خبریں

مدرسہ اساتذہ 3 سال سے تنخواہ سے محروم، مودی حکومت کے خلاف صدائے احتجاج بلند

مدرسہ ماڈرنائزیشن ٹیچرس ایسو سی ایشن کے بینر تلے مختلف مدارس کے اساتذہ دہلی کے جنتر منتر پر جمع ہوئے اور مودی حکومت سے جلد از جلد تنخواہ کی ادائیگی کا مطالبہ کیا۔

تصویر قومی آواز

عمران خان

نئی دہلی:مودی حکومت ’سب کا ساتھ ، سب کا وکاس‘ جیسے نعروں کے ساتھ اقتدار میں آئی لیکن کچھ طبقات کے ساتھ تعصبانہ رویہ اختیار کر لیا۔ ملک بھر میں موب لنچنگ کے ذریعہ مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا اور قتل کے ملزمان کا پھولوں سے استقبال کیا گیا۔ دوسری طرف تعلیمی شعبہ میں بھی تعصبانہ رویہ اختیار کیا گیا اور مدرسہ کے اساتذہ کی تنخواہیں دینا بند کر دیں۔ بدھ کے روز یوم اساتذہ کے موقع پر اتر پردیش کے مختلف اضلاع کے مدرسوں کے اساتذہ جنتر منتر پر اکٹھا ہوئے اور حکومت کے خلاف ناراضگی کا اظہار کیا۔

مدرسہ ماڈرنائزیشن ٹیچرس ایسوسی ایشن کے بینر تلے تنظیم کے قومی صدر اعجاز احمد کی قیادت میں جنتر منتر پہنچے مدرسہ اساتذہ نے کہا کہ حکومت نے تقریباً 30 مہینے سے ان کی تنخواہیں واگزار نہیں کی ہیں جس کی وجہ سے کئی خاندان فاقہ کشی کے حال میں اپنے دن گزار رہے ہیں۔ اس دوران مظاہرین نے سابق وزیر اعظم اٹل بہارئی واجپئی کو خراج عقیدت بھی پیش کی اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی ۔

مدرسہ ماڈرنائزیشن ٹیچرس ایسوسی ایشن کے قومی صدر اعجاز احمد نے کہا ’’ حکومت نے مدرسوں میں نیا نصاب تو نافذ کر دیا لیکن اس جدید نصاب کو پڑھانے والے اساتذہ کی تنخواہ نہیں دیں۔ آج 30 مہینے ہو گئے ، کئی اساتذہ کے خاندان فاقہ کشی کی دہانے پر پہنچ گئے ہیں لیکن حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی۔ ڈی ایم سے لے کروزیر تک سے گُہار لگائی جا چکی ہے لیکن تنخواہ جاری نہیں کی گئی۔‘‘

واضح رہے کہ مرکز کی مدرسہ جدیدکاری اسکیم کے تحت صوبہ کے سینکڑوں مدارس کو فنڈ ملتا ہے۔ ان میں اساتذہ کے دو زمرے ہیں۔ پہلے زمرے میں گریجویٹ ٹیچر اور دوسرے زمرے میں پوسٹ گریجویٹ ٹیچر آتے ہیں۔ ان مدارس میں جدید سبجیکٹ پڑھانے کے لئے اساتذہ کو مرکزی حکومت تنخواہ دیتی ہے جس میں ریاستی حکومت بھی اپنی طرف سے کچھ حصہ جوڑتی ہے۔

گریجوایٹ ٹیچر کو2 ہزار روپے ریاست کی جانب سے اور 8 ہزار روپے مرکز کی جانب سے ادا کئے جاتے ہیں جبکہ پوسٹ گریجوایٹ ٹیچر کو 3 ہزار روپے ریاست اور 12 ہزار روپے مرکز کی جانب سے ادا کئے جاتے ہیں۔ مرکزی حکومت کی جانب سے اساتذہ کو جو حصہ دیا جاتا ہے وہ تقریباً 30 مہینے سے ادا نہیں کیا گیا ہے۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ ان کے گھر کا خرچ کس طرح چلے، حکومت کو اس کی پرواہ ہونی چاہئے ۔ اعجاز احمد نے کہا کہ مدارس کا استعمال صرف اور صرف سیاست چمکانے کے لئے ہو رہا ہے اور ووٹوں کے لئے تقسیم کاری کی جا رہی ہے۔

احتجاج میں شامل کشی نگر کے مدرسہ قادریہ دارالفلاح کے استاد نور العین انصاری نے کہا ’’کسی ٹیچر کو اگر 30 مہینے سے تنخواہ نہ ملے تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ وہ گھر کا خرچ کس طرح چلا پائے گا۔ کچھ اساتذہ کو تنخواہ ملے تو 48 مہینے ہو چکے ہیں۔ اساتذہ کی حالت اتنی خراب ہے کہ ان کے پاس یہاں دہلی آنے کا کرایہ تک نہیں ہے ورنہ یہاں جنتر منتر پر اور بھی بڑا مجمع نظر آ رہا ہوتا۔ ‘‘

کشی نگر کے ہی آفتاب عالم کہتے ہیں کہ ’’ہمیں لگتا ہے جب بھی مدرسہ اساتذہ کی تنخواہیں ادا کرنے کی فائل کسی وزیر یا افسر کے ہاتھ میں پہنچی ہوگی اس نے کسی خاص نظریہ کے تحت فائل کو روکا ہوگا۔ ‘‘

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا مدرسہ اساتذہ کے ساتھ اس لئے تعصب ہو رہا ہے کیوں کہ وہ مسلمان ہیں... مہاراج گنج سے آئے ٹیچر شمیم انصاری نے کہا ’’ یوں تو مرکز کی موجودہ حکومت مسلمانوں کے تئیں ہر شعبہ میں تعصبانہ رویہ اختیار کئے ہوئے ہے لیکن حکومت میں بیٹھے لوگوں کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ مدارس اسلامیہ کے تقریباً 33 فیصد اساتذہ ہندو مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ تنخواہ نہ دینے کی وجہ سے سینکڑوں ہندو ٹیچروں کو بھی تو پریشانی ہو رہی ہے۔‘‘

Published: 5 Sep 2018, 9:59 PM