نواز شریف کی طرف سے فضل الرحمن کی حمایت کا اعلان

سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی طرف سے مولانا فضل الرحمن کے احتجاجی مارچ کی حمایت کے فیصلے نے شریف فیملی اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین ہونے والی کسی مبینہ خفیہ مفاہمت کے امکانات کی نفی کر دی ہے۔

نواز شریف کی طرف سے فضل الرحمن کی حمایت کا اعلان
نواز شریف کی طرف سے فضل الرحمن کی حمایت کا اعلان
user

ڈی. ڈبلیو

پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر ابھرتا ہوا بحران سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی طرف سے مولانا فضل الرحمن کے احتجاجی مارچ کی دو ٹوک حمایت کے فیصلے نے شریف فیملی اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین ہونے والی کسی مبینہ خفیہ مفاہمت کے امکانات کی بھی نفی کر دی ہے۔ نواز شریف نے گيارہ اکتوبر کی صبح احتساب عدالت آمد پر ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے موقف کو اپنا ہی موقف قرار ديا۔ ان کے بقول ’مولانا احتجاج کر رہے ہیں تو وہ بالکل ٹھیک کر رہے ہیں‘۔

اس سے پہلے شریف فیملی دو حصوں میں بٹی ہوئی تھی۔ شہباز شریف اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مفاہمت کی پالیسی پر چلتے ہوئے ریلیف حاصل کرنے کے حامی رہے ہيں۔ وہ مولانا فضل الرحمن کے احتجاج میں شمولیت کے حامی نہیں تھے۔ وہ ’کمر درد‘ کی وجہ سے گزشتہ روز نواز شریف سے طے شدہ ملاقات کے لیے جیل بھی نہیں گئے تھے۔ نتيجتاً نواز شریف نے اپنے بھائی اور پاکستان مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف کی بجائے لندن میں مقیم اپنے بیٹے حسین نواز کے ذریعے مولانا فضل الرحمن کے ساتھ پیغام رسانی کا سلسلہ جاری رکھا۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق شہباز شریف کے موقف کی ناکامی کی وجہ سے ملک کے ان طاقتور حلقوں کو بھی نقصان پہنچا ہے جو شہباز شریف کے ذریعے نواز شریف سے اپنی شرائط منوانے کے ليے تگ و دو کر رہے تھے۔ اب نواز شریف نے تحریری طور پر شہباز شریف کو ہدایات دی ہیں کہ وہ مولانا فضل الرحمن کے احتجاجی مارچ کو کامیاب بنانے کے لیے پارٹی کو متحرک کریں۔ اس سلسلے میں پارٹی کے سینئر رہنماؤں کا ایک ہنگامی اجلاس بھی طلب کر لیا گیا ہے۔

احتساب عدالت نے چوہدری شوگر مل کیس میں نوازشریف کو 14 روز کے لیے جسمانی ریمانڈ پر نیب کی تحویل میں دے دیا ہے۔ نواز شریف کے داماد کیپٹن ريائرڈ محمد صفدر نے اس پر کہا کہ نواز شریف جیل میں ایک ’ملاقاتی رابطے‘ کے ذریعے مولانا فضل الرحمن سے رابطے میں تھے۔ ان کوایک نئے مقدمے میں نیب بھجوانے کا اصل مقصد یہی ہے کہ ان کا رابطہ مولانا فضل الرحمن سے منقطع کیا جا سکے۔ دورانِ سماعت نوازشریف نے روسٹرم پر آ کر بیان دیا کہ وہ اس ملک میں وزیر بھی رہے اور تین مرتبہ وزیر اعظم بھی رہے۔ انہوں نے چيلنج کيا کہ پانچ مرتبہ کی وزارت میں ایک پیسے کی کرپشن ثابت کی جائے، وہ سیاست سے دستبردار ہوجائيں گے۔

نیب پراسیکیوٹر نے اپنے دلائل میں کہا کہ نوازشریف سن 1992 میں 43 ملین کے شیئرز کے مالک تھے۔ انہوں نےسن 1992 میں اتنے شیئرز کیسے حاصل کیے، یہ نہیں بتایا گیا؟ نوازشریف کو ايک کروڑ 55 لاکھ روپے سن 1992 میں بیرون ملک کی ایک کمپنی نے فراہم کیے، اس کی تفصیلات بھی موجود نہیں ہیں۔ اس کے جواب ميں نوازشریف کے وکیل امجد پرویز نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف چوہدری شوگر مل کے ڈائریکٹر اور شیئر ہولڈر کبھی بھی نہیں رہے۔ ان کے تمام تر اثاثہ جات قانون کے مطابق ہیں، نوازشریف پر سیاسی کیس بنائے گئے ہیں۔

ڈی ڈبلیو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ممتاز صحافی اور کالم نگار نوید چوہدری کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کی اسٹیبلشمنٹ نواز ہونے کی پالیسی کی ناکامی کے بعد اب مسلم لیگ نون کے پاس کوئی اور آپشن بھی نہیں بچا تھا۔ شہباز شریف نے طاقت ور حلقوں کی خوشنودی کے لیے بہت کچھ کیا لیکن اس کے باوجود ان کا ایک بیٹا جیل میں دوسرا ملک سے باہر ہے اور خود شہباز شریف بھی کسی بھی وقت گرفتار ہو سکتے ہیں۔ نوید چوہدری کے بقول پاکستان میں جس طرح ’واٹس اپ کے ذریعے ججز تبدیل ہوتے ہیں، جس طرح نیب حزب اختلاف کے پیچھے پڑا ہوا ہے، اس سے یہ واضح ہے کہ اصل لڑائی عمران خان نہیں بلکہ ان کے پیچھے بیٹھے ہوئے لوگ لڑ رہے ہیں۔‘

نوید چوہدری کے بقول جمعے کے دن نواز شریف کی پیشی کے موقع پراحتساب عدالت کے باہر بالادست طاقتوں کے خلاف جو شدید نعرے بازی ہوئی، اس کا تو ذکر بھی نہیں کیا جا سکتا لیکن اس سے یہ اندازہ ضرور لگایا جا سکتا ہے کہ پنجاب میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ جذبات کس قدر شدت اختیار کر چکے ہیں۔

پاکستان میں یہ تاثر عام ہے کہ ملک میں کوئی احتجاجی تحریک اس وقت تک کامیاب نہیں ہوتی جب تک اس کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ نہ ہو لیکن نوید چوہدری کہتے ہیں کہ اب حالات بدل چکے ہیں۔ ان کے بقول مہنگائی ، بری گوورننس اور کشمیر پر حکومت کی سفارتی ناکامی نے پاکستانی عوام کا غصہ بڑھا کر اپوزیشن کا کام کافی آسان کر دیا ہے۔ ’’اور تو اور قاضی فائز عیسی کو دو تین پیشیوں پر گھر بھیجنے کا منصوبہ بھی وکلاء کی وجہ سے کامیاب نہیں ہو سکا۔‘‘

نوید چوہدری نے مزيد کہا، ’’اگر بالادست قوتیں ساتھ ہوں، تو پتہ ہوتا ہے کہ مارچ کیسے کرنا ہے، رکنا کس جگہ ہے، اور دھرنا کیسے دینا ہے لیکن اگر یہ قوتیں ساتھ نہ ہوں تو احتجاج بہت خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔‘‘ نوید چوہدری کا خیال ہے کہ ملک ایک بڑے بحران کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ اگر اس احتجاج پر وقتی طور پر قابو بھی پالیا گیا تو خدشہ ہے کہ اس کے پیچھے آنے والا بحران تو ریاست کی بنياد ہلا کے رکھ دے گا۔