کٹھوعہ-اُنّاؤ ایشو LIVE : ہندوستان کی کئی ریاستوں میں عوام سڑک پر اترے

مسلم خواتین بھی پارلیمنٹ اسٹریٹ پر جمع ہوئیں

برقع نشیں مسلم خواتین نے بھی پارلیمنٹ اسٹریٹ پر جمع ہو کر عصمت دری متاثرین کو انصاف دلانے کا مطالبہ کیا اور ملک میں خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے موم بتی جلا کر مظاہرہ بھی کیا۔

بھوک ہڑتال پر بیٹھی سواتی مالیوال سے ملنے پہنچے کیجریوال

خواتین کے خلاف بڑھ رہے مظالم سے ناراض دہلی ویمنس کمیشن کی سربراہ سواتی مالیوال گزشتہ تین دنوں سے راج گھاٹ پر بھوک ہڑتال پر بیٹھی ہوئی ہیں۔ آج بھوک ہڑتال کےت یسرے دن دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال ان سے ملاقات کے لیے پہنچے۔

خواتین کے تحفظ کے لیے کوئی بل کیوں نہیں؟

دہلی کے پارلیمنٹ اسٹریٹ پر عمر دراز خواتین کے ساتھ ساتھ بچے بھی مرکزی حکومت سے یہ سوال کر رہی ہیں کہ خواتین کے تحفظ سے متعلق پارلیمنٹ میں کوئی بل کیوں نہیں پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ سوال انھوں نے پلے کارڈ پر لکھ رکھا ہے جو وہ اپنے ہاتھوں میں لیے ہوئی ہیں۔

اُناؤ کیس میں ششی سنگھ کو حراست میں لیا گیا

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اُناؤ کیس معاملے میں ملزم بی جے پی ممبر اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر کی قریبی ششی سنگھ کو 4 دن کے لیے پولس حراست میں بھیجا گیا۔

مہاراشٹر میں عآپ اراکین نے ’آصفہ ہم شرمندہ ہیں...‘ کا نعرہ بلند کیا

مہاراشٹر میں عام آدمی پارٹی کارکنان نے سڑکوں پر اتر کر ’آصفہ ہم شرمندہ ہیں، تیرے قاتل زندہ ہیں‘ کا نعرہ لگایا اور ساتھ ہی حکومت سے اس کے لیے انصاف کا مطالبہ بھی کیا۔

کیرالہ: تریویندرم میں عوام کا خاموش احتجاج

کیرالہ کے تریویندرم شہر سے کئی مقامات پر خاموش احتجاجی مظاہروں کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ یہاں والدین اپنے بچوں کے ساتھ سڑکوں پر اترے ہیں اور متاثرین کو انصاف دینے کے ساتھ ساتھ ہندوستان کو خواتین کے لیے محفوظ مقام بنانے کا بھی مطالبہ کیا۔

آل انڈیا مہیلا کانگریس نے بھی صدا بلند کی

آل انڈیا مہیلا کانگریس نے آج ملک کی مختلف ریاستوں میں ہو رہے احتجاج کی حمایت کی ہے اور اس سلسلے میں ایک ٹوئٹ کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قصورواروں کی غلطی کی پردہ پوشی نہ کریں بلکہ انھیں سزا دلائیں۔ ساتھ ہی اس ٹوئٹ میں دہلی، بنگلورو، ممبئی سمیت پورے ہندوستان میں جاری احتجاج اور اس میں بچوں کی شمولیت کا تذکرہ کرتے ہوئے عوام سے کہا گیا ہے کہ اپنی آواز اٹھائیں اس سے پہلے کہ تاخیر ہو جائے۔

دہلی: پارلیمنٹ اسٹریٹ پر بچے مانگ رہے ہیں انصاف

دہلی میں پارلیمنٹ اسٹریٹ پر کافی تعداد میں لوگ جمع ہو گئے ہیں اور یہاں بچوں کی بھی کثیر تعداد دیکھنے کو مل رہی ہے جو نابالغ بچیوں کے ساتھ ہوئی عصمت دری کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں اور انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ممبئی میں مرد و خواتین سراپا احتجاج

ممبئی میں باندرا واقع کارٹر روڈ پر کثیر تعداد میں مرد و خواتین کٹھوعہ اور اُناؤ عصمت دری کے خلاف جمع ہو چکے ہیں۔ احتجاج کرنے والوں میں الگ الگ مذاہب و مسالک سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں اور سبھی حکومت کے خلاف احتجاج میں متحد نظر آ رہے ہیں۔

نئی دہلی: پٹیل چوک میٹرو اسٹیشن پر عآپ کا مظاہرہ

کٹھوعہ اور اناؤ اجتماعی عصمت دری کیس کے خلاف دہلی میں عام آدمی پارٹی لیڈروں اور کارکنان بھی سڑکوں پر اتر چکے ہیں۔ بڑی تعداد میں عآپ کے کارکنان پٹیل چوک پر جمع ہوئے اور نریندر مودی حکومت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا۔

لکھنؤ میں کالج طلبا اور سماجی کارکنان بھی سڑکوں پر اترے

لکھنؤ کے حضرت گنج جی پی او واقع گاندھی پارک میں بڑی تعداد میں لوگ کٹھوعہ اور اناؤ عصمت دری معاملہ کے خلاف سڑکوں پر اترے اور انصاف کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین میں طلبا، سماجی کارکنان اور لیفٹ کی کئی تنظیموں نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر لکھنؤ یونیورسٹی کی سابق وائس چانسلر روپ ریکھا ورما ورما پیش پیش دیکھی گئیں اور مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ملک میں خواتین پر ہو رہے مظالم پر تشویش کا اظہار کیا۔

احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتی ہوئیں لکھنؤ یونیورسٹی کی سابق وائس چانسلر روپ ریکھا ورما

احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتی ہوئیں لکھنؤ یونیورسٹی کی سابق وائس چانسلر روپ ریکھا ورما

کٹھوعہ-اناؤ معاملہ اور عصمت دری کے بڑھتے واقعات کے خلاف ملک گیر احتجاجی مظاہرہ

آج پورے ہندوستان میں بڑے پیمانے پر لوگوں کے ذریعہ احتجاجی مظاہرہ دیکھنے کو مل رہا ہے اور اس میں نئی دہلی، ممبئی، کولکاتا، بنگلورو سمیت کئی دیگر ریاستیں شامل ہیں۔ یہ احتجاجی مظاہرہ جموں و کشمیر کے کٹھوعہ اور اتر پردیش کے اُنّاؤ اجتماعی عصمت دری معاملے کے منظر عام پر آنے کے بعد اور بی جے پی لیڈروں و کارکنان کے ذریعہ متاثرین کی جگہ ملزمین کے حق میں آواز اٹھانے کے خلاف کیا جا رہا ہے۔ ملک میں عصمت دری، خصوصاً نابالغ بچیوں کی عصمت دری اور قتل جیسے معاملات میں لگاتار ہو رہے اضافے سے ملک کے عوام تشویش میں مبتلا ہیں اس لیے وہ سڑکوں پر نکل کر اپنا احتجاج درج کرا رہے ہیں۔ نئی دہلی، ممبئی سمیت دیگر ریاستوں میں آج 5 بجے کے بعد احتجاج درج کرنے کا فیصلہ لیا گیا تھا جہاں اس وقت کافی تعداد میں لوگ جمع ہو گئے ہیں اور وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں۔ کئی مقامات پر لوگ آصفہ کے لیے انصاف کا مطالبہ کرنے والے بینر ہاتھ میں لیے کھڑے دیکھے جا رہے ہیں۔

سب سے زیادہ مقبول