میں سب سے زیادہ تشدد ہوا ہے اور اس علاقے کے لوگوں نے پولیس پر بربریت کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس ان کے گھروں میں داخل ہو کر خواتین پر تشدد کیا، سامان لوٹ لیا اور بچوں تک کو بھی نہیں چھوڑا گیا۔ اس سے متعلق بہت سی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہیں اور بھارت کے بعض قومی اخبارات نے اس بارے میں تفصیلی خبریں شائع کی ہیں۔