کیرانہ انتخاب: اجیت سنگھ کی بے عزتی کا بدلہ لیں گے جاٹ!

الیکشن تبسم حسن نہیں لڑ رہی ہیں بلکہ جاٹ لڑ رہے ہیں اور سوال جاٹوں کی عزت کا ہے۔ اگر جاٹ اب بھی متحد نہ ہوئے تو جاٹوں کی قیادت ختم ہو جائے گی۔

کیرانہ سے 84 کلومیٹر دور مظفر نگر کے قصبہ میرانپور واقع جاٹوں والے محلہ میں حقہ گڑگڑاتے ہوئے کچھ جاٹ طبقہ سے وابستہ افراد سڑک کنارے چارپائی پر بیٹھ کر کیرانہ چناؤ پر تبادلہ خیال میں مشغول ہیں۔ کیرانہ کی بے چینی کو ان کے چہرے پر پڑھا جا سکتا ہے۔ اگرچہ کیرانہ ان کا حلقہ انتخاب نہیں اور نہ ہی وہ وہاں ووٹ ڈال سکتے ہیں، لیکن وہاں کی لمحہ لمحہ کی خبر لے رہے ہیں۔

تبادلہ خیال میں موجود ملو سنگھ (81) اس کی وضاحت پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’ہم نے اگر اب بھی کچھ نہیں کیا تو جاٹوں کی قیادت ختم ہو جائے گی، بی جے پی ہمارے رہنما (چودھری اجیت سنگھ) کا کیرئر تباہ کرنے پر آمادہ ہے۔ ان کا گھر تو چھین ہی لیا گیا اور اب رہی سہی ان کی مقبولیت بھی چھیننے کی کوش میں ہیں۔ ‘‘ ملو سنگھ مزید کہتے ہیں ’’ جینت چودھری (اجیت سنگھ کے صاحبز ادے) ہمارا بچہ ہے، اس میں اپنے دادا (چودھری چرن سنگھ) کی جھلک نظر آتی ہے۔ ‘‘

ملو سنگھ صاف کہتے ہیں کہ الیکشن تبسم حسن نہیں لڑ رہی بلکہ جاٹ لڑ رہے ہیں اور سوال جاٹوں کی عزت کا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) ہماری پارٹی ہے، کسانوں کی بات کرتی ہے جبکہ بی جے پی سرمایہ داروں کی پارٹی ہے۔

کیرانہ انتخابات کا اثر ملک گیر نظر آ رہا ہے، آر ایل ڈی کے ترجمان ابھیشیک چودھری ’قومی آواز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کیرانہ ضمنی انتخاب میں بی جے پی نے اپنے 16 جاٹ ارکان اسمبلی کو اپنی طرف راغب کرنے کے لئے میدان میں اتار دیئے ہیں ، ایسا اس لئے کیوں کہ چودھری اجیت سنگھ کی حمایت میں جاٹ اتر گئے ہیں۔ مظفر نگر کے اجیت راٹھی کہتے ہیں کہ ’’جاٹ بہت جذباتی قوم ہے اور ان کی سمجھ میں آ گیا ہے کہ بی جے پی کی قیادت کو تباہ کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔ ‘‘

فی الوقت آر ایل ڈی کا نہ تو اسمبلی میں کوئی نمائندہ ہے اور نہ ہی پارلیمنٹ میں۔ پارٹی کے واحد منتخب رکن اسمبلی سہیندر رمالا اب بی جے پی میں شامل ہو چکے ہیں۔ اتر پردیش میں حال ہی میں ہوئے راجیہ سبھا الیکشن میں سہیندر رمالا نے کراس ووٹنگ کرتے ہوئے بی جے پی کے امیدوار کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ اس کے بعد اجیت چودھری نے چھپرولی سے رکن اسمبلی سہیندر رمالا کو پارٹی سے باہر کا راستہ دکھا دیا۔ چودھری اجیت سنگھ کی دہلی واقع رہائش گاہ خالی کرانے اور ان کے واحد رکن اسمبلی کو بھی توڑ لینے سے جاٹوں میں سخت ناراضگی پائی جا رہی ہے ۔ آر ایل ڈی کے سابق ایم ایل سی مشتاق چودھری نے ’قومی آواز‘ سے کہا ’’دہلی کے اسی گھر میں جینت سنگھ پیدا ہوئے تھے، اس لئے جاٹوں کے جذبات اس گھر سے وابستہ ہیں۔ کیرانہ میں بی جے پی کو شکست فاش دے کر ہم بی جے پی کو کرارا جواب دیں گے ۔

اس چناؤ میں چودھری اجیت سنگھ حد سے زیادہ محنت کر رہے ہیں۔ 16 مئی بروز بدھ وہ جلال آباد کے آر ایل ڈی رہنما اشرف علی خان کی رہائش پر پہنچے ۔ اورانہوں نے کہاکہ ’’اب میری زندگی کا ایک ہی مقصد ہے، جاٹوں اور مسلمانوں میں پہلے جیسی محبت پیدا کرنا۔ ‘‘

اشرف علی خان کے والد غیور علی خان کیرانہ سے رکن پارلیمنٹ رہ چکے ہیں، وہ اجیت سنگھ کے والد سابق وزیر اعظم چودھری چرن سنگھ کے دوست کے طور پر جانے جاتے تھے۔ مظفر نگر فساد کے بعد کیرانہ میں جاٹوں اور مسلمانوں میں فاصلہ پیدا ہو گیا تھا۔ اجیت سنگھ گزشتہ تین مہینے سے فساد متاثرہ علاقوں میں گھوم رہے ہیں اور دونوں طبقوں کو قریب لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

کیرانہ میں پہلے جینت چودھری کو امیدوار بنائے جانے کی چہ میگوئیاں تھیں لیکن بعد میں سماجوادی پارٹی کے رکن اسمبلی ناحید حسن کی والدہ تبسم حسن کو آر ایل ڈی کے نشان پر میدان میں اترنے پر اتفاق رائے ہوا۔

سہارنپور کے ضلع پنچایت صدر رہ چکے سماجوادی پارٹی کے رہنما ارشاد چودھری کہتے ہیں کہ تبسم حسن کو امیدوار بنانے کا فیصلہ ایک دانشمندانہ فیصلہ ہے جو سیکولر جماعتوں کے بہترین تال میل سے ممکن ہو سکا۔

کیرانہ لوک سبھا میں جاٹوں کی تعداد تقریباً ڈیڑھ لاکھ ہے ، جبکہ ووٹروں کی تعداد 14 لاکھ ہے۔ ان میں 5 لاکھ صرف مسلمان ووٹر ہیں اس کے باوجود توجہ کا مرکز جاٹ بنے ہوئے ہیں کیوں کہ وہ فیصلہ کن صورت حال میں ہیں۔ 2013 کے مظفر نگر فساد کے دوران سب سبے زیادہ متاثرہ دو گاؤں لانک، بہاوڑی اور لساڑھ اسی علاقے میں آتے ہیں۔ بی جے پی کیرانہ انتخابات کے نتائج کی اہمیت کو بخوبی سمجھتی ہے اسی لئے جاٹ اکثرتی علاقوں میں 28 وزراء سرگرم عمل ہیں اور گھر گھر جا کر ووٹ مانگ رہے ہیں۔

لیکن بی جے پی کے جاٹ رہنما بھی جاٹوں کو مائل نہیں کر پا رہے ہیں۔ یہاں آر ایل ڈی کا ایک پوسٹر بھی زیر بحث بنا ہوا ہے جس پر لکھا ہوا ہے ’’یہاں جناح نہیں ، گنّا چلے گا۔‘‘ آر ایل ڈی کے ترجمان ابھیشیک چودھری کہتے ہیں ’’بی جے پی کے پاس اس چناؤ میں کوئی مدانہیں ہے اور اس کے رہنما جھوٹ کے پہاڑ کھڑے کر رہے ہیں۔ گنے کی ادائیگی کے سلسلہ میں لال قلعہ سے جھوٹ بولا گیا جبکہ یہاں کا گنا پیدا کرنے والا کسان پریشان حال ہے۔ کسانوں کو گنا فروخت کرنے کے لئے48- 48 گھنٹے قطار میں کھڑا ہونا پڑتا ہے اور پھر اس کا پیسہ بھی نہیں مل پاتا۔ ‘‘ ابھیشیک کہتےہیں ’’اس سب کے باوجود بی جے پی کی وزیر مینکا گاندھی کہہ رہی ہیں کہ گنا پیدا ہی کیوں کر تےہو ! اس کا بی جے پی کے پاس کوئی حل نہیں ہے۔ بی جے پی جناح جیسے مدے وہ لوگوں کے ذہنوں کو منتشر کرنے کے ارادے سےاٹھاتی ہے۔ ‘‘

جاٹ اس چناؤ کو کتنی سنجیدگی سے لے رہے ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آر ایل ڈی کے سربراہ اجیت سنگھ آپسی نااتفاقیوں کو بھلا کر بھارتیہ کسان یونین (بی کے یو) کے بانی چودھری مہندر سنگھ ٹکیت کی برسی پر پہنچے تو ان کے خاندان نے انہیں سر آنکھوں پر بیٹھا لیا۔ آنجہانی مہندر سنگھ ٹکیت کے صاحبزادے نریش ٹکیت نے اجیت سنگھ کو اپنا نگراں قرار دیا۔ چودھری اجیت سنگھ نے ٹکیت خاندان کے ساتھ گھنٹوں بات کی اور کیرانہ انتخابات کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال بھی ہوا۔

سب سے زیادہ مقبول