کٹھوعہ معاملہ: طالب حسین کو خوفزدہ کرنے کی کوشش

سماجی کارکن اور کٹھوعہ عصمت دری و قتل معاملہ کے اہم گواہ طالب حسین

جموں پولس کو جب پتہ چلا کہ جس کیس میں وہ طالب حسین کو گرفتار کرنے آئی ہے اس معاملے میں جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے گرفتاری پر روک لگا دی ہے، تو اس نے ایک نئے معاملہ کو بنیاد بنا کر طالب کو گرفتار کیا۔

طالب حسین کو گرفتار کرنے کے لیے جب ایک پولس ٹیم سامبا سے 250 کلو میٹر کی دوری طے کر کے پلواما کے ترال میں پہنچی تو وہ حیرت زدہ رہ گئی۔ وہ لوگ طالب کی سابقہ بیوی کے ذریعہ درج کرائے گئے گھریلو تشدد اور جہیز جیسے معاملے میں گرفتار کرنے کے لیے سامبا سے چلے تھے لیکن انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ جس وقت وہ سفر کر رہے تھے اس وقت تک جموں و کشمیر ہائی کورٹ کی سری نگر بنچ نے اس معاملے میں طالب کی گرفتاری پر روک کا حکم جاری کر دیا ہے۔ ہائی کورٹ نے یہ حکم ان دو پولس اہلکاروں کی گواہی کی بنیاد پر سنایا تھا جو سپریم کورٹ کی ہدایات کے بعد طالب کی سیکورٹی کے لیے بطور ذاتی سیکورٹی افسر (پی ایس او) تعینات کیے گئے تھے۔ دونوں سیکورٹی افسران نے گواہی دی تھی کہ طالب کی سابقہ بیوی نے خود پر مبینہ حملے کی جو جگہ اور تاریخ بتائی ہے اس دن طالب وہاں سے 200 کلو میٹر دور بنیہال میں تھا اور وہ دونوں اس کے ساتھ ہی موجود تھے۔

پوری حقیقت جاننے کے بعد سامبا سے آئی پولس ٹیم کو اگلے حکم تک کے لیے واپس بلا لیا گیا اور پھر انھیں طالب کو عصمت دری کے معاملے میں گرفتار کرنے کے لیے کہا گیا جسے طالب کی سابقہ بیوی کی بھابھی نے درج کرایا تھا۔ طالب کے وکیل مبین فاروقی نے ’قومی آواز‘ کو اس سلسلے میں بتایا کہ ’’عصمت دری کے معاملے میں ایف آئی آر 31 جولائی کو دوپہر 12.30 بجے درج کرائی گئی اور اس وقت سامبا پولس ٹیم پہلے سے ہی 250 کلو میٹر دور ترال پولس اسٹیشن میں بیٹھی ہوئی تھی۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’یہ کٹھوعہ عصمت دری اور قتل معاملے کے اہم گواہ طالب حسین کو واضح طور پر خوفزدہ کرنے کے لیے جھوٹا معاملہ ہے۔‘‘ فاروقی نے اپنے دعویٰ کو عدالت میں ثابت کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

طالب حسین نے اس سال جنوری میں جب سے آٹھ سالہ بکروال طبقہ کی بچی کی عصمت دری اور قتل کا معاملہ اٹھانا شروع کیا، اس وقت سے ہی وہ نشانے پر ہیں۔ یہ کافی حد تک حسین کی کوششوں کا ہی نتیجہ تھا کہ کٹھوعہ معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا اور معاملے کا ٹرائل ریاست سے باہر پٹھان کوٹ میں منتقل کر دیا گیا۔ فاروقی کا الزام ہے کہ جموں پولس، وکیلوں کے ایک طبقہ اور لیڈروں کے ذریعہ معاملے کے اہم گواہوں کو خوفزدہ کرنے اور انھیں جھوٹے معاملوں میں پھنسانے کی دھمکی دینے کی لگاتار کوششیں ہو رہی ہیں۔ فاروقی کا کہنا ہے کہ طالب حسین کے خلاف بڑی تعداد میں جھوٹے معاملے درج کرائے گئے ہیں جن میں سسر کے قتل کی کوشش، خودکشی کرنے کی کوشش اور گوشت کاٹنے والا چھرا رکھنے جیسا معاملہ شامل ہے۔

جمعہ کو کٹھوعہ معاملہ اٹھانے والے طالب حسین کے خلاف پولس کے ذریعہ عصمت دری اور اسلحہ ایکٹ کے تحت گوشت کاٹنے کا چھرا رکھنے کے معاملے میں فرد جرم داخل کرنے کے بعد جموں کے سامبا کی ایک سیشن عدالت نے انھیں جیل بھیج دیا۔ طالب کے خلاف عصمت دری کا معاملہ اس کی سابقہ بیوی کی بھابھی نے 31 جولائی کو درج کرایا تھا۔ فیملی کے ذریعہ پولس ریمانڈ میں طالب کے ساتھ مار پیٹ کا الزام لگانے کے بعد ان کے خلاف 6 اگست کو پولس حراست میں دیوار سے سر مار کر خودکشی کی کوشش کا بھی ایک معاملہ درج کر لیا گیا ہے۔ خودکشی کی کوشش کے معاملے میں بھی طالب کے خلاف عدالت میں فرد جرم داخل کیا گیا ہے۔

8 اگست کو چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور اندرا بنرجی کی تین رکنی بنچ نے اندرا جے سنگھ اور سنیل فرنانڈیز کے ذریعہ داخل ایک عرضی پر سماعت کی جس میں طالب کے ساتھ پولس حراست میں مار پیٹ کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ ہائی کورٹ نے اس معاملے میں جموں و کشمیر پولس کو جواب دینے کے لیے کہا ہے۔ اس سلسلے میں آئندہ سماعت 21 اگست کو ہوگی۔

کٹھوعہ معاملے میں ملزمین کی نمائندگی کرنے والے جموں کے وکیل اے کے ساہنی نے جموں و کشمیر کے پولس سربراہ سے طالب حسین کے خلاف درج دوسرے معاملوں میں جانچ تیز کرنے کی گزارش کی ہے۔ ساہنی نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ اس سے پہلے جنوری میں کٹھوعہ عصمت دری اور قتل کے معاملے میں مظاہرہ کے دوران طالب ایک پولس اسٹیشن پر حملے میں شامل تھا۔

جولائی میں طالب کے خلاف جہیز سے متعلق مظالم اور گھریلو تشدد کے معاملے میں بھی ان کی بیوی کے وکیل ساہنی نے الزام لگایا تھا کہ ’’طالب حسین کے خلاف ایک اور عصمت دری کا معاملہ ہے۔ اس کی بیوی نے پولس میں شکایت درج کرائی ہے جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ طالب نے اپنے بھائی کے ساتھ سازش تیار کر کے اپنی بیوی کی عصمت دری کرائی تھی۔‘‘ دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ مہینے اے کے ساہنی کے بیٹے اور 8 سالہ بکروال طبقہ سے تعلق رکھنے والی لڑکی کی عصمت دری اور قتل کے اہم ملزم کے وکیل رہے اسیم ساہنی کو جموں و کشمیر حکومت کے ذریعہ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل مقرر کیا گیا تھا، یہ بھی کم معنی خیز نہیں ہے۔

سب سے زیادہ مقبول