’اوریکل‘ میں پھر ہوئی چھنٹنی، صبح سویرے آنکھ کھلی اور چلی گئی ملازمت، اے آئی کا اثر صاف نظر آ رہا
اوریکل کمپنی نے جن لوگوں کو ملازمت سے نکالا ہے، ان لوگوں نے سوشل میڈیا پر پوسٹ شیئر کر اس کی جانکاری دی ہے۔ لنکڈ اِن اور ریڈٹ وغیرہ پر کئی لوگوں نے اپنی پریشانی بیان کی ہے۔

’اوریکل‘ میں ملازمین کی چھنٹنی کا مزید ایک دور شروع ہو چکا ہے۔ اچانک اس چھنٹنی سے کئی ملازمین حیران ہیں۔ 14 ستمبر سے چھنٹنی کا یہ عمل شروع ہوا ہے اور کئی ملازمین کو صبح آنکھ کھولتے ہی پتہ چلا کہ ان کی ملازمت جا چکی ہے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ اس سے قبل بھی کمپنی نے 21 ہزار ملازمتیں ختم کی تھیں۔ اب نئی چھنٹنی سے ’اوریکل‘ کے ملازمین میں چہ می گوئیاں شروع ہو گئی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ملازمین کو صبح سویرے ای میل بھیج کر بتایا گیا کہ کمپنی میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی جا رہی ہیں اور ان کی ملازمت ختم کی جا رہی ہے۔ ’اوریکل‘ نے جن لوگوں کو ملازمت سے نکالا ہے، ان لوگوں نے سوشل میڈیا پر پوسٹ جاری کر اس بارے میں جانکاری دی۔ لنکڈ اِن اور ریڈٹ وغیرہ پر انھوں نے اپنی ملازمت جانے کی اطلاع شیئر کی ہے۔ کئی لوگوں نے ویڈیوز بھی پوسٹ کیں اور کمپنی کی تازہ کارروائی کے بارے میں معلومات شیئر کی ہیں۔ ’اوریکل‘ کی جانب سے ابھی تک کوئی سرکاری اطلاع نہیں دی گئی ہے کہ تازہ چھنٹنی میں کتنے ملازمین کو ملازمت سے نکالا گیا ہے۔
’اوریکل‘ میں یہ چھنٹنی ایسے وقت ہو رہی ہے، جب کمپنی مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور کلاؤڈ سروسز کی طلب پوری کرنے کے لیے اپنے ڈاٹا سنٹر کے بنیادی ڈھانچے میں توسیع کر رہی ہے۔ ساتھ ہی کمپنی اخراجات کم کرنے اور افرادی قوت کو نئے سرے سے منظم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ’اوریکل‘ نے قبل میں یہ بتایا بھی ہے کہ اس نے 30 ارب ڈالر سے زیادہ کے اضافی اے آئی کلاؤڈ معاہدے کیے ہیں۔ اس سے کمپنی کو آمدنی میں زبردست فائدہ ہونے کی امید ہے۔
قابل ذکر ہے کہ 31 مئی 2026 تک ’اوریکل‘ نے عالمی سطح پر ملازمین کی تعداد میں تقریباً 13 فیصد کمی کی تھی، جس میں 21 ہزار ملازمین شامل تھے۔ کمپنی کی سالانہ فائلنگ کے مطابق کمپنی میں تقریباً 1.41 لاکھ ملازمین تھے، جبکہ ایک سال پہلے یہ تعداد 1.62 لاکھ تھی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
