اب نیپال میں آیا زلزلہ، ہندوستان کے کئی علاقوں میں بھی محسوس ہوئے جھٹکے

زلزلہ کا جھٹکا محسوس ہوتے ہی لوگوں میں دہشت پھیل گئی اور کئی لوگ اپنے گھروں سے باہر نکل گئے۔ فی الحال کسی جانی و مالی نقصان کی خبر سامنے نہیں آئی ہے۔

زلزلہ، علامتی تصویر یو این آئی
i
user

قومی آواز بیورو

میانمار اور جاپان میں شدید زلزلہ کے بعد اب نیپال میں زلزلہ کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔ جمعہ (4 اپریل) کی شب آئے اس زلزلہ کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.0 بتائی جا رہی ہے۔ اس زلزلہ نے نیپال کے کئی علاقوں میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ زلزلہ کا مرکز نیپال میں ہی تھا، لیکن اس کے جھٹکے شمالی ہندوستان کے کئی حصوں، خصوصاً اتر پردیش، بہار اور اتراکھنڈ میں بھی محسوس کیے گئے۔

زلزلہ کے جھٹکوں نے نیپال میں لوگوں کو دہشت زدہ کر دیا اور کئی لوگ اپنے گھروں سے باہر نکل گئے۔ ابھی تک اس زلزلہ میں کسی جانی و مالی نقصان کی خبر سامنے نہیں آئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ درمیانہ شدت کا زلزلہ تھا، لیکن اس سے مستقبل میں کسی بڑی ہلچل کے امکان سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔


نیپال چونکہ ہندوستان کا پڑوسی ملک ہے، اس لیے ہندوستان کے کئی علاقوں میں بھی زلزلہ کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ خصوصی طور پر بہار اور اتر پردیش کے وہ علاقے جو نیپال کی سرحد سے ملحق ہیں، وہاں جھٹکے کچھ زیادہ تیز تھے۔ اتر پردیش کے گورکھپور اور سدھارتھ نگر سمیت کئی اضلاع میں زلزلہ کے جھٹکوں نے عوام میں دہشت پیدا کر دی۔ کچھ میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ دہلی-این سی آر میں بھی اس زلزلہ کا اثر محسوس کیا گیا۔

قابل ذکر ہے کہ میانمار کے سگائینگ شہر میں گزشتہ جمعہ کو آئے انتہائی طاقتور زلزلہ نے تباہی کا ایسا منظر پیچھے چھوڑا ہے جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ 7.7 شدت کے زلزلہ نے کئی علاقوں میں سڑکوں کو پھاڑ دیا اور کئی عمارتیں مندہم ہو گئیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 3145 لوگوں کی موت ہو چکی ہے اور سینکڑوں افراد کے اب بھی ملبہ کے نیچے دبے ہونے کا اندیشہ ہے۔ لاشوں کی بدبو پورے علاقے میں پھیلی ہوئی ہے اور مقامی لوگ لاشیں اجتماعی قبروں میں دفنانے کو مجبور ہیں۔ ایک ہفتہ قبل آئے زلزلہ کے بعد درجنوں آفٹر شاکس بھی آ چکے ہیں اور اس کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی تعداد میں خوفزدہ لوگ کھلے آسمان کے نیچے چٹائی بچھا کر سو رہے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔