کیرالہ: سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے سے اب تک 33 افراد ہلاک، امدادی کام جاری

کیرالہ میں سیلاب اور لینڈسلائڈنگ سے مچی تباہی کے بعد بڑے پیمانے پر امدادی کام جاری ہے، وہیں اڈوکی ڈیم میں اتوار کو آبی سطح میں کمی آئی ہے، ڈیم کی آبی سطح اب 2,399.28 فٹ ہے۔

کیرالہ میں بھاری بارش، سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے بعد ہنگامی سطح پر امدادی کام جاری ہے، فوج اور بحریہ کی ٹیمیں بڑے سطح پر راحت اور بچاؤ کے کام میں لگی ہوئی ہیں، کیرل کے وزیر اعلی پنرائی وجين نے بتایا کہ اب تک 33 لوگوں کی موت ہو چکی ہے، وہیں 6 لوگ ابھی بھی لاپتہ ہیں، جن تلاش کی جا رہی ہے، انہوں نے کہا کہ ریاست میں اس طرح کی شدید تباہی آج تک نہیں دیکھی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس دکھ کی گھڑی میں پوری ریاست ایک ساتھ ہے اور جو بھی ضروری ہوگا اس کے لئے ہر طرح کے اقدام اٹھائے جائیں گے۔

وزیر اعلی نے کہا، ’’ریاست کی پولس، این ڈی آر ایف اور فوج کی ٹیمیں امدادی کام میں لگی ہوئی ہیں، وزیر اعظم نے بھی فون کیا تھا، انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت ہو گی تو اور بھی مدد دی جائے گی‘‘۔

وہیں اڈوکی ڈیم میں اتوار کو آبی سطح میں کمی آئی ہے، ڈیم کی آبی سطح اب 2,399.28 فٹ ہے۔ اگرچہ ایناركلم اور ترشور اضلاع کے کئی حصے اب بھی ڈوبے ہوئے ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق، ہفتے کی صبح 24 گھنٹے کی مدت میں اِڈوکی ضلع میں 90 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، ڈیم کی آبی سطح ابھی 2،400 فٹ کے نشان سے نیچے ہے لیکن ضلع انتظامیہ نے کہا کہ ڈیم کے پانچ دروازوں کو بند کرنے کا فیصلہ بارش کے نہ ہونے پر انحصار کرے گا۔

فی الحال ڈیم کے تمام پانچوں دروازے کھلے ہیں اور ایک سیکنڈ میں 7.50 ملین لیٹر پانی پیریار ندی میں جا رہا ہے، جو کہ تِرشور اور ایناركلم اضلاع کے حصوں کو چھوتی ہے، سیلاب آنے کے نتیجے میں 10،000سے زیادہ لوگوں کو ان کے گھروں سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔

وہیں ایناركلم اور تِرشور کے حکام نے اتوار کو کہا کہ ابھی صورتحال کنٹرول میں ہے اور دریا کے پانی کی سطح کم ہوئی ہے، کچھ لوگ اگر اپنے گھر واپس آنا چاہیں تو آسکتے ہیں، ایناركلم کے ایک امدادی کیمپ میں ایک سرکاری اہلکار نے بتایا ’’خاندانوں کی واپسی سے قبل محکمہ صحت کے حکام اور مختلف رضاکار ان گھروں میں جائیں گے اور وہاں کی صفائی وغیرہ کریں گے‘‘۔

سب سے زیادہ مقبول