پاکستان میں روپے کی قدر میں مزید گراوٹ، آئی ایم ایف کی شرائط ماننا پڑیں گی؟

جمعہ کی صبح امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر جمعرات کے مقابلے میں مزید دس روپے کم ہو گئی۔ ماہرین کی رائے میں پاکستان کو معاشی بحران سے نکلنے کے لیے آئی ایم ایف کی شرائط ماننا پڑیں گی۔

By ڈی. ڈبلیو

عمران خان کی حکومت کو کل اس وقت ایک زبردست جھٹکا لگا جب ان کی حکومت کے سو دن پورے ہونے کے دو دن بعد ہی ملک میں ڈالر کے مقابلے روپے کی قیمت میں غیر معمولی گراوٹ دیکھنے کو ملی۔ایسوسی ایٹیڈ پریس کے مطابق کل صبح انٹر بینک میں امریکی ڈالر قریب آٹھ روپے مہنگا ہو کر 142 پاکستانی روپے کی ریکارڈ قیمت تک پہنچ گیا اور بعد میں مزید دو روپے کی گراوٹ درج کی گئی اور ایک ڈالر کی قیمت 144 پاکستانی روپے ہو گئی یعنی ڈالر دس روپے مہنگا ہو گیا۔

تجزیہ کار محمد سہیل نے ایسوسی ایٹیڈ پریس کو بتایا کہ روپے کی قیمت میں تیزی سے کمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستانی حکومت کے پاس معاشی بیل آؤٹ پیکج حاصل کرنے کے لیے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی شرائط ماننے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔

پاکستان نے موجودہ اقتصادی بحران سے نکلنے کے لیے دوست ممالک کی مدد کے علاوہ آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پیکج کے حصول کی کوشش میں ہے۔ معاشی تجزیہ کار محمد سہیل کے مطابق اسلام آباد کو اس بحران سے نکلنے کے لیے آئی ایم ایف کی شرائط کی ’کڑوی گولی‘ نگلنا پڑے گی۔

آئی ایم ایف اور اسلام آباد کے مابین بیل آؤٹ پیکج کے لیے حالیہ مذاکرات کامیاب نہیں ہوئے تھے اور اب مزید مذاکرات جنوری میں کیے جائیں گے۔ پاکستان میں رواں برس جولائی میں عام انتخابات کے بعد سے اب تک ملکی کرنسی کی قدر پندرہ فیصد کم ہو چکی ہے جب کہ گزشتہ ایک برس کے دوران مجموعی طور پر روپے کی قدر میں چھتیس فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

سوشل میڈیا پر ردِ عمل

پاکستان میں پہلی مرتبہ برسر اقتدار آنے والی جماعت پی ٹی آئی نے گزشتہ روز ہی اپنی حکومت کے سو دن مکمل ہونے پر حکومتی وعدوں سے متعلق عوام کو آگاہ کرنے کے لیے ایک تقریب کا انعقاد کیا تھا۔ اس تقریب سے وزیر اعظم عمران خان کے علاوہ وزیر خزانہ اسد عمر نے بھی خطاب کیا تھا۔

اس تقریب کے اگلے ہی روز روپے کی قدر میں کمی کے بارے میں سوشل میڈیا پر بھی تبصرے کیے جا رہے ہیں اور آج صبح ہی سے ٹوئیٹر پر ہیش ٹیگ ڈالر ٹرینڈ کر رہا ہے۔

طحہ انیس نامی ایک صارف ڈالر کی قیمت بڑھنے پر طنزیہ انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھا، ’’اس کے روشن پہلو کو دیکھیے، اگر ہماری معیشت گر کر ’ہائیپر انفلیشن‘ کی جانب چلی گئی تو ہم سب ارب پتی ہو جائیں گے‘۔

ذیشان نامی ایک صارف کا کہنا تھا، ’’101واں روز ڈالر آج 142 روپے کا ہو گیا، بظاہر یہی لگ رہا کہ آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد شروع ہو گیا ہے۔‘‘

پاکستانی صحافی اور اینکر عمار مسعود نے بھی وزیر اعظم کی گزشتہ روز کی تقریر میں مرغیوں کے تذکرے کا سہارا لیتے ہوئے لکھا، ’’ڈالر کی اچانک قیمت بڑھ جانے کی ایک وجہ مرغیوں کی متوقع ہڑتال بھی ہو سکتی ہے۔‘‘