’اوریکل‘ میں پھر چھنٹنی کی تیاری، پہلے ہی رواں سال جا چکی ہیں 21 ہزار ملازمتیں، اے آئی بن رہی وجہ

کمپنی رواں سال پہلے ہی بڑے پیمانے پر ملازمتوں میں کمی کر چکی ہے۔ مالی سال 2026 کے دوران ’اوریکل‘ کے ملازمین کی تعداد تقریباً 21,000 کم ہو گئی، جو اس کی مجموعی افرادی قوت کا تقریباً 13 فیصد ہے۔

<div class="paragraphs"><p>’اوریکل‘، تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i

مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق بڑھتی ہوئی مسابقت جہاں کمپنیوں کو اربوں ڈالر خرچ کرنے پر مجبور کر رہی ہے، وہیں اس کا اثر ملازمین کی ملازمتوں پر بھی نظر آنے لگا ہے۔ رواں سال تقریباً 21 ہزار ملازمین کی چھنٹنی کرنے کے بعد امریکی ٹیک کمپنی ’اوریکل‘ ایک اور بڑی چھنٹنی کی تیاری کر رہی ہے۔ ’بزنس انسائیڈر‘ کی رپورٹ کے مطابق کمپنی رواں ماہ ملازمین کی تعداد مزید کم کر سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ’اوریکل‘ نے اپنے مینیجرز سے ایسے ملازمین کی شناخت کرنے کو کہا ہے، جن کی ملازمتیں مجوزہ چھنٹنی کی زد میں آ سکتی ہیں۔ یہ عمل کمپنی کی دوسری مالی سہ ماہی شروع ہونے سے پہلے، یعنی یکم ستمبر سے پہلے مکمل کیے جانے کی توقع ہے۔ کچھ ٹیموں میں ملازمین کی تعداد میں دوہرے ہندسے کی شرح تک کمی کیے جانے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔


یہ خبر اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ کمپنی رواں سال پہلے ہی بڑے پیمانے پر ملازمتوں میں کمی کر چکی ہے۔ مالی سال 2026 کے دوران ’اوریکل‘ کے ملازمین کی تعداد تقریباً 21,000 کم ہو گئی، جو اس کی مجموعی افرادی قوت کا تقریباً 13 فیصد ہے۔ اس کمی کے بعد کمپنی میں تقریباً 1.41 لاکھ ملازمین رہ گئے ہیں۔ ایسے میں نئی چھنٹنی اوریکل کی افرادی قوت کو مزید کم کر سکتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ’اوریکل‘ میں چھنٹنی کی خبر ایسے وقت سامنے آئی ہے، جب کمپنی اے آئی سے متعلق بنیادی ڈھانچے پر بڑے پیمانے پر خرچ کر رہی ہے۔ مالی سال 2026 میں کمپنی نے اے آئی انفراسٹرکچر پر تقریباً 55.7 ارب ڈالر خرچ کیے۔ اس بھاری سرمایہ کاری کو جاری رکھنے کے لیے کمپنی نے تقریباً 43 ارب ڈالر کا قرض بھی لیا ہے۔ اس کے علاوہ موجودہ مالی سال میں اوریکل قرض اور ایکویٹی کے ذریعے تقریباً 40 ارب ڈالر مزید جمع کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ یعنی کمپنی ایک طرف اے آئی اور کلاؤڈ کاروبار کی صلاحیت بڑھانے کے لیے بھاری سرمایہ لگا رہی ہے، تو دوسری طرف ملازمین سے متعلق اخراجات کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔


’اوریکل‘ کے لیے صورتحال مکمل طور پر منفی نہیں ہے۔ کمپنی کی کلاؤڈ خدمات کی طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اے آئی کمپیوٹنگ کی صلاحیت کی ضرورت اس کے کاروبار کو آگے بڑھا رہی ہے۔ لیکن اے آئی انفراسٹرکچر میں کی جانے والی بڑی سرمایہ کاری نے سرمایہ کاروں کے درمیان تشویش بھی بڑھا دی ہے۔ اس کا اثر کمپنی کے شیئرز پر بھی پڑا ہے اور اس سال اوریکل کے شیئرز میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی ہے۔

سامنے آنے والی نئی چھنٹنی کی خبروں کے حوالے سے ’اوریکل‘ یا اس کے حکام کی جانب سے ابھی تک کوئی عوامی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ اس لیے کتنے ملازمین کی چھنٹنی کی جائے گی، اس کی مجوزہ تعداد فی الحال واضح نہیں ہے۔ تاہم، کمپنی کے مالی اعداد و شمار سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ تنظیم نو کی لاگت میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کی جون میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ’اوریکل‘ نے مالی سال 2026 میں ملازمت سے علیحدگی اور دیگر تنظیم نو کے اخراجات پر 1.84 ارب ڈالر خرچ کیے۔ ایک سال پہلے یہ رقم صرف 37.4 کروڑ ڈالر تھی۔ ایسے میں اگر اس ماہ نئی چھنٹنی ہوتی ہے، تو یہ ’اوریکل‘ کی اے آئی پر مرکوز توسیعی حکمت عملی اور اخراجات کم کرنے کی کوشش کے درمیان بڑھتے ہوئے توازن کی ایک اور علامت ہوگی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔