سیلاب سے تباہ کیرالہ میں خوشی اور غم کے درمیان منایا گیا ’اونم‘

کیرالہ میں آئے اس صدی کے سب سے خطرناک سیلاب کی وجہ سے ریاست کے راحت کیمپوں میں مقیم لوگوں نے کچھ دیر کے لیے اپنے غموں کو بھلا کر ’اونم‘ کا تہوار منایا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

کیرالہ ریاست کا اہم تہوار ’اونم‘ ملیالی ہندوؤں کا نیا سال بھی ہے۔ زراعت سے جڑا یہ خاص تہوار کیرالہ میں خوب دھوم دھام سے منایا جاتا ہے لیکن اس سال سیلاب سے تباہ ریاست میں اونم کا رنگ پھیکا رہا۔ حالانکہ ریاست کے الگ الگ شہروں میں راحت کیمپوں میں مقیم کیرالہ باشندوں کے آنسوؤں کو پونچھتے ہوئے وزیر اعلیٰ پینارائی وجین نے اونم کے موقع پر عوام کو خاص تحفہ دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ وجین نے اونم کے موقع پر سیلاب متاثرہ علاقے کے لوگوں کو پانچ پانچ کلو چاول دینے کا اعلان کرتے ہوئے ریاستی باشندوں کو مبارکبادیاں بھی دیں۔

سیلاب سے پوری طرح تباہ ہو چکے کیرالہ باشندوں نے اس موقع پر مندروں میں پوجا کی اور جلد ہی اس سے نجات پانے کے لیے دعا کی۔ حالانکہ اس دوران لوگوں کے چہرے پر بربادی کا درد صاف دیکھا گیا۔ لوگوں کے چہرے سے مسکان غائب رہی اور آنکھوں میں غم کا سایہ چھایا رہا۔ اونم کے موقع پر ہر سال سجائے جانے والے ریاست کے مندروں کی چمک بھی پھیکی رہی۔ ریاست کے کئی اہم مندروں کو اس سال نہیں سجایا گیا۔ ریاست کے کئی مندر اب بھی پانی میں غرق ہیں۔ سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہ الپجھا ضلع میں مندروں کے پانی میں ڈوبے ہونے کی وجہ سے ایک مسجد میں اونم کا تہوار منایا گیا۔ یہ مسجد ایک راحت کیمپ میں بدل چکا ہے۔

کئی کیمپوں میں خواتین اور مردوں نےا فسران سے کھانے کی جگہ پر خود کے لیے ’سدیا‘ بنانے کی اپیل کی جس کے بعد افسران نے لوگوں کو سبزی اور دیگر سامان مہیا کرائے۔ ’سدیا‘ کے دوران مختلف طرح کے 26 پکوان بنائے جاتے ہیں لیکن اتنے پکوانوں کا انتظام نہیں ہو پانے کے باوجود لوگ جتنا بنا پائے اسے ہی بنا کر خوش نظر آئے۔ راحت کیمپ میں مقیم بچوں نے آس پاس سے چن کر پھول کی قالین بھی تیار کی۔

قابل ذکر ہے کہ کیرالہ کا سب سے بڑا تہوار اونم راجہ بلی کے استقبال میں ہر سال منایا جاتا ہے جو پورے 10 دن تک چلتا ہے۔ کیرالہ میں 29 مئی کو مانسون شروع ہونے کے بعد سے اب تک کل 417 لوگوں کی جان جا چکی ہے۔ سیلاب سے ہوئی بربادی کے بعد لاکھوں لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ کر راحت کیمپوں میں رہنے کے لیے مجبور ہیں۔ جمعہ کے روز کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پینا رائی وجین نے بتایا تھا کہ ریاست کے چھوٹے بڑے سبھی 2787 کیمپوں میں تقریباً 8.69 لاکھ لوگ مقیم ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔