کینیڈا کی ’موٹر سائیکل گرل‘ نے اسلام قبول کیا

بلاگر روزی گیبریئل کا کہنا ہے کہ وہ دنیا میں پاکستان کا مثبت تاثر اجاگر کرنا چاہتی ہیں۔ لیکن کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ ‘سب اچھا ہے کی‘ مارکیٹنگ کرنے والے اس قسم کے سیاح سچائی بیان نہیں کرتے۔

سوشل میڈیا
سوشل میڈیا

ڈی. ڈبلیو

روزی گبریئل نے چند روز پہلے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک تصویر پوسٹ کی، جس میں انہوں نے اپنے مہندی بھرے ہاتھوں میں قرآن تھام رکھا تھا۔ اس پوسٹ میں روزی گیبریئل نے اعلان کیا کہ انہوں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔

سوشل میڈیا پر روزی گیبریئل کے نام سے متعدد اکاؤنٹس ہیں، جن میں سے کچھ بظاہر ان کے چاہنے والوں نے بنائے اور کچھ ان کے ناقدین نے۔ روزی کے اسلام قبول کرنے کی خبر پر اکثر لوگوں نے انہیں مبارکباد دی اور خوشی کا اظہار کیا۔ تاہم بعض نے ان سے جاننا چاہا کہ اسلام میں تو کئی فرقے ہیں اور ان کا مسلک کیا ہوگا؟

روزی نے ایسے سوالوں کا کوئی واضح جواب نہیں دیا تاہم اپنے انسٹا گرام پیج پر ایک بیان میں یہ ضرور کہا کہ وہ ایک عرصے سے روحانی سکون کی تلاش میں تھیں اور مسلم ممالک میں کئی سال رہنے کے بعد پاکستان میں ان کا سفر بلآخر انہیں اسلام کی طرف لے آیا۔ انہوں نے کہا کہ 'کائنات مجھے پاکستان لے آئی اور آگے کا راستہ دکھایا‘۔

روزی گیبریئل کا کہنا ہے کہ انہیں تن تنہا دنیا گھومنے کا شوق تھا تاکہ نئے نئے لوگوں سے مل سکیں اور ان سے کچھ سیکھ سکیں۔ وہ پچھلے کئی مہینوں سے پاکستان کے طول و عرض میں گھومتے ہوئے اپنے تجربات اور مشاہدات سوشل میڈیا پر شیئر کرتی رہی ہیں۔

ان کی تصاویر پاکستان کی غیر معمولی قدرتی خوبصورتی کو اجاگر کرتی ہیں جبکہ ان کی ویڈیوز میں پاکستانیوں کا پرخلوص اخلاق، فراخدلی اور مہمان نوازی چھلکتی نظر آتی ہیں۔ پاکستان میں حالیہ برسوں میں مغربی ممالک کے نوجوان بلاگر سیاحوں کی طرف سے ملک کا مثبت تاثر دکھانے کا رجحان سامنے آیا ہے، جن میں یو ٹیوبر مارک وائینز اور پولینڈ کی خاتون بلاگر ایوا زُو برگ نمایاں ہیں۔

پاکستان میں کئی لوگ ان بلاگرز کی ملک سے محبت کو سراہتے ہیں تو ساتھ ہی کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ 'سب اچھا ہے کی‘ مارکیٹنگ کرنے والے یہ لوگ سچائی بیان نہیں کرتے اور ملک کے حقیقی دیرینہ مسائل سے نظریں چُراتے ہیں۔

ناقدین یہ بھی کہتے ہیں کہ ان بلاگرز کو صوبہ بلوچستان جیسے دور اُفتادہ اور پُر خطر علاقوں میں جانے کے لیے وسائل اور سکیورٹی مہیا کی جاتی ہے، جس کے بغیر شاید ہی کسی ملکی یا غیرملکی سیاح کے لیے وہاں جانا ممکن ہو۔