گجرات کے تازہ سروے نے بی جے پی کی نیند اڑا دی

سوشل میڈیا 

گجرات کے تازہ سروے کے مطابق کانگریس اور بی جے پی  میں برابر کی ٹکر ہے اور اس سر وے نے بی جے پی  کی نیند اڑا دی ہے۔

نئی دہلی :جو اوپینئن پول کچھ ماہ پہلے تک کانگریس کو گجرات میں بہت پیچھے اور بی جے پی کو بہت آگے دکھا رہے تھے اب ان اوپینئن پولس کی رائے بالکل مختلف ہے۔ جس کمپنی نے پہلے اوپینئن پول میں بی جے پی کو بہت آگے دکھایا تھا وہی اوپینئن پول اب اپنے تازہ سروے میں دکھا رہے ہیں کہ گجرات اسمبلی انتخابات میں بی جے پی اور کانگریس کو برابر کے ووٹ مل سکتے ہیں۔ اس تازہ اوپینئن پول کے مطابق کانگریس کو پٹیل، دلت، آدیواسی اور تاجر برادری کی حمایت مل سکتی ہے۔ یعنی گجرات میں کانگریس کے اچھے دن آنے کے امکان روشن نظر آ رہے ہیں۔

اگر اس تازہ اوپیینئن پول سے ملے رجحان صحیح ثابت ہوتے ہیں تو یہ خبر جتنی اچھی کانگریس کے لئے ہے اتنی ہی اچھی خبر ذاتی طور پر راہل گاندھی کے لئے بھی ہے کیونکہ راہل گاندھی کے کانگریس صدر بننے کے بعد کسی ریاست سے یہ پہلے نتائج آئیں گے۔ ایک نیوز چینل پر دکھائے گئے اوپینئن پول کے مطابق کانگریس اور بی جے پی دونوں کو ہی برابر کے ووٹ ملنے کے امکان ہیں۔ اسکے علاوہ کئی علاقوں میں کانگریس بی جے پی سے آگے ہے اور کانگریس کواس مرتبہ پٹیل اور تاجر برادری کے ووٹ ملنے کے بھی امکان ہیں۔ یہاں یہ بات بھی ذہن میں رکھنی ہوگی کے ہر نئے اوپینئن پول میں کانگریس پچھلے اوپینئن پول کے مقابلہ زیادہ اچھا کرتی نظر آ رہی ہے اس لئے جورجحان اس وقت برابری کے نظر آرہے ہیں وہ ووٹنگ کے دن تک کانگریس کی بڑھت میں تبدیل ہو سکتے ہیں ۔

اس تازہ سروے کے مطابق جنوبی گجرات، شمالی گجرات اور سوراشٹر۔ کچھ کے دیہاتی علاقوں میں کانگریس کے جیتنے کے امکانات زیادہ ہیں جبکہ سوراشٹر۔ کچھ کے شہری علاقوں میں بی جے پی کی پوزیشن بہتر ہے۔ اس کے علاوہ پٹیل، آدی واسی، دلت اور تاجر طبقہ کانگریس کے ساتھ کھڑی نظر آ رہی ہے اور کولی و اعلی ذاتیں بی جے پی کے ساتھ نظرآ رہی ہیں۔

اوپینئن پول کے اعداد و شمار کے مطابق گجرات کے چارو ریجن میں کانگریس اور بی جے پی برابر ہیں اور ان کے بیچ کانٹے کا مقابلہ نظر آ رہا ہے۔ دونوں ہی پارٹیوں کو 43-43 فیصد ووٹ ملنے کے امکان ہیں جبکہ 14فیصد ووٹ دیگر کو مل سکتے ہیں، یہاں یہ بات ذہن میں رکھنی ہوگی کہ یہ دیگر کو جانے والے ووٹ بنیادی طور پر بی جے پی مخالف ووٹ ہیں اور رجحان کو دیکھتے ہوئے اس کا کچھ فیصد کانگریس کی جانب جا سکتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ کیونکہ گزشتہ کئی ماہ کے سرووں سے یہ ظاہر ہے کہ مستقل رجحان کانگریس کے حق میں بدل رہے ہیں اس لئے ووٹنگ کی تاریخ تک کانگریس کے حق میں دو تین فیصد ووٹ اور بڑھ جاتے ہیں تو بی جے پی کانگریس سے کافی پیچھے رہ جائے گی۔

سروے کے مطابق سینٹرل گجرات کی 40 سیٹوں پر بھی کانگریس کو بڑھت ہے اور یہاں کانگریس کو 47 فیصد اور بی جے پی کو 43 فیصد ووٹ ملنے کے امکان ہیں۔ ادھر جنوبی گجرات میں بی جے پی کے لئے بہت بری خبر ہے اور یہاں کے رجحان بی جے پی کی نیند اڑا سکتے ہیں۔ ٹی وی چینل اے بی وی پی کے لئے سی ایس ڈی ایس۔ لوک نیتی کے اوپینئن پول کے اعداد و شمار بی جے پی کے لئے تشویش کا سبب ہیں۔اگر ہم صرف جنوبی گجرات کو ہی دیکھیں تو 23 نومبر سے 30نومبر کے درمیان جنوبی گجرات کے 50اسمبلی حلقوں کے 200 بوتھوں پر 3655 لوگوں سے رائے لی گئی اور لوگوں کی رائے کےمطابق یہاں کانگریس کو دو فیصد ووٹ زیادہ ملتے نظر آ رہے ہیں۔ ادھر شمالی گجرات میں کانگریس کے حصہ میں 49 فیصد اور بی جے پی کے حصہ میں محض 45 فیصد ووٹوں کے جانے کا رجحان مل رہا ہے۔ اس علاقہ کے دیہاتی علاقوں میں کانگریس کو 56 فیصد ووٹ مل سکتے ہیں جبکہ بی جے پی کو شہری علاقوں میں اچھا کرنے کی امید ہے اور سروے کے مطابق اسے 50 فیصد ووٹ مل سکتے ہیں۔ 54سیٹوں والے سوراشٹر۔ کچھ کے علاقہ میں بھی بی جے پی کی حالت خراب ہے اس کو صرف 43 فیصد ووٹ ملنے کے امکان ہیں جبکہ کانگریس کو یہاں 49 فیصد ووٹ مل سکتے ہیں۔

گجرات انتخابات میں جہاں نوٹ بندی، جی ایس ٹی اور بے روزگاری مدا ہے وہیں جگنیش،الپیش اور ہاردک کی بی جے پی مخالفت کے ساتھ ساتھ کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی کی جارحانہ انتخابی مہم نے پورے انتخابات کے رجحان کو بدل دیا ہے اور اگر نتائج ان رجحانات کے مطابق ہی آئے تو یہ راہل گاندھی کی بڑی جیت ہوگی اور وزیر اعظم نریندر مودی کی کارکردگی پر ایک ریفرنڈم ہوگا۔

اپنی خبریں ارسال کرنے کے لیے ہمارے ای میل پتہ contact@qaumiawaz.com کا استعمال کریں۔ ساتھ ہیہمیں اپنے نیک مشوروں سے بھی نوازیں۔

سب سے زیادہ مقبول