جے این یو میں ABVP لیڈر سوربھ شرما کی قیادت میں ہوئی توڑ پھوڑ: انتخابی کمیٹی رکن

جے این یو طلبا یونین انتخابی کمیٹی رکن کا کہنا ہے کہ اے بی وی پی کے لوگ زبردستی اندر گھس آئے اور ان کے جارحانہ انداز کو دیکھ کر سبھی لوگ بری طرح ڈر گئے تھے، کئی لڑکیاں تو رونے بھی لگی تھیں۔

جے این یو طلبا یونین انتخاب کے بعد ووٹوں کی گنتی کے دوران جمعہ کی دیر رات ہوئی توڑ پھوڑ کے پیچھے اے بی وی پی کا ہاتھ سامنے آیا ہے۔ جے این یو انتخابی کمیٹی کی ایک رکن نے ’قومی آواز‘ سے بات چیت کے دوران بتایا کہ توڑ پھوڑ کرنے والی بھیڑ کی قیادت اے بی وی پی لیڈر سوربھ شرما کر رہا تھا۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انتخابی کمیٹی کی رکن نے بتایا کہ ہفتہ کی صبح سوا تین بجے تک ووٹوں کی گنتی ٹھیک طرح چل رہی تھی۔ لیکن تبھی 3.30 سے 3.40 کے درمیان ایک درجن سے زیادہ اے بی وی پی کے کارکنان کاؤنٹنگ روم میں جبراً گھس آئے اور بیلٹ باکس پر قبضہ کرنے کی کوشش کرنے لگے۔

انتخابی کمیٹی کی رکن نے کہا ’’ان لوگوں نے انتخابی کمیٹی کے اراکین کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کے ساتھ ہی ہاتھا پائی کی۔ سوربھ شرما کی قیادت میں جب اے بی وی پی کارکنان کا گروپ کاؤنٹنگ روم میں جبراً گھسا تب ہم انتخابی کمیٹی کے رکن اور مختلف طلبا تنظیموں کے نمائندہ ایس آئی ایس محکمہ کی بلڈنگ کی دوسری منزل پر تھے۔ وہ لوگ گالیاں دے رہے تھے اور نعرے لگا رہے تھے... ہم کاؤنٹنگ نہیں کرنے دیں گے، ہمارے بغیر کاؤنٹنگ کر کے دکھاؤ۔‘‘

انھوں نے اس معاملے میں جے این یو انتظامیہ سے کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم لوگ اتنا ڈر گئے تھے کہ ہم نے اندر سے دروازہ بند کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ زبردستی اندر گھس آئے۔ ان کے جارحانہ انداز کو دیکھ کر ہم بری طرح ڈر گئے تھے، خاص کر لڑکیاں۔ ہم اپنی سیکورٹی کو لے کر ڈرے ہوئے تھے اور کئی لڑکیاں رونے لگی تھیں۔ انھوں نے نہ صرف قانون توڑا بلکہ تشدد بھی کیا۔ انھوں نے ایس آئی ایس بھون کے اہم دروازے کا شیشہ توڑ دیا، جس کی دوسری منزل پر کاؤنٹنگ چل رہی تھی اور ہم لوگوں کو کاؤنٹنگ کے عمل کو معطل کرنے کے لیے مجبور کر دیا۔‘‘

یہ پوچھنے پر کہ کیا سیکورٹی عملوں نے اے بی وی پی کارکنان کو روکنے کی کوشش نہیں کی، اس پر انتخابی کمیٹی کی رکن نے کہا ’’وہ لوگ بہت پرتشدد تھے اور تعداد میں سیکورٹی عملہ سے بہت زیادہ تھے۔ اس لیے وہ آسانی سے ان پر حاوی ہونے میں کامیاب ہو گئے۔‘‘

واقعہ کی پوری داستان سناتے ہوئے انتخابی کمیٹی رکن نے کہا کہ سب سے پہلے ایک نامعلوم اے بی وی پی رکن نے ہم پر کاؤنٹنگ شروع ہونے کی جانکاری نہیں دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کاؤنٹنگ روم میں گھسنے کی کوشش کی۔ انھوں نے کہا ’’حالانکہ یہ سچ نہیں ہے۔ یہ اے بی وی پی کے ذریعہ پھیلایا جا رہا سفید جھوٹ ہے۔ قوانین کے مطابق کاؤنٹنگ کا عمل شروع کرنے کے لیے ہم نے طلبا تنظیموں کو اپنے نمائندہ اندر بھیجنے کے لیے تین بار مائک سے اعلان کیا۔ اس کے باوجود اے بی وی پی نے ایک بھی نمائندہ کو نہیں بھیجا۔ اس کے تقریباً ایک گھنٹے کے بعد جب ہم نے بیلٹ باکس کھولا تبھی سوربھ شرما کی قیادت میں ایک گروپ کے ساتھ اے بی وی پی کارکنان پہنچ گئے۔ چونکہ تب تک ہم بیلٹ باکس کھول چکے تھے، اس لیے ہم نے انھیں اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔‘‘

انتخابی کمیٹی رکن نے سوال کرتے ہوئے کہا ’’قوانین کے مطابق انتخابی کمیٹی کے ذریعہ بیلٹ باکس کھولے جانے کے وقت کاؤنٹنگ روم میں طلبا تنظیموں کے کم از کم دو نمائندہ موجود ہونے چاہئیں۔ اور کل جب ہم نے باکس کھولا تو وہاں پر الگ الگ طلبا تنظیموں کے 14 نمائندہ موجود تھے جو سبھی ہماری اطلاع پر پہنچے تھے۔ ایسے میں اے بی وی پی کیسے ہم پر جانبداری کا الزام عائد کر سکتی ہے؟‘‘ انھوں نے کہا کہ وہاں پر دو بڑے اسپیکر لگائے گئے تھے اور ان کی آواز بھی بہت واضح ہے۔ اے بی وی پی حامی اس بات کا بھی دعویٰ نہیں کر سکتے کہ مائک پر کیے گئے اعلان کو سنا نہیں جا سکتا تھا۔ پورے واقعہ کو جے این یو کو بدنام کرنے کی شرمناک کوشش بتاتے ہوئے انتخابی کمیٹی نے بتایا کہ کاؤنٹنگ رکنے کے بعد اے بی وی پی کارکنان وہاں سے غائب ہو گئے۔

انتخابی کمیٹی رکن نے کہا کہ اس خوفناک واقعہ کے بعد آگے کی کارروائی طے کرنے کے لیے ایک کل جماعتی میٹنگ بلائی گئی تھی۔ اس میٹنگ میں یہ فیصلہ لیا گیا کہ پہلے اے بی وی پی تحریری طور پر واقعہ کے لیے معافی مانگے تبھی کاؤنٹنگ پھر سے شروع ہوگی۔ انھوں نے کاؤنٹنگ کا بہت زیادہ حصہ باقی ہونے کی بات کہتے ہوئے کہا کہ جتنی کاؤنٹنگ باقی ہے اس حساب سے آخری نتیجہ کا اعلان کرنے میں کم از کم 24 گھنٹے کا وقت لگے گا۔

سب سے زیادہ مقبول