مسلم خواتین بھی گھریلو تشدد قانون کے دائرے میں شامل

ممبئی:بامبے ہائی کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ گھریلو تشدد قانون (ڈومیسٹک وائلنس ایکٹ ) کے تحت تحفظ کا مطالبہ کر رہیں مسلم طبقہ سے وابستہ خواتین کو روکا نہیں جا سکتا۔

جسٹس بھارتی ڈانگرے نے ممبئی رہائشی مسلم نوجوان کی عرضی کو خارج کرتے ہوئے اسے اپنی دو بیویوں اور دو بچوں کے لئے 1.05 لاکھ روپے ماہانہ خرچ اور گھر کا کرایہ دینے کا حکم دیا۔ ہائی کورٹ نے فیملی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔

نوبھارت ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق مسلم نوجوان نے اپنی صفائی میں کہا تھا کہ اس کا خاندان علوی بوہرہ طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں جس پر شریعہ قوانین نافذ ہوتے ہیں ، لہذا گھریلو تشدد قانون ان پر نافذ نہیں ہوتا۔ اس پر ہائی کورٹ نے کہا کہ خصوصی انسدادگھریلو تشدد قانون کے دائرے سے مسلم خواتین کو علیحدہ نہیں کیا جا سکتا۔

جسٹس بھارتی نے کہا ’’یہ قانون گھریلو تشدد کی شکار خواتین کے حقوق کی حفاظت کرتا ہے اور اس میں کہیں ایسا نہیں کہا گیا ہے کہ وہ مسلم خواتین کو اس کے دائرے میں نہیں رکھتا ہے۔‘‘ جج نے کہا کہ قانون خواتین کے لئے بنائے گئے ہیں دوسرے قوانین سے منسلک ہے ،قانون کے التزامات میں کسی خاص مذہب سے وابستہ خواتین کو علیحدہ نہیں کیا گیا ہے۔

عدالت عالیہ نے کہا کہ کوئی شخص طلاق دینے کا دعویٰ کرنے اور دوسرا نکاح کر لینے سے ذمہ داریوں سے آزاد نہیں ہو جاتا۔ جج نے کہا کہ طلاق بھی ثابت نہیں ہو سکی ہے ، صرف عدات میں طلاق نامہ پیش کردینے سےشادی کو منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔

اس جوڑے کی شادی 1997 میں ہوئی تھی اور دنوں کے دو بچے بھی ہیں ۔ 2015 میں خاتون نے تشدد کی بنیاد پر شادی منسوخ کرنے کے لئے فیملی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ 2017 میں عائلی عدالت نے حکم دیا کہ اس شخص کو اپنی بیوی اور بچوں کے لئے ماہانہ خرچ کے طور پر 65 ہزار روپے اور مکان کے کرائے کے لئے 40 ہزار روپے دینے ہوں گے۔

سب سے زیادہ مقبول