کٹھوعہ تنازعہ بڑھنے کے بعد بی جے پی کے سبھی وزراء کا استعفیٰ!

سبھی وزراء نے بی جے پی ریاستی صدر کو استعفیٰ کی پیش کش کی ہے۔ ان کا استعفیٰ قبول کیا جاتا ہے تو بھی ریاستی حکومت پر کوئی خطرہ نہیں ہے کیونکہ اس سے بی جے پی-پی ڈی پی اتحاد پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

By قومی آوازبیورو

کٹھوعہ عصمت دری معاملے نے پی ڈی پی-بی جے پی اتحاد پر جو منفی اثر ڈالا ہے اس کا نیا نظارہ آج اس وقت دیکھنے کو ملا جب جموں و کشمیر میں بی جے پی کے سبھی 8 وزرا نے پارٹی کے ریاستی صدر سَت شرما کو اپنا استعفیٰ سونپ دیا۔ ان وزراء کا استعفیٰ قبول کیا گیا ہے یا نہیں، اس سلسلے میں فی الحال کوئی جانکاری نہیں ملی ہے۔

جموں کے کٹھوعہ عصمت دری اور قتل کے ملزمین کے بچاؤ میں ریلی کرنے والے بی جے پی کے دو وزراء کے استعفیٰ کے بعد بی جے پی کوٹہ کے بقیہ 8 وزراء نے حکومت سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کر کے اس معاملے کو ایک بار پھر موضوعِ بحث بنا دیا ہے۔ چونکہ یہ استعفیٰ نامہ بی جے پی وزراء نے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو نہ دے کر بی جے پی کے ریاستی صدر کو سونپا ہے اس لیے فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ ان کا استعفیٰ نامہ قبول کیا گیا ہے یا نہیں۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس معاملے میں پارٹی کی مرکزی قیادت ہی کوئی حتمی فیصلہ لے گی۔

اس معاملے میں جموں و کشمیر بی جے پی کے ترجمان سنیل سیٹھی سے جب ’قومی آواز‘ نے فون پر بات کی تو انھوں نے بی جے پی وزراء کے ذریعہ استعفیٰ کے پیشکش کی خبروں کی تصدیق نہیں کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’وزیروں کے استعفیٰ کی خبر مجھے بھی ابھی نیوز ایجنسی سے ملی ہے اور آفیشیل طور پر مجھے اس کی کوئی جانکاری نہیں دی گئی ہے۔‘‘

خبر رساں اداروں کے مطابق جموں و کشمیر حکومت میں بی جے پی کوٹہ کے سبھی وزراء نے اپنی پارٹی کے نئے لوگوں کو کابینہ میں شامل کیے جانے کے لیے استعفیٰ دیا ہے۔ گویا کہ یہ صرف کابینہ کی تجدید ہے اور کچھ نہیں۔ اس قدم سے نہ تو حکومت پر کوئی خطرہ ہوگا اور نہ ہی بی جے پی-پی ڈی پی اتحاد کو کوئی نقصان پہنچے گا۔

دوسری طرف سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بی جے پی کا یہ قدم کٹھوعہ عصمت دری معاملے میں پارٹی کی شبیہ کو ہوئے نقصان کا ازالہ کرنے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس قدم سے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی پر بھی دباؤ بنایا جا سکے گا۔