مودی اگر کسی اور ملک کے وزیر اعظم ہوتے تو استعفی دینا پڑتا: سبل

کپل سبل کی کتاب ’شیڈس آف ٹرتھ‘ کے اجرا کے موقع پر سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے نریندر مودی کی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہے۔

تصویر سوشل میڈیا 
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے جمعہ کی شام کو نریندر مودی حکومت کو نوٹ بندی اور ملک میں بڑھتی بے روزگاری کے مدے پر گھیرا اور ان کی سخت الفاظ میں تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت ہر محاذ پر ناکام رہی ہے اور وہ اپنے انتخابی وعدوں کو پورا نہیں کر پائی ہے۔ منموہن سنگھ نے سابق وزیر کپل سبل کی کتاب ’شیڈس آف ٹرتھ‘ کے اجرا کے موقع پر ان خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر کتاب کے مصنف کپل سبل نے کہا کہ مودی حکومت نے جی ایس ٹی کو جلد بازی میں لاگو کیا جس سے تاجروں کو نقصان ہوا۔ نوٹ بندی کے فیصلے کی تنقید کرتے ہوئے سبل نے کہا کہ ’عظیم رہنما نے سال 2014 کے بعد ہمیں نوٹ بندی دی، جس سے 1.5 فیصد جی ڈی پی کا نقصان ہوا ور اگر وہ کسی اور ملک کے وزیر اعظم ہوتے تو ان کو استعفی دینا پڑتا۔

سابق وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا کہ اب ملک میں متبادل پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس حکومت کے دور میں جہاں ایک جانب کسان اور نوجوان پریشان ہیں تو دوسری جانب دلتوں اور اقلیتوں میں عدم تحفظ کا احساس ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں زراعت کا شعبہ بحران کا شکار ہے، کسان احتجاج کر رہے ہیں اور نوجوان دو کروڑ نوکریوں کے انتظار میں ہیں۔ منموہن نے الزام لگایا کہ صنعتی پیداوار اور ملک کی ترقی رک گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نوٹ بندی اور غلط ڈھنگ سے لاگو کئے گئے جی ایس ٹی کی وجہ سے ملک میں کاروبار بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ادھر انہوں نے اس پر بھی سوال کیا کہ بیرون ممالک سے کالا دھن لانے کی جو بات تھی وہ کیا ہوئی؟ انہوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ حکومت خارجہ پالیسی کے محاذ پر بھی پوری طرح ناکام رہی ہے اور اس حکومت کے دور میں پڑوسیوں کے ساتھ رشتہ خراب ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کا شعبہ پوری طرح متاثر ہے، یونیورسیٹیوں کا ماحول پوری طرح خراب ہو رہا ہے۔

سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کپل سبل کی تحریر کردہ کتاب کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ کتاب بہت تحقیق کرنے کے بعد لکھی گئی ہے اور یہ مودی حکومت کی تما م ناکامیوں کی جانب اشارہ کرتی ہے۔ یہ کتاب بتاتی ہے کہ حکومت نے جو وعدے کئے تھے وہ پورے نہیں کئے‘۔ اس موقع پر سابق نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری بھی موجود تھے۔

Published: 8 Sep 2018, 8:05 AM
next