کٹھوعہ معاملہ: محبوبہ مفتی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا

سری نگر: جموں وکشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کٹھوعہ عصمت دری و قتل کیس کو سی بی آئی کے حوالے کرنے سے انکار سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

انہوں نے مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ’میں کٹھوعہ کیس کے حوالے سے سپریم کورٹ کے آج کے فیصلے کا خیرمقدم کرتی ہوں۔ یہ فیصلہ ہماری پولس (جموں وکشمیر) کا حوصلہ بلند کرنے کا سبب بنے گا۔ اس فورس نے بے حد پریشانیوں کا سامنا کیا لیکن متاثرہ کنبے کو انصاف دلانے کی اپنی کوششیں جاری رکھیں‘۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پیر کے روز کٹھوعہ کیس کی جانچ سی بی آئی سے کرانے سے انکار کرتے ہوئے کیس کی سماعت کٹھوعہ سے پٹھان کوٹ کی عدالت میں منتقل کرنے کی ہدایت دی۔

چیف جسٹس دیپک مشرا کی صدارت والی بنچ نے اس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے یہ حکم سنایا۔

ضلع کٹھوعہ کے تحصیل ہیرانگر کے رسانہ نامی گاؤں کی رہنے والی آٹھ سالہ کمسن بچی جو کہ گجر بکروال طبقہ سے تعلق رکھتی تھی، کو 10 جنوری کو اُس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ گھوڑوں کو چرانے کے لئے نزدیکی جنگل گئی ہوئی تھی۔ اس کی لاش 17 جنوری کو ہیرا نگر میں جھاڑیوں سے برآمد کی گئی تھی۔ کرائم برانچ پولس نے گذشتہ ہفتے واقعہ کے سبھی 8 ملزمان کے خلاف چالان عدالت میں پیش کیا۔

کرائم برانچ نے اپنی تحقیقات میں کہا ہے کہ آٹھ سالہ بچی کو رسانہ اور اس سے ملحقہ گاؤں کے کچھ افراد نے عصمت ریزی کے بعد قتل کیا۔ تحقیقات کے مطابق متاثرہ بچی کے اغوا، عصمت دری اور سفاکانہ قتل کا مقصد علاقہ میں رہائش پذیر چند گوجر بکروال کنبوں کو ڈرانا دھمکانا اور ہجرت پر مجبور کرانا تھا۔

تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ کمسن بچی کو اغوا کرنے کے بعد ایک مقامی مندر میں قید رکھا گیاتھا جہاں اسے نشہ آور ادویات کھلائی گئیں اور قتل کرنے سے پہلے اسے مسلسل درندگی کا نشانہ بنایا گیا۔

next