ریاستی وزیراعلیٰ کو کٹھ پتلی کہنے والا صحافی این ایس اے کے تحت گرفتار

ایک ریاستی وزیراعلیٰ کو وزیراعظم نریندر مودی کا کٹھ پتلی کہنے پر ایک صحافی کو گرفتار کر لیا ہے۔ صحافی کا تعلق ایک ٹیلی وژن چینل سے ہے اور اُسے نیشنل سکیورٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا 
سوشل میڈیا
user

ڈی. ڈبلیو

شمال مشرقی ریاست مَنی پور کے ایک ٹیلی وژن چینل سے منسلک صحافی کشور چندر وانگ کھیم کو اس لیے گرفتار کیا گیا ہے کہ اُس نے ریاستی وزیراعلیٰ این بیرن سنگھ کو وفاقی حکومت اور وزیراعظم نریندر مودی کا کٹھ پتلی قرار دیا ہے۔ اس حوالے سے صحافی وانگ کھیم نے کئی ویڈیو کلپس سوشل میڈیا پر اپ لوڈ بھی کیے۔

گرفتار ہونے والے صحافی کے وکیل این وکٹر نے ٹیلی فون پر نیوز ایجنسی روئٹرز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل کی گرفتاری کی بنیاد کوئی نہیں اور یہ صرف حکومتی جبر ہے۔ وکٹر نے یہ بھی کہا کہ یہ حکومتی اختیار اور قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے، جو قابل مذمت ہے۔ صحافی کی گرفتاری کے خلاف اپیل دائر کر دی گئی ہے۔ اس اپیل کی سماعت ججوں کا ایک پینل جمعرات یعنی آج بیس دسمبر کو کرے گا۔

وانگ کھیم کی اہلیہ رنجیتا ایلانگبام نے نیوز ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ اُن کے شوہر کو ریاستی حکومت نے ملک کے منافی اقدامات کے تحت اکیس نومبر کو حراست میں لیا لیکن پچیس نومبر کو وہ ضمانت پر رہا کر دیے گئے۔ اس کے بعد ستائیس نومبر سے وہ دوبارہ گرفتاری کے بعد جیل میں ہیں۔ اس دفعہ انہیں نیشنل سکیورٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا ہے اور اس کے تحت وہ بغیر عدالتی کارروائی کے ایک برس تک جیل میں مقید رکھے جا سکتے ہیں۔

ہندوستان میں مختلف صحافیوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی اور وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے سوشل میڈیا پر قومی سلامتی کے تناظر میں سخت قوانین کے نفاذ پر تنقید کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اس حوالے سے ذرائع ابلاغ سے منسلک صحافی نئی دہلی میں مودی سرکار کے خلاف احتجاج کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

ہندوستان کو دنیا کے کثیر الجہت ذرائع ابلاغ کے حامل ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔ میڈیا آزادی کے عالمی انڈیکس پر ہندوستان کی پوزیشن 138ویں ہے۔ یہ باعث حیرت ہے کہ ہندوستان کا ورلڈ پریس فریڈم میں مقام افریقی ملک زمبابوے سے بھی نیچے ہے۔ اس کی وجہ سینسر شپ کے مختلف مگر سخت قوانین اور گزشتہ برسوں میں کئی صحافیوں کا قتل ہے۔