پیرو کے سابق صدر نے گرفتاری سے بچنے کے لیے خودکشی کر لی

پیرو کے سابق صدر ایلن گارسیا نے اُس وقت خود کو گولی مار لی جب ملکی پولیس انہیں گرفتار کرنے پہنچی۔ گارسیا کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ انتقال کر گئے۔

پیرو کے سابق صدر نے گرفتاری سے بچنے کے لیے خودکشی کر لی
پیرو کے سابق صدر نے گرفتاری سے بچنے کے لیے خودکشی کر لی

ڈی. ڈبلیو

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پیرو کے سابق صدر ایلن گارسیا کا ہسپتال میں انتقال ہو گیا ہے۔ لیما میں پولیس نے بتایا کہ 17 اپریل کو سابق صدر کو جب گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے خود کو سر میں گولی مار لی۔

گارسیا کو بدعنوانی کے الزامات کا سامنا تھا اور پولیس نے انہیں اسی سلسلے میں گرفتار کرنے کی کوشش کی تھی۔ انسٹھ سالہ گارسیا کو ہسپتال منتقل کرنا پڑا، جہاں ان کی ہنگامی بنیادوں پر سرجری کی گئی۔

گارسیا کی امیریکن پاپولر ریوولوشنری الائنس (APRA) پارٹی کے سیکرٹری جنرل عمر قصیدہ نے گارسیا کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا، ’’ایلن گارسیا انتقال کر گیا ہے۔ آپرا زندہ باد‘‘۔

دو بار پیرو کے صدر رہنے والے ایلن گارسیا کو پولیس منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت جاری کیے گئے گرفتاری کے وارنٹس کے ساتھ گرفتار کرنے پہنچی تھی۔ پیرو کے دفتر استغاثہ کے مطابق ان وارنٹس کے تحت گارسیا کو 10 یوم کے لیے زیر حراست رکھا جا سکتا تھا جس دوران نہ صرف حکام کو ان کے خلاف شواہد جمع کرنے کا موقع ملتا بلکہ اس کا مقصد سابق صدر کو ملک سے فرار ہونے سے روکنا بھی تھا۔

گارسیا 1985ء سے 1990ء اور پھر 2006ء سے 2011ء تک پیرو کے صدر رہے تھے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے دور صدارت میں برازیلی تعمیراتی کمپنی Odebrecht کو ملک میں بڑے پیمانے پر سرکاری کاموں کے ٹھیکوں کے عوض اس سے رشوت وصول کی تھی۔