’مودی انکل پانی دو، یوگی انکل پانی دو‘، پانی کے مسئلہ سے دو چار آگرہ کے معصوم بچے سڑک پر اترے

آگرہ کی کئی کالونیوں میں پانی نہیں مل رہا ہے اور گرمی کی شدت کی وجہ سے پریشانیاں کافی بڑھ گئی ہیں۔ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ پرائیویٹ پانی ٹینکر بے حال عوام سے منمانے پیسے وصول رہے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

اتر پردیش کے آگرہ میں پانی کا مسئلہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ گرمی کی شدت بڑھنے کے ساتھ ساتھ یہ مسئلہ مزید پریشان کن ہوتا جا رہا ہے۔ حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ بچے سڑک پر اتر کر حکومت اور انتظامیہ کی توجہ اپنی بدحالی کی طرف مبذول کرانے کے لیے مجبور ہو گئے ہیں۔ مقامی لوگوں کی ناراضگی بھی یوگی حکومت کے خلاف زبردست پیمانے پر دیکھنے کو مل رہی ہے۔ 30 اپریل کو یہ ناراضگی اس وقت انتظامیہ کے لیے مشکل کا سبب بن گئی جب لوگ خالی مٹکے کے ساتھ جی ایم دفتر کے باہر جمع ہو گئے۔

میڈیا ذرائع کے مطابق جی ایم دفتر کے باہر نہ صرف پانی کی بحرانی حالت سے بے حال لوگوں نے حکومت مخالف نعرے لگائے بلکہ خالی مٹکوں کو دفتر کے سامنے پھوڑ بھی دیا۔ لوگوں نے ’جنتا کرتی ہاہاکار- جاگو جاگو ہے سرکار‘، ’پیاسی جنتا کرے پکار، پانی دو ہم کو سرکار‘ جیسے نعرے لگائے۔ اس مظاہرہ میں بچے بھی پیش پیش نظر آئے اور وہ اپنے ہاتھوں میں ’مودی اَنکل پانی دو، یوگی اَنکل پانی دو‘ اور ’ڈی ایم انکل پانی دو، جی ایم انکل پانی دو‘ جیسے نعرے لکھے تختیاں پکڑے ہوئے تھے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ آگرہ کی کئی کالونیوں میں پانی نہیں مل رہا ہے اور گرمی کی شدت کی وجہ سے پریشانیاں کافی بڑھ گئی ہیں۔ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ پرائیویٹ پانی ٹینکر بے حال عوام سے منمانے پیسے وصول رہے ہیں اور حد تو یہ ہے کہ بدبودار اور آلودہ پانی دستیاب کرائے جا رہے ہیں جو کہ بیماری کا گھر ہیں۔ خواتین کے لیے پریشانیاں اس لیے بھی بڑھ گئی ہیں کیونکہ انھیں پانی حاصل کرنے کے لیے ایک کلو میٹر یا اس سے بھی زیادہ دور جانا پڑتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ آگرہ کے جن علاقوں میں پانی کا مسئلہ سب سے زیادہ ہے ان میں نارائچ، نگلا کشن لال، شیام نگر، شوبھا نگر، وکاس نگر، ٹیڑھی بگیا، 100 فٹا روڈ رادھا نگر، اسلام نگر، فاؤنڈری نگر، شاہ گنج، کیدار نگر، بھوگی پورا، پرتھوی ناتھ پھاٹک وغیرہ شامل ہیں۔ ان سبھی علاقوں کے لوگ یوگی حکومت پر اپنی ذمہ داری سے دور بھاگنے اور بنیاد ایشوز کو چھوڑ کر بلاوجہ کے ایشوز کو اٹھانے کا الزام عائد کرتے ہیں۔

پانی سے متعلق بحرانی صورت حال پر جی ایم جلکل کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں پانی کی پائپ لائن کا انتظام نہیں ہے وہاں پانی کا مسئلہ ہے اور اسے دور کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ جی ایم نے یہ بھی بتایا کہ سکندرا واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ سے نکلی پائپ لائن میں کئی جگہ پر لیکیج ہے جس کی وجہ سے پریشانی بڑھ گئی ہے۔ اس لیکیج کو درست کیا جا رہا ہے اور اس کے بعد پریشانیاں کم ہو جائیں گی۔

next