تقسیم ملک کے لئے مسلمانوں کو ناحق ذمہ دار ٹھہرایا گیا: حامد انصاری

مشہور و معروف صحافی سعید نقوی کی انگریزی کتاب Being The Other – The Muslim in India کے اردو اور ہندی ترجمہ ’وطن میں غیر – ہندوستانی مسلمان‘ کا اجراء عمل میں آیا۔

حامد انصاری (فائل فوٹو)
حامد انصاری (فائل فوٹو)
user

یو این آئی

نئی دہلی: سابق نائب صدر جمہوریہ ہند حامد انصاری کا کہنا ہے کہ ملک کی تقسیم کے لئے کسی نہ کسی کو ذمہ دار بنانا تھا لہذا اس کے لئے مسلمانوں کو ذمہ دار بنا دیا گیا اور سب نے اس کو مان بھی لیا۔ حامد انصاری نے یہ بات معروف صحافی سعید نقوی کی انگریزی کتاب Being The Other - The Muslim In India کے اردو اور ہندی ترجمے ’’وطن میں غیر: ہندوستانی مسلمان‘‘ کا اجراء کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ کتاب کا عنوان تشویش ناک ہے۔ اس تعلق سے تشریح کرتے ہوئے انہوں نے کہا’’غیر‘‘ کا مطلب سمجھنے کے لئے 1947 میں واپس جائیں، جہاں سے اس کی ابتدا ہوتی ہے۔ اس وقت دروغ گوئی کی گئی کہ تقسیم کس نے کرائی۔ کچھ کہتے ہیں کہ پاکستان نے کرائی، انگریزوں نے کرائی لیکن ہم ماننے کو تیارنہیں ہیں کہ ہم نے بھی کرائی، پٹیل نے آزادی سے چار روز پہلے تقریر کی کہ وہ تقسیم کے لئے راضی ہوگئے تھے جس میں انہوں نے کہا کہ ’’ہندوستان کو متحد رکھنے کے لئے اس کی تقسیم ضروری ہے‘‘۔ یہ حقیقت ہے لیکن کسی کو ذمہ دار بنانا تھا تو مسلمانوں کو بنا دیا گیا اور سب نے اس کو مان بھی لیا۔

سابق نائب صدر نے کہا کہ ملک میں دستور کے مطابق 22 زبانیں اور سروے کے مطابق221 زبانیں ہیں لیکن اس لسٹ میں سے ایک زبان غائب ہے جس کا نام ہندوستانی ہے اور اس کا ذکر آئین میں ہے۔ ڈاکٹر راجندر پرشاد کی کانسٹی ٹیونٹ اسمبلی میں پہلی تقریر کی زبان ’’ہندوستانی‘‘ درج ہے۔ حامد انصاری نے کہا کہ 28 اگست 1947 کو کانسٹی ٹیونٹ اسمبلی میں شیڈولڈ کاسٹ کو ہندو دھرم کا حصہ مان لیا گیا اور مسلمانوں کو اقلیت بنا دیا گیا۔ حسرت موہانی کھڑے ہوگئے اور کہا کہ میں نہیں مانتا کہ میں اقلیت ہوں۔ حامد انصاری نے کہا کہ آئین کے مبادی پر22 نومبر 1949 کو گفتگو ہورہی تھی تو اجیت پرشاد جین (کانگریس) نے کہا ’’پاکستان کے پیدا ہوجانے کی وجہ سے اب ہم کو آئین بنانے میں آسانی ہو رہی ہے‘‘۔ یوں لفظ مائنارٹی (اقلیت) ایجاد ہوگیا اور تخصیص بھی ہوگئی کہ اقلیت کون ہے۔ حامد انصاری نے مزید کہا کہ آبادی کی مردم شماری (census) کے مطابق ملک میں 20 فیصد مذہبی اقلیتیں ہیں اور ان میں سے 14 فیصد مسلمان ہیں، یوں ہر ساتواں ہندوستانی مسلمان ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیا اتنی بڑی تعد اد کو ’’غیر‘‘ بنایا جاسکتا ہے اور اگر بنا دیا گیا تو اس کے نتائج کیا ہوں گے؟۔

اس موقع پر کتاب کے ناشراور دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے شرکاء کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ انگریزوں نے 1857 کے بعد سے ’’پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی نافذ کرکے ہندؤوں اور مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خلاف بد ظن کرنے کا جو کام شروع کیا تھا، اسے بعد میں خود ہمارے درمیان ہی کچھ لوگ اور تنظیمیں کرنے لگیں اور اس کا ان کو خوب سیاسی فائدہ بھی ملا اور اب یہ ہماری سیاست کا حصہ بن چکا ہے۔ یہ کتاب اسی کسک کے بارے میں مصنف کی آپ بیتی بھی ہے اور آزادی سے لیکر اب تک ملک کی کہانی بھی۔

سعید نقوی نے کتاب اور اپنی سرگزشت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حالانکہ انہوں نے ذاتی طور سے بہت کامیاب زندگی گزاری لیکن عملی زندگی میں قدم رکھتے ہی ایسے واقعات پیش آئے جو تشویش کا باعث تھے۔ مثلاً 1960 میں جب وہ دہلی میں انڈین ایکسپریس میں کام کرنے آئے تو انہیں گھر نہیں مل رہا تھا تو کلدیپ نیر نے کہا کہ ایسے کیسے ہوگا اور انہوں نے مدد کرکے گھر دلایا۔ لیکن گھر نہ دینے والوں اور گھر دلانے پر بضد لوگوں کے درمیان تناسب مسلسل کم ہوتا چلا گیا جو بتا رہا تھا کہ مسلمانوں کو دھیرے دھیرے اپنے ہی وطن میں ’’غیر‘‘ بنایا جارہا تھا۔

مصنف نے کہا کہ 1980 سے حالات مزید خراب ہونا شروع ہوئے۔ پچھلے 70 سالوں میں اب ہم یہاں تک پہنچے ہیں کہ ’’غیر‘‘ بنانے کا عمل کافی حد تک کامیاب ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی مسلمان ایک ٹرائنگل (مثلث) میں پھنسے ہوئے ہیں اور وہ ہیں ہندو مسلم، ہندوستان پاکستان اور کشمیر کا مثلث۔ ان تینوں کو حل کئے بغیر مثلث کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ پاکستان سے اگر صلح ہوجائے تو ہندو ایشو ختم ہوجائے گا اور بہت سے لوگ یہ نہیں چاہتے ہیں۔ لیکن بہر حال مثلث کو حل کئے بغیر ہندوستانی مسلمانوں کا مسئلہ بھی حل نہیں ہوسکتا ہے۔

معروف ہندی صحافی اوم تھانوی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کتاب میں کوئی ڈراؤنی بات نہیں ہے لیکن اس میں ایک ٹیس ضرور ہے۔ یہ خود نوشت کے ساتھ ملک کی تاریخ بھی ہے۔ ملک میں اور بھی سماج ہیں جن کو اجنبی بنا دیا گیا ہے۔ اس زمانے میں بہت سے لوگوں نے اپنی سوانح عمریاں لکھی ہیں جن میں زیادہ تر اپنے بارے میں بات ہوتی ہے لیکن یہ کتاب اس سے مختلف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اردو کے خلاف زہر سو سال سے پھیلایا جارہا ہے۔ سماجوں میں جو بھید بھاؤ ہے، اسے زبان میں بھی داخل کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کچھ ایسے الفاظ کا بھی ذکر کیا جو سنسکرت اور عربی فارسی ملا کر بنائے گئے ہیں جیسے ہنسی-مذاق، شادی-بیاہ وغیرہ۔

اردو کے معروف صحافی سہیل انجم نے اس موقع پر کہا کہ خود نوشت کے ساتھ ملک کے حالات کو مصنف نے اچھی طرح سے جوڑا ہے۔ اور تقریباً تمام بڑے مسائل کا احاطہ کرلیا ہے جن میں اکثر مصنف کی ذاتی واقفیت ہے۔ انڈین اکسپریس کے ایسوسی ایٹ ایڈیٹرامرت لال نے کہا کہ کتاب شمالی ہندوستان کے تناظر میں لکھی گئی ہے جبکہ کیرالا اور بالعموم جنوبی ہند میں ایسے مسائل نہیں ہیں حالانکہ وہاں برصغیر میں سب سے پہلے اسلام آیا اور ملک کی قدیم ترین مسجد وہیں ہے۔ تقسیم کے حالات کا بھی جنوبی ہند پر کوئی خاص اثر نہیں ہوا اور اس کی وجہ سے وہاں بھائی چارہ قائم ہے یہاں تک کہ وہاں اب بھی مسلم لیگ قائم ہے۔

پروگرام میں بڑی تعداد میں دہلی کے دانشور اور صحافی شریک ہوئے جن میں ایس وائی قریشی سابق چیف الیکشن کمشنر، عبدالخالق جنرل سکریٹری لوک جن شکتی پارٹی، شاہد مہدی سابق وائس چانسلر جامعہ ملیہ اسلامیہ، مفتی عطاء الرحمٰن قاسمی، معروف وکیل محمود پراچہ وغیرہ شامل تھے۔

Published: 27 Oct 2018, 8:08 PM
next