24 سال پرانے قتل معاملہ میں بی جے پی لیڈر سمیت 4 کو تاحیات قید

بی جے پی لیڈر ابھے سیٹھ کے ساتھ ساتھ علی گنج ویاپار منڈل کے سابق جنرل سکریٹری اشوک مشرا اور علی گنج تھانہ میں تعینات رہے دو کانسٹیبل کو عمر قید کی سزا اور 10-10 ہزار روپے جرمانہ کی سزا ملی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

علی گنج میں 1994 میں ہوئے گوپال مشرا قتل معاملے میں جمعہ کے روز بی جے پی لیڈر اور اس وقت کے ڈپٹی میئر ابھے سیٹھ کو تاحیات قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ 24 سال بعد اس کیس میں ہوئے فیصلہ میں بی جے پی لیڈر کے علاوہ علی گنج ویاپار منڈل کے اس وقت کے جنرل سکریٹری اشوک مشرا اور علی گنج تھانہ میں تعینات رہے کانسٹیبل رام چندر سنگھ چندیل اور شیو بھوشن تیواری کو بھی عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ عدالت نے اس کے ساتھ ہی چاروں مجرمین پر 10-10 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ اس کیس میں علی گنج کے اس وقت کے ایس. او. ڈی ایس راٹھوڑ اور کانسٹیبل منشی لال بھی ملزم تھے لیکن ان دونوں کی مقدمے کی سماعت کے دوران ہی موت ہو چکی ہے۔

دراصل علی گنج پولس نے 26 فروری 1994 کو انکاؤنٹر میں گوپال مشرا کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس انکاؤنٹر کے بارے میں پولس عملہ کا کہنا تھا کہ گوپال مشرا نے ان پر قاتلانہ حملہ کیا تھا جس کے جواب میں انھوں نے اپنی جان بچانے کے لیے گولی چلائی جس سے گوپال کی موت ہو گئی۔ لیکن اس معاملے میں گوپال مشرا کے فریق کا کہنا ہے کہ سنٹرل سروس سے سبکدوش ملازم سدگرو شرن مشرا کا اکلوتا بیٹا گوپال مشرا 26 فروری کو چودھری ٹولہ میں حاجرہ بیگم کی بہن محسنہ کے گھر پر تھا۔ اس کی ماں امبیشوری وہاں پہلے سے ہی موجود تھی۔ اسی وقت اشوک مشرا اپنے مکان سے محسنہ کے مکان میں کود پڑا۔ سامنے کے دروازے سے علی گنج کے ایس. او. راٹھوڑ اور دیگر پولس اہلکار جبراً اندر آ گئے۔ دروازے پر بی جے پی لیڈر ابھے سیٹھ بھی تھا۔ اشوک کے اشارے پر راٹھوڑ اور دیگر پولس والوں نے گوپال کو گولیوں سے چھلنی کر دیا۔ فریق استغاثہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ فرضی انکاؤنٹر کے بعد اشوک نے ایک چھوٹی سی بندوق اور گولیاں راٹھوڑ کی طرف بڑھائی اور راٹھوڑ نے فائر کر کے اسے مردہ گوپال کے ہاتھ کے نیچے رکھ دیا۔

استغاثہ کے مطابق فرضی انکاؤنٹر کے بعد اشوک نے وہاں موجود لوگوں کو گالیاں دیتے ہوئے منھ نہ کھولنے کی دھمکی بھی دی لیکن لوگوں نے اس کے خلاف آواز اٹھائی۔ گوپال مشرا کے والد ستگرو شرن مشرا نے اس انکاؤنٹر پر انگلی اٹھاتے ہوئے وزیر اعلیٰ وک عرضی دی جس پر وزیر اعلیٰ نے 4 مارچ 1994 کو اس کی جانچ کا حکم صادر کیا۔ سی بی سی آئی ڈی نے اس معاملے پر غور کیا اور قتل کا معاملہ تصور کرتے ہوئے بی جے پی لیڈر و سابق ڈپٹی میئر ابھے سیٹھ، اشوک مشرا، سابق ایس. او. راٹھوڑ، منشی لال، رام چندر اور شیو بھوشن کے خلاف 27 ستمبر 2008 کو چارج شیٹ لگاتے ہوئے بتایا کہ کروڑوں کی زمین پر قبضہ کرنے کے لیے گویل مشرا کا فرضی انکاؤنٹر کیا گیا۔

سرکاری وکیل شیلندر یادو اور رام سوروپ کے مطابق اشوک مشرا تجارتی کمپلیکس بنواتا تھا۔ ڈنڈئیا بازار کے پاس مانس کمپلیکس بھی اس نے بنوایا ہے۔ اشوک کی نظر اس مانس کمپلیکس سے کچھ دوری پر بسے چودھری ٹولہ علاقے پر تھی۔ اشوک وہاں اپنا کمپلیکس بنوانا چاہتا تھا۔ اس زمین پر کئی مزدور فیملی رہتے تھے۔ یہاں حاجرا بیگم ’راجہ رام موہن رائے مشن‘ نام سے ادارہ چلاتی تھیں۔ یہ ادارہ مظلوم خواتین کے لیے کام کرتی تھی۔ امبیشوری بھی اس ادارہ کی سرگرم رکن تھیں۔ اشوک چاہتا تھا کہ گوپال اور اس کی ماں اس مشن کا ساتھ چھوڑ دیں، لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ اس کے برعکس گوپال نے غیر قانونی قبضہ کی مخالفت کی اور مزدوروں کو متحد کر دیا۔ اشوک مشرا نے خود کو اس سے بے عزت محسوس کیا جس کی وجہ سے گوپال کو فرضی انکاؤنٹر کے ذریعہ مروا ڈالا۔