ای وی ایم اور انتظامیہ نے جتایا اے بی وی پی کو: این ایس یو آئی

دہلی یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے انتخابات میں تین سیٹوں پر اے بی وی پی نے قبضہ کیا جبکہ سیکریٹری کا عہدہ این ایس یو آئی کے ہاتھ لگا۔

ہنگامہ، ڈرامہ، توڑ پھوڑ اور دھاندلی کے الزامات کے بعد کل شام دہلی یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین (ڈوسو) انتخابت کے نتائج آئے جس میں سیکریٹری پر کانگریس کی طلباء ونگ این ایس یو آئی کو کامیابی ملی جبکہ باقی تین سیٹوں پر بی جے پی کی طلباء تنظیم اے بی وی پی کو کامیابی حاصل ہوئی۔ اے بی وی پی کے انکت بسویا کافی کڑے مقابلہ کے بعد صدر کے عہدے کے لئے جیتنے میں کامیاب ہوئے۔

نتائج کے بعد این ایس یو آئی نے بی جے پی پر الزام لگایا ہے کہ اس نے یونیورسٹی انتظامیہ، انتخابی عملہ اور ای وی ایم کے ذریعہ یہ جیت حاصل کی ہے۔ این ایس یو ائی کے صدر فیروز خان نے ٹویٹ کر کے کہا ہے ’’ جس طرح اے بی وی پی نے تما م جمہوری اقدار کو روندتے ہوئے طلباء کی رائے کو نظر انداز کرتے ہوئے انتظامیہ اور ای وی ایم کا غلط استعمال کیا ہے اس کے خلاف طلباء اور نوجوانوں کو آواز اٹھانی چاہئے‘‘۔

واضح رہے کل چھٹے راؤنڈ کی گنتی کے وقت ای وی ایم کی خرابی کا مدا ٹھا۔ ذرائع کے مطابق الزام ہے کہ ایک ای وی ایم میں سیکریٹری کے عہدے کے لئے صرف آٹھ امیدوار تھے اور اس میں دس امیدواروں کی لسٹ دکھ رہی تھی اور دسویں نمبر پر ووٹ بھی ڈالے ہوئے نظر آ رہے تھے جبکہ این ایس یو آئی کے امیدوار کو ایک بھی ووٹ نہیں تھا۔ اس پر اعتراض ہوا اور ہنگامہ شروع ہو گیا۔ ہنگامہ کی وجہ سے ووٹوں کی گنتی روک دی گئی۔ اس وقت این ایس یو آئی کا صدارتی امیدوار آگے چل رہا تھا۔ شام ساڑھے پانچ بجے دوبارہ ووٹنگ شروع ہوئی اور پھر یہ نتائج سامنے آئے۔ ای وی ایم میں خرابی کی وجہ سے ایک مرتبہ صبح میں بھی گنتی روکنی پڑی تھی۔

نتائج کے بعد اے بی وی پی کے انکت بسویا صدر، شکتی سنگھ نائب صدر ، جیوتی چودھری جوانٹ سیکریٹری کے لئے منتخب ہوئے ہیں جبکہ این ایس یو آئی کے آکاش چودھری سیکریٹری منتخب ہوئے ہیں۔

ای وی ایم کے معاملہ پر الیکشن کمیشن آف انڈیا نے وضاحت ک ہے کہ انہوں نے دہلی یونیورسٹی کو کوئی ای وی ایم فراہم نہیں کی تھی اور ان کا انتظام یونیورسٹی انتظامیہ نے اپنے طور پر کیا تھا۔

واضح رہے دہلی یونورسٹی کے ایک لاکھ پینتیس ہزار طلباء میں سے تقریبا پینتالیس فیصد طلباء نے ان انتخابات میں اپنی رائے کا اظہار کیا تھا اور اس میں کل 23 امیدوار تھے۔ این ایس یو آئی نے اپنی ہار کے لئے عام آدمی پارٹی کی طلباء تنطیم سی وائی ایس ایس کو بھی مورد الزام ٹھہرایا ہے اور اس نے کہا کہ وہ اے بی وی پی سے ملے ہوئے تھے۔

واضح رہے گزشتہ دو سال سے سی وائی ایس ایس چناؤ میں حصہ نہیں لیتی تھی کیونکہ سال 2015 میں جب وہ پہلی مرتبہ چناؤ لڑی تھی تو اس کی کارکردگی بہت خراب رہی تھی۔ اس مرتبہ اس نے این ایس یو آئی کے ووت ضرور کاٹے لیکن ایک بات واضح ہو گئی کہ نوجوان سی وائی ایس ایس کو اب ووٹ نہیں دیتے۔

سب سے زیادہ مقبول