کیجریوال اسٹائل دھرنے سے جھكے ڈی یو کے وائس چانسلر

مجلس عاملہ کے تین ارکان سمیت چار افراد کے وائس چانسلردفتر میں دھرنے پر بیٹھنے کے بعد وائس چانسلر تیاگی نے دہلی یونیورسٹی استاد یونین (ڈوٹا) کے لیڈروں کو بات چیت کے لئے مدعو کیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: دہلی یونیورسٹی کی مجلس عاملہ کے ارکان کے کجریوال اسٹائل کے دھرنے کے بعد وائس چانسلر یوگیش کمار تیاگی نے ہفتہ کی رات اساتذہ کے ساتھ آٹھ گھنٹے تک میراتھن میٹنگ کی، جس میں انہوں نے اساتذہ کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے مطالبات کو پورا کرنے کے لئے وہ پوری کوشش کریں گے۔

مجلس عاملہ کے تین ارکان سمیت چار افراد کے وائس چانسلر کے دفتر میں دھرنے پر بیٹھنے کے بعد تیاگی نے دہلی یونیورسٹی استاد یونین (ڈوٹا) کے لیڈروں کو بات چیت کے لئے مدعو کیا اور شام تین بجے سے لے کر رات تقریباً 11 بجے تک ان کے ساتھ میٹنگ کی۔میٹنگ میں وائس چانسلر کے علاوہ پرو وائس چانسلر، ڈین، رجسٹرار سمیت یونیورسٹی کے چھ افسران نے ڈوٹا صدر راجیو رے سمیت چار عہدیداروں سے طویل بات چیت کی۔

ڈوٹا کے جوائنٹ سکریٹری آلوک رنجن پانڈے نے ’یو این آئی‘ کو بتایا کہ بات چیت کافی مثبت رہی اور تیاگی نے اس بات کے اشارے دئیے کہ کالجوں کے کھلنے کے بعد تمام ایڈہاك اساتذہ کی نوکری جاری رہے گی اور روسٹر سسٹم میں کوئی تبدیلی اور ریزرو اسامیوں کی تعداد میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔

پانڈے نے یہ بھی کہا کہ ترقی کے معاملے میں بھی تیاگی نے اساتذہ کے مطالبات پر اتفاق کیا۔ انہوں نے کہا کہ تیاگی کے ساتھ ہو نے والی بات چیت کے بعد ڈوٹا اپنی ورکنگ کمیٹی اور اس کے بعد اپنی جنرل باڈی کی میٹنگ میں بات چیت کی تفصیلات کو رکھے گی اور اس کے بعد ہی یہ فیصلہ لیا جائے گا کہ جواب کاپیوں کی جانچ کا بائیکاٹ ختم کیا جائے گا یا نہیں۔

قابل غور ہے کہ ڈوٹا یونیورسٹی گرانٹ کمیشن (یو جی سی) کے پانچ مارچ کے نوٹیفکیشن کو واپس لینے کا مطالبہ کر رہی ہے جس میں روسٹر سسٹم میں تبدیلی لا کر محفوظ اسامیوں کی کمی کی بات کہی گئی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔