کرناٹک: ٹکٹ تقسیم پر بی جے پی میں گھمسان، پھوٹ پھوٹ کر روئے بی جے پی لیڈر

کرناٹک انتخابات سے متعلق ٹکٹ تقسیم کو لے کر بی جے پی میں زبردست ہنگامہ برپا ہے۔ دھارواڑ میں بی جے پی کارکنان نے پارٹی دفتر میں توڑ پھوڑ اور نعرہ بازی کی۔

کہیں بی جے پی لیڈر پھوٹ پھوٹ کر رو روہے ہیں تو کہیں بی جے پی کارکنان اپنی ہی پارٹی کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں۔ یہ سب کچھ کرناٹک میں ہو رہا ہے جہاں آئندہ مہینے انتخابات ہونے والے ہیں۔ 12 مئی کو ہونے والی ووٹنگ کے لیے انتخابی کمیشن نے منگل کو نوٹیفکیشن جاری کر دیا جس کے بعد نامزدگی شروع ہو گئی۔ اس درمیان خبر موصول ہو رہی ہے کہ ٹکٹ تقسیم کے معاملے پر کرناٹک بی جے پی میں زبردست سر پھٹول مچا ہوا ہے۔ حالات یہ ہیں کہ دھارواڑ میں بی جے پی کارکنان نے پارٹی دفتر پر ہی حملہ کر دیا اور نعرے بازی بھی کی۔

اس سے قبل پیر کی شب بی جے پی امیدواروں کی نئی فہرست میں اپنا نام شامل نہ دیکھ کر ششل نموشی نامی لیڈر پریس کانفرنس میں ہی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ دراصل بی جے پی نے کرناٹک انتخابات کے لیے پیر کے روز 82 امیدواروں کی فہرست جاری کی تھی لیکن اس میں ششل نموشی کا نام نہیں تھا۔ نموشی نے اس بارے میں بات کرنے کے لیے پریس کانفرنس بلائی لیکن اپنی بات کہتے کہتے وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ اس کا ایک ویڈیو بھی سامنے آیا ہے جو تقریباً ایک منٹ کا ہے۔ اس ویڈیو میں ششل کو بعد میں حامیوں نے چپ کرایا۔ اس کے بعد وہ پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے۔

گلبرگہ میں بی جے پی لیڈر ششل نموشی کے حامیوں نے ٹکٹ نہیں ملنے پر خوب ہنگامہ کیا۔ نموشی نے کہا کہ وہ طویل مدت سے پارٹی کی خدمت کر رہے ہیں۔ پارٹی لیڈران نے انھیں ٹکٹ دلانے کی یقین دہانی کرائی تھی، لیکن انھیں ٹکٹ نہیں دیا گیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ٹکٹ کیوں نہیں ملا، اس کی وجہ وہ نہیں جانتے لیکن ٹکٹ نہیں ملنے سے وہ بہت غمزدہ ہیں۔

اس درمیان پتہ چلا ہے کہ بی جے پی امیدوار پدنابھ ریڈی نے انتخاب لڑنے سے انکار کر دیا ہے۔ انھیں بی جے پی نے سروگنا نگر اسمبلی حلقہ سے امیدوار بنایا تھا۔ اس سیٹ سے کرناٹک کے اسٹیٹ پلاننگ وزیر کے جے جارج انتخاب لڑ رہے ہیں۔

بی جے پی نے 224 اراکین والی اسمبلی کے لیے جن 82 امیدواروں کی فہرست جاری کی ہے ان میں جی. سوم شیکھر ریڈی بھی شامل ہیں۔ سوم شیکھر ریڈی کانکنی صنعت کار جی. جناردن ریڈی کے چھوٹے بھائی ہیں۔ اس کے علاوہ اس فہرست میں سابق وزیر مرگیش نیرانی، ہرتالو ہلپّا، ایم پی رینوکاچاریہ، کرشنیّا شیٹی، کے. سبرامنیم نائیڈو اور کمار بنگارپّا کا بھی نام ہے۔ اس سے پہلے بی جے پی نے 8 اپریل کو 72 امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کی تھی۔

کرناٹک بی جے پی کے ترجمان ایس. شانتارام کا اس معاملے میں کہنا ہے کہ ’’70 امیدواروں کی تیسری فہرست 3-2 دنوں میں جاری کی جائے گی کیونکہ ان کی جیت کے امکانات کا تجزیہ کیا جا رہا ہے۔‘‘ انھوں نے امید ظاہر کی کہ تیسری فہرست میں کچھ خواتین کے بھی نام ہوں گے۔ 2013 اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے 8 خاتون امیدواروں کو ٹکٹ دیا تھا جس میں ششی کلا جولے اور نپّانی نے فتح حاصل کی تھی۔

سب سے زیادہ مقبول